مہاراشٹر: گورنر سے ملاقات کے بعد بی جے پی لیڈر کی وضاحت، قانونی پہلوؤں پر بحث، اعلیٰ قیادت جلد فیصلہ کرے گی

Source: S.O. News Service | Published on 7th November 2019, 11:43 PM | ملکی خبریں |

ممبئی،7نومبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) مہاراشٹر میں حکومت تشکیل کو لے کر جاری رسہ کشی کے درمیان بی جے پی لیڈروں نے گورنرہاؤس پہنچ کر گورنر بھگت سنگھ کوشیاری سے ملاقات کی۔گورنر سے ملاقات کے بعد بی جے پی لیڈروں نے دعوی کیا کہ ریاست میں اتحاد کی ہی حکومت بنے گی۔بی جے پی کے نمائندے ٹیم میں شامل ریاستی صدرچندرکانت پاٹل نے کہا کہ گورنر سے مل کر انہوں نے تمام قانونی اور سیاسی پہلوؤں پر بحث کی ہے۔انہوں نے کہا کہ پارٹی قیادت جلد مہاراشٹر میں حکومت بنانے پرفیصلہ لے گی۔بی جے پی ریاستی صدر چندرکانت پاٹل اور سینئر لیڈر سدھیر منگٹیوار کی قیادت میں نمائندہ ٹیم گورنر سے ملی۔گورنر سے ملاقات کے بعد چندرکانت پاٹل نے صحافیوں سے بات چیت میں کہاکہ ہم نے گورنر کو حکومت بنانے میں ہو رہی تاخیر کے بارے میں آگاہ کیا ہے،اب اس بارے میں اعلی قیادت آگے کی کارروائی پر فیصلہ کرے گی۔ اس سے پہلے مرکزی وزیر اور بی جے پی کے سینئر لیڈر نتن گڈکری نے بھی صاف کیا کہ صوبے میں اتحاد کی ہی حکومت بنے گی۔انہوں نے کہا کہ شیوسینا کے ساتھ بات چیت ہو رہی ہے اور جلد ہی فیصلہ ہو جائے گا۔

ایک نظر اس پر بھی

سپریم کورٹ کے وکیل نے رام مندر ٹرسٹ کو لکھاخط، بابری مسجد کے پاس قبرستان کی زمین چھوڑ دی جائے

سپریم کورٹ کے ایک سینئر وکیل نے ایودھیا میں مسلمانوں کے ایک گروپ کی جانب سے رام مندر ٹرسٹ کو خط لکھا ہے اور کہا ہے کہ منہدم کی گئی بابری مسجد کے قریب کی پانچ ایکڑ زمین کو ’سناتن دھرم‘کے لیے چھوڑ دی جائے کیونکہ وہاں پر ایک قبرستان ہے۔

آئی آئی ایم سی: بڑھتی فیس کے خلاف تین ماہ سے جاری احتجاج بھوک ہڑتال میں تبدیل

ایشاء میں سرفہرست عوامی ذرائع ابلاغ کے ادارے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونکیشن (آئی آئی ایم سی) نئی دہلی کے طلبہ نے ہر سال دس فیصد کے اضافے سے بڑھنے والی فیس کے خلاف اپنے مطالبات کے سلسلے میں منگل کے روز سے بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔

بند کمرے میں 70 کالم نویسوں سے موہن بھاگوت کی ملاقات

آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے 18 فروری کو تقریباً 70 کالم نویسوں سے بند کمرے میں ملاقات کی۔ بتایا جاتا ہے کہ انھوں نے میٹنگ کے لیے مختلف زبانوں میں لکھنے والے کالم نویسوں کو مدعو کیا تھا تاکہ وہ اپنی تحریروں میں آر ایس ایس کے نظریات اور پیغامات کو مثبت طریقے سے پیش کر سکیں۔