اپنے امیدوار کو بے وجہ بڑھا چڑھا کر پیش کر رہی ہے بی جے پی: ملکا ارجن کھڑگے

Source: S.O. News Service | By Jafar Sadique Nooruddin | Published on 21st April 2019, 11:19 PM | ریاستی خبریں |

گلبرگہ: 21 /اپریل(ایس اونیوز /آئی این ایس انڈیا)اپوزیشن لیڈر اور کانگریس کے موجودہ ایم پی ملکا ارجن کھڑگے نے اتوار کو یقین ظاہر کیا کہ وہ الیکشن جیت جائیں گے۔انہوں نے بی جے پی پر الزام لگایا کہ وہ محفوظ گلبرگہ پارلیمانی سیٹ سے اپنے امیدوار امیش جادھو کو بے وجہ بڑھا چڑھا کر پیش کر رہی ہے۔کھڑگے نے کہا کہ بی جے پی جادھو کے گلبرگہ ریزرو سیٹ جیتنے کو لے کر غلط افواہ پھیلا رہی ہے۔کھڑگے واڈی میں ایک صوفی مذہبی رہنما کے گھر پر دوپہر کے کھانے کے لئے رکے۔کھڑگے نے کہا کہ مبینہ پیسہ کے استعمال کے باوجود وہ انتخابات جیتیں گے کیونکہ لوگ انہیں گزشتہ 50 برسوں سے جاننے کے ساتھ ساتھ ان کی طرف سے ابھی تک کرائے گئے ترقیاتی کاموں کے بارے میں بھی جانتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انتخابات بالکل بھی مشکل نہیں ہے،یہ ہوا آر ایس ایس اور بی جے پی رہنماؤں کی طرف پھیلائی ہوتی ہے،میں الیکشن جیتنے جا رہا ہوں،لوگ مجھے گزشتہ 50 سال سے جانتے ہیں،وہ میری طرف سے کرائے گئے ترقیاتی کام کے بارے میں جانتے ہیں چاہے وہ مرکزی یونیورسٹی، ای ایس آئی ہسپتال، ڈینٹل اور میڈیکل کالج یا مہارت کی ترقی مرکز قائم کرنے کو لے کر ہو تو میرے خلاف اس طرح ہوا نہیں چلے گی۔کانگریس کے 77 سالہ رہنما 12 ویں بار انتخابی میدان میں ہیں۔کھڑگے کے اہم حریف سابق کانگریسی ممبر اسمبلی جادھو ہیں جو حال میں بی جے پی میں شامل ہوئے تھے۔یہ پوچھے جانے پر کہ بی جے پی اور آر ایس ایس نے ایسی ہوا کیوں پھیلائی ؟ کھڑگے نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی صدر امت شاہ کو علاقے میں ان کی کارکردگی کو لے کر خوف ہے۔کھڑگے نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ مللکیاہ گٹیدار اور جادھو سمیت تین دیگر رہنماؤں کے بی جے پی میں شامل ہونے کا ان کے انتخابی امکانات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ وہ الیکشن پارٹی کے نظریات کی بنیاد پر لڑ رہے ہیں جو وزیر اعظم نریندر مودی کی فاشزم اور آمریت حکومت کی مخالفت کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کا فلسفہ قبول نہیں کریں گے جو آئین نہیں بلکہ منواسمرتی میں یقین کرتا ہے جو کہ ملک کے لئے خطرناک ہے،علاقے میں اپنے بیٹے پرینک کھڑگے کی حوصلہ افزائی کرنے کے الزامات پر کھڑگے نے کہا کہ کانگریس کے رہنمااوراعلیٰ کمان ان کے بیٹے کو سیاست میں لائے اور میڈیا اور اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے یہ کہنا غیر مناسب ہوگا کہ وہ خاندانی سیاست کر رہے ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

باغی اراکین اسمبلی ایوان کی کارروائی میں حاضر ہونے کے پابند نہیں:سپریم کورٹ عدالت کے فیصلہ سے مخلوط حکومت کو جھٹکا -کانگریس عدالت سے دوبارہ رجوع کرے گی

کرناٹک کے باغی اراکین اسمبلی کے استعفوں سے متعلق سپریم کورٹ نے آج جو فیصلہ سنایا ہے وہ ”آڑی دیوار پر چراغ رکھنے“ کے مصداق ہے- کیونکہ اس سے نہ کرناٹک کا سیاسی بحران ختم ہوگا اورنہ ہی مخلوط حکومت کو بچانے میں کچھ مدد ملے گی-