بی جے پی کرناٹک میں مزید دو نائب وزرائے اعلیٰ بنائے گی؟

Source: S.O. News Service | Published on 8th September 2019, 12:18 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،8؍ ستمبر(ایس او نیوز) بی جے پی کی لیڈر شپ توقع ہے کہ کرناٹک میں حالیہ دنوں 3/ وزرائے اعلیٰ کی نامزدگی کے ساتھ مزید 2/ نائب وزری اعلیٰ مقرر کرے گی۔ توقع ہے نئے وزرائے اعلیٰ دو اہم ذاتوں سے ہوں گے۔ نئے وزرائے اعلیٰ میں ایک درج فہرست ذات اور ایک کروبا طبقہ سے ہوں گے۔ ایڈی یورپا کی کابینہ میں موجود تین نائب وزرائے اعلیٰ میں ایک درجہ فہرست ذات کے (گووند کارجول) لنگایت طبقہ سے (لکشمن ساودی) اور وکلیگا طبقہ سے (سی این اشوتھ نارائن) ہیں۔ ذرائع نے کہا کہ اس اقدام کے دو مقاصد ہیں،ایک جانچ کرنا اور بڑی ذاتوں کو خوش رکھ کر کرناٹک میں پارٹی کا ووٹ بینک قائم کرنا ہے۔ پانچ طبقے کرناٹک کی آبادی کا تقریباً 70/ فیصد حصہ ہیں۔ دوسرا بی جے پی ہائی کمان چاہتا ہے کہ پانچوں کے درمیان مقابلے ہو جن میں سے ایک ایڈی یورپا کا جانشین بنے۔کرناٹک بی جے پی کو لنگایتوں کی پارٹی کے طو رپر دیکھا جاتا ہے۔ وکلیگا طبقہ کی اکثریت کو جے ڈی ایس سے قریب اور آہندہ کو کانگریس کا ووٹ بینک سمجھاجاتا ہے۔ بی جے پی لیڈر شپ نے محسوس کیا ہے کہ اسے لنگایتوں کی پارٹی کا لیبل ہٹانا ہوگا۔ یہ یقینی بنانے کے لئے کہ وہ اقتدار میں رہے۔ پارٹی دیگر طبقوں تک پہنچ رہی ہے۔بی جے پی کے ایک سینئر کارکن نے کہا ”اس نئے تجربہ کے ساتھ بی جے پی کو ایک بڑا سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی امید ہے۔“ گو بی جے پی نے ریاست میں دو مرتبہ حکومت قائم کی ہے۔ وہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی۔2008ء میں اس نے اکثریت کے لئے درکار سیٹوں سے4/ کم 108/ سیٹیں حاصل کیں۔ 2018ء میں اکثریتی ووٹروں کی پسند کے باوجود اسی نے 104/ سیٹیں حاصل کیں۔نا اہل قرار دئیے گئے 17/ اراکین اسمبلی کے تعلق سے فیصلہ ہونے تک نئے نائب وزرائے اعلیٰ کی تقرری نہیں ہوسکے گی۔ عدالت اگر نا اہلیت کو کالعدم قرار دیتی ہے تو پارٹی رمیش جارکی ہولی (ایس ٹی) کو انعام دے سکتی ہے، جنہوں نے کانگریس۔جے ڈی ایس مخلوط حکومت گرانے میں مدد کی۔اگر سپریم کورٹ نا اہلیت کو جائز قرار دیتی ہے تو بی سری راملو کو عہدے پر ترقی دی جائے گی۔ جہاں تک کروبا طبقہ کو نمائندگی دینے کا معاملہ ہے، پارٹی کو ابھی ناموں کو قطیعت دینا ہے۔ہوسکتا ہے کہ یہ عہدہ کے ایس ایشورپا کو ملے۔

ایک نظر اس پر بھی

مسلمانوں، اور کمزور طبقات کو ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم کرنے کی کوشش، قوانین شہریت پر ممتاز دانشور و صحافی ظہیر علی خان کی تنقید؛ شاہین باغ گلبرگہ کے احتجاجی جلسہ میں ہزاروں مرد و خواتین کی شرکت

ریاست آسام میں 18لاکھ لوگوں کو فہرست رائے دہندگان سے باہر کردیا گیا ہے ان میں سے 4لاکھ 10ہزار مسلمان ہیں جب کہ مابقی 15لاکھ ہندو بھائی ہیں۔ لیکن ان 15لاکھ ہندوؤں میں سے تمام کے تمام اقوام درج فہرست، قبائل درج فہرست اور نہایت غریب قسم کے ہندو لوگ ہیں۔  18لاکھ کی فہرست میں اعلیٰ ذات کے ...

 آئی اے ایس آفیسر منیش موڈگل کا تبادلہ

آئی اے ایس عہدیدار منیش موڈگل جنہیں مرکزی حکومت نے گزشتہ ہفتہ ای گورننس کے لیے قومی ایوارڈ عطا کیا تھا، کا کمشنر سروے ، سیٹلمنٹ اور لینڈ ریکارڈس کے عہدہ سے تبادلہ کردیا گیا ۔ منیش کو اب محکمہ پر سونل اور انتظامی اصلاحات کا سکریٹری مقرر کیا گیا۔ کے وی تری لوک چندر جو پہلے ...

کرناٹک کے چن پٹن میں سی اے اے، این آر سی کے خلاف زبردست احتجاج، سابق وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی، سی ایم ابراہیم کے علاوہ جے این یو کی طالبہ امولیا کی شرکت

چن پٹن کے شہریوں کی جانب سے 14/ فروری بروز جمعہ دوپہر 3.30/ بجے بمقام پیٹا اسکول گراؤنڈ چن پٹن شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) این آر سی اور این پی آر کے خلاف احتجاجی جلسہ منعقد کیا گیا۔