'کرناٹکا مذہبی مقامات تحفظ قانون' ۔ اسمبلی نے کیا منظور

Source: S.O. News Service | Published on 22nd September 2021, 11:53 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو، 22؍ ستمبر (ایس او نیوز)ریاست کے عوامی مقامات پر غیر قانونی طور پر تعمیر شدہ تمام مذہبی مقامات کے تحفظ کے لئے قانون کا مسودہ ریاستی اسمبلی نے منظور کیا ۔

عوامی جگہوں پر تعمیر شدہ غیر قانونی مذہبی مقامات منہدم کرنے کے لئے دی گئی سپریم کورٹ کی ہدایت کے پس منظر میں میسور کے ننجنگوڈو میں ایک قدیم مندر ڈھا دیا گیا تھا ۔ جس کے بعد ہندو تنظیموں کی جانب سے سخت احتجاج اور بی جے پی حکومت کے خلاف ماحول گرم کیا جانے لگا ۔ 

اسی کو دیکھتے ہوئے بگڑتی صورتحال پر قابو پانے کے مقصد سے حکومت نے فوری اقدام کیا اور مذہبی مقامات تحفظ قانون - 21 کا مسودہ اسمبلی سیشن میں پیش کیا جسے بحث کے بعد منظوری دی گئی ۔

اس موقع پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے حزب اختلاف کے لیڈر سدارامیا نے کہا کہ ننجنگوڈو میں مندر کا انہدام حکومت کے علم میں لائے بغیرکیا گیا ہو ایسا نہیں ہوسکتا ۔ سب کچھ حکومت کو معلوم تھا ۔ انہوں نے پوچھا کہ سپریم کورٹ کی ہدایت 12 سال پہلے آئی تھی ، اس پس منظر میں اس سے قبل جن مذہبی مقامات کو توڑا گیا ہے اس کا انجام اب کیا ہوگا؟

سدارامیا نے کہا کہ بی جے پی حکومت نے مندر کو منہدم کیا ہے اور اب وہ تحفظ کی بات کر رہی ہے ۔ ہندو مہا سبھا اور ہندو جاگرن ویدیکے کے دباو کے آگے جھک کر یہ قانون کا مسودہ پیش کیا گیا ہے ۔ اس میں کہا گیا ہے کہ جن افسران نے نیک نیتی کے ساتھ مذہبی عمارت منہدم کی ہے ان کے خلاف کارروائی نہیں ہوگی ۔ یہ شق درست نہیں ہے ۔  کیا مندر توڑنے میں نیک نیتی ممکن ہوسکتی ہے ۔ اس لئے اس شق کو ہٹا دینا چاہیے۔

جے ڈی ایس کے بنڈیپا کاشیمپور نے کہا کہ " سپریم کورٹ کی ہدایت کو کئی سال بیت چکے ہیں ۔ اب صرف پبلسٹی کے لئے بی جے پی حکومت یہ قانون لارہی ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس سے قبل جتنے مذہبی مقامات ڈھائے گئے ہیں ان کی از سر نو تعمیر کی جانی چاہیے ۔"

کانگریسی رکن اسمبلی یو ٹی قادر نے کہا کہ ہم پہلے سے پڑھتے آ رہے ہیں کہ " باہر سے آنے والے غیر ملکیوں نے مندر اور عبادت گاہوں کو منہدم کیا تھا ۔ بی جے پی حکومت نے مندر منہدم کیا ہے ، یہ بات تاریخ کا حصہ بنی رہے ۔"  یو ٹی قادر کی اس بات پر بی جے پی اور کانگریسی اراکین کے درمیان زبانی جھڑپ شروع ہوگئی ۔

بحث کا جواب دیتے ہوئے وزیر برائے قانون و پارلیمنٹری ایفیئرس جے سی مادھو سوامی نے کہا کہ " سپریم کورٹ کے حکم پر عمل پیرائی کے لئے پرجوش افسران کی وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا ہے ۔ تمہارے دور اقتدار میں بھی بہت سے مندروں کو توڑا گیا ہے ، کیا اس کے لئے تم لوگوں کو ذمہ دار قرار دیا جا سکتا ہے؟"

انہوں نے کہا یہ مسودہ قانون کے دائرے میں آنے والے تمام غیر قانونی عبادت گاہوں کو تحفظ  فراہم کرے گا ۔ اب اس کے بعد غیر قانونی طور پر مذہبی مقام تعمیر کرنے کی اجازت نہیں رہے گی ۔

ایک نظر اس پر بھی

کرناٹکا کے وزیرا علیٰ کے عمل کا ردعمل والے غیر ذمہ دارانہ بیان کےخلاف ریاست بھر میں احتجاج : بنگلور میں منعقدہ احتجاجی مظاہرے میں وزیراعلیٰ اورہوم منسٹر کو دستور کی یاد دھانی کرائی گئی

کرناٹک کے وزیر اعلیٰ بسوراج بومائی کے عمل کا ردعمل والے غیر ذمہ دارانہ بیان کے خلاف بنگلور کے میسور بینک سرکل پر احتجاجی دھرنا دیتے ہوئے مظاہرہ کیا گیا تو وہیں مختلف اضلاع میں کمشنروں کو میمورنڈم دیتےہوئے وزیر اعلیٰ کو اپنا بیان واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔

مسلمانوں میں نکاح معاہدہ ہے نہ کہ ہندو شادی کی طرح رسم، طلاق کے معاملے پرکرناٹک ہائی کورٹ کااہم تبصرہ

کرناٹک ہائی کورٹ نے اہم تبصرہ کرتے ہوئے کہاہے کہ مسلمانوں کے یہاں نکاح ایک معاہدہ ہے جس کے کئی معنی ہیں ، یہ ہندو شادی کی طرح ایک رسم نہیں ہے اور اس کے تحلیل ہونے سے پیدا ہونے والے حقوق اور ذمہ داریوں سے دور نہیں کیا جاسکتا۔

کرناٹک سے روزانہ 2100کلو بیف گوا کو سپلائی ہوتاہے : وزیر اعلیٰ پرمود ساونت

بی جے پی کی اقتدار والی ریاست کرناٹک سے روزانہ 2000کلوگرام سے زائد جانور اور بھینس کا گوشت (بیف)گوا کو رفت ہونےکی جانکاری بی جے پی اقتدار والی ریاست گوا کے وزیرا علیٰ پرمود ساونت نے دی۔ وہ گوا ودھان سبھا کو تحریری جواب دیتےہوئے اس بات کی جانکاری دی ۔