بہار میں مہاگٹھ بندھن حکومت کی تشکیل کل، نتیش-تیجسوی دونوں کی ہوگی حلف برداری

Source: S.O. News Service | Published on 9th August 2022, 10:43 PM | ملکی خبریں |

پٹنہ،9؍اگست (ایس او نیوز؍ایجنسی) بہار میں سیاسی ہلچل اپنے عروج پر ہے۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے این ڈی اے سے اتحاد توڑ کر آر جے ڈی کے ساتھ ہاتھ ملا لیا ہے۔ انھوں نے گورنر پھاگو چوہان سے ملاقات کر 164 اراکین اسمبلی کی حمایت پر مبنی خط پیش کر دیا ہے اور حکومت سازی کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ عہدہ سے اپنا استعفیٰ انھوں نے منگل کو گورنر کے حوالے کیا اور پھر آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو کے ساتھ راج بھون پہنچ کر نئی حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کیا۔ دونوں لیڈران ایک ہی کار میں بیٹھ کر راج بھون پہنچے۔ ان کے علاوہ جنتا دل یو لیڈر راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ، وجئے کمار چودھری، شرون کمار سمیت دیگر لیڈران بھی موجود تھے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق مہاگٹھ بندھن حکومت کی تشکیل کل پائے گی جب 2 بجے نتیش کمار بطور وزیر اعلیٰ اور تیجسوی یادو بطور نائب وزیر اعلیٰ عہدہ اور رازداری کا حلف لیں گے۔ ایسی بھی خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ دونوں ہی پارٹیوں سے 18-18 وزیر بنائے جائیں گے، حالانکہ اس سلسلے میں تصدیق ابھی نہیں ہو سکی ہے۔ مہاگٹھ بندھن میں شامل دیگر پارٹیوں یعنی کانگریس، ہم، بایاں محاذ کی حکومت میں کس طرح شمولیت رہے گی، اس سلسلے میں بھی فی الحال کچھ صاف نہیں ہو سکا ہے۔

آج جب گورنر پھاگو چوہان کے سامنے حکومت تشکیل دینے کا دعویٰ پیش کرنے کے بعد نتیش کمار میڈیا سے مخاطب ہوئے تو انھوں نے کہا کہ ان کے پاس 164 اراکین اسمبلی کی حمایت موجود ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اب سات پارٹی ایک ساتھ مل کر بہار کی ترقی کے لیے کام کریں گے اور بہار کی خدمت میں خود کو وقف کر دیں گے۔ جب ایک میڈیا اہلکار نے نتیش کمار سے پوچھا کہ کیا وہ آئندہ لوک سبھا انتخاب میں وزیر اعظم عہدہ کے امیدوار بنیں گے، تو اس کا جواب انھوں نے نہیں دیا اور مسکرا کر صرف اتنا کہا کہ ’’چھوڑیے یہ سب۔‘‘

بی جے پی کے ساتھ مل کر حکومت کرنے کے اپنے تجربات کا تذکرہ کرتے ہوئے نتیش کمار نے کہا کہ ’’جب میں بی جے پی کے ساتھ اتحاد میں حکومت کر رہا تھا تو ان کے لیڈران بہت ساری باتیں کہہ رہے تھے جو مجھے اچھی نہیں لگیں۔ اس لیے میں نے وزیر اعلیٰ عہدہ سے استعفیٰ دے دیا۔ اب ہم مہاگٹھ بندھن کی حکومت بنائیں گے اور ہمارے پاس 165 اراکین اسمبلی کی حمایت ہے۔ مہاگٹھ بندھن میں 7 پارٹیاں شامل ہیں، اس لیے ہم بہار میں سات پارٹیوں کی حمایت سے حکومت چلائیں گے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ہم نے بہار میں نئی حکومت بنانے کے لیے گورنر پھاگو چوہان کے سامنے دعویٰ پیش کیا ہے۔ ہم نے ان کے سامنے 164 اراکین اسمبلی کی فہرست بھی سونپی ہے۔‘‘

دوسری طرف آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو نے بی جے پی پر زوردار حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’بی جے پی جہاں رہتی ہے، جس کے ساتھ رہتی ہے، اسے ختم کرنے میں لگی رہتی ہے۔ پنجاب دیکھیے، مہاراشٹر دیکھیے۔ پورے شمالی ہند میں اب بی جے پی کا کوئی بڑا ساتھی نہیں رہا۔ ملک میں انارکی کا ماحول بن رہا ہے، فرقہ واریت پھل پھول رہی ہے، سماجی انصاف متاثر ہو رہا ہے۔ معیشت دیکھ لیجیے، ملک کی سیکورٹی دیکھ لیجیے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’بہار نے ملک کو سمت دکھانے کا کام کیا ہے کہ جو عوام کے لیے لڑتا ہے، عوام اسے قبول کرتی ہے۔ عوام متبادل چاہتی ہے۔‘‘

تیجسوی یادو نے نتیش کمار کا مہاگٹھ بندھن کے ساتھ آنے پر شکریہ ادا کیا۔ پہلے کے بیانات، الزامات کے سلسلے میں پوچھے جانے پر انھوں نے کہا کہ ہم لوگ چچا-بھتیجا ہیں، ایک فیملی میں تھوڑی بہت لڑائی ہوتی رہتی ہے۔ انھوں نے نتیش کمار اور مہاگٹھ بندھن کے دیگر لیڈروں کے ساتھ راج بھون سے لوٹنے کے بعد کہا کہ ’’بی جے پی دراصل جنتا دل یو کے خلاف سازش کر رہی تھی اور نتیش کمار کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ بی جے پی نے مہاراشٹر اور پنجاب میں بھی ایسا ہی کیا اور بہار میں جنتا دل یو کو ختم کرنے کے لیے ایسا ہی کر رہی تھی۔ انھوں نے بہادری والا فیصلہ لیا اور این ڈی اے کو چھوڑ دیا۔‘‘

ایک نظر اس پر بھی

کہاں غائب ہو گئے نوٹ بندی کے بعد چھاپے گئے 9.21 لاکھ کروڑ روپے، آر بی آئی کے پاس بھی تفصیل موجود نہیں!

مرکز کی مودی حکومت نے بلیک منی پر قدغن لگانے کے مقصد سے 2016 میں نوٹ بندی ضرور کی، لیکن اس مقصد میں کامیابی قطعاً ملتی ہوئی نظر نہیں آ رہی ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں نے نوٹ بندی کے وقت بھی مرکز کے اس فیصلے پر سوالیہ نشان لگایا تھا،

ہندوستان میں 10 سالوں کے دوران شرح پیدائش میں 20 فیصد کی گراوٹ، رپورٹ میں انکشاف

 پچھلے 10 سالوں میں ہندوستان میں عام زرخیزی کی شرح (جی ایف آر) میں 20 فیصد کی کمی درج کی گئی ہے۔ اس کا انکشاف حال ہی میں جاری کردہ سیمپل رجسٹریشن سسٹم (ایس آر ایس) ڈیٹا 2020 میں ہوا ہے۔ جی ایف آر سے مراد 15-49 سال کی عمر کے گروپ میں ایک سال میں فی 1000 خواتین پر پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد ...

الیکشن کمیشن نے تین برسوں میں جموں و کشمیر کی 7 سیاسی جماعتوں کو رجسٹر کیا

الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) نے گزشتہ تین برسوں کے دوران جموں و کشمیر کی7 سیاسی جماعتوں کو رجسٹر کیا ہے جن میں کچھ غیر معروف جماعتیں بھی شامل ہیں۔ ای سی آئی ریکارڈس کے مطابق کمیشن نے سال 2019 سے تمام ضروری لوازمات کی ادائیگی کے بعد جموں و کشمیر کی 7 سیاسی جماعتوں کو رجسٹر ...

بامبے ہائی کورٹ سے گوشت کے اشتہارات پر پابندی کی درخواست خارج

بامبے ہائی کورٹ نے ٹی وی اور اخبارات میں نان ویجیٹیرین کھانے کے اشتہارات پر پابندی لگانے کی درخواست خارج کر دی ہے، چیف جسٹس دیپانکر دتہ اور جسٹس مادھو جمدار نے پیر کو جین چیریٹیبل ٹرسٹ کی عرضی کو یہ کہتے ہوئے خارج کر دیا کہ عدالت صرف اس صورت میں مداخلت کر سکتی ہے جب شہریوں کے ...

پی ایف آئی پر پھر چھاپے، شاہین باغ میں دبش، جامعہ میں دفعہ 144 نافذ

نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) سے ملی لیڈ کی بنیاد پر، 8 ریاستوں کی پولیس نے آج یعنی منگل کو ملک بھر میں پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) کے کئی مقامات پر چھاپے مارے۔ نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع خبر کے مطابق اسے دوسرے راؤنڈ کا چھاپہ بتایا جا رہا ہے۔