ملک میں بی جے پی کی لہر اور جال بالکل نہیں ہے مودی انتظامیہ کارپورٹ کارڈ فیل ہوگیا : دنیش گنڈو راؤ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 21st April 2019, 11:37 AM | ریاستی خبریں |

ہبلی،21؍ اپریل (ایس او  نیوز ) ملک کے کسی بھی علاقہ میں وزیر اعظم نریندر مودی کی کوئی لہر بالکل نہیں ہے ۔مودی لہر کا جھانسہ دے کر عوام کو جال میں پھانسنے کی کوشش بی جے پی کر رہی ہے ۔یہ باتیں کے پی سی سی کے صدر دنیش گنڈو راؤ نے کہی ہیں ۔آ ج ایک اخباری کانفرنس میں انہوں نے کہاکہ پانچ سال تک اقتدار پر رہے نریندر مودی کے انتظامیہ کے نتائج کا رپورٹ کارڈ فیل ہوگیا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ وہ اصل مسائل پر گفتگو نہیں کر رہے ہیں۔آج دفعہ 379ہٹانے کی بات کرنے والے مودی نے اپنے اقتدار کے پانچ برسوں میں کیا کیا ہے۔ملک بھر میں بی جے پی کو مکمل طور پر ہزیمت کا سامنا ہے ،اس بات کا اشارہ حال ہی میں پہلے لوک سبھا انتخابات کے پہلے او ردوسرے مرحلہ کی پولنگ سے مل گیا ہے ۔مودی کی لہر بھی نہیں اور بی جے پی کے جھانسہ والا جال بھی نہیں ہے ۔بی جے پی کے حق میں ووٹ نہ ڈالنے والے ملک کے دشمن ہیں ۔یہ بیان دینے والے بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ سے عوام سخت برہم ہیں،انتخابات میں انہیں اچھا سبق سکھائیں گے۔ ملک میں غیر بی جے پی حکومت کاآنا تقریباً طے ہے ۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں ہم 16سیٹوں پر اور جے ڈی ایس 4یا 5سیٹوں پر جیت درج کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ لنگایت دھرم کا معاملہ اور کانگریس پارٹی کے درمیا ن کوئی لین دین نہیں ہے ،لنگایت دھرم سے کانگریس کا کوئی تعلق نہیں ہے،دھرم میں ٹوٹ پھوٹ ڈالنے کی عادت ہماری نہیں ہے ۔ہماری پارٹی تمام دھرموں کی نمائندگی کرنے والی پارٹی ہے۔رکن پارلیمان رہتے ہوئے پرہلاد جوشی نے آخر اب تک کیا کیا ہے ۔اشتعال انگیز بیانات دیتے ہوئے پُرامن معاشرہ کو آگ میں جھلسانے کا کا م وہ اب تک کرتے رہے ہیں ۔پرہلاد جوشی کے حق میں ووٹ نہ ڈال کر اس مرتبہ کانگریس کے ونئے کلکرنی کو جیت سے ہمکنا ر کریں ،تاکہ یہاں ترقیاتی کام کئے جاسکیں ۔اس موقع پر رکن اسمبلی پرساد ابیا ،ہبلی دھاڑ وار مہا نگرپالیکے کے کانگریس صدر الطاف ہلور ،انیل کمار پاٹل ،نویر ملا ویگر مقامی قائدین شریک رہے ۔ 

ایک نظر اس پر بھی

باغی اراکین اسمبلی ایوان کی کارروائی میں حاضر ہونے کے پابند نہیں:سپریم کورٹ عدالت کے فیصلہ سے مخلوط حکومت کو جھٹکا -کانگریس عدالت سے دوبارہ رجوع کرے گی

کرناٹک کے باغی اراکین اسمبلی کے استعفوں سے متعلق سپریم کورٹ نے آج جو فیصلہ سنایا ہے وہ ”آڑی دیوار پر چراغ رکھنے“ کے مصداق ہے- کیونکہ اس سے نہ کرناٹک کا سیاسی بحران ختم ہوگا اورنہ ہی مخلوط حکومت کو بچانے میں کچھ مدد ملے گی-