بہار میں این آر سی لاگو نہیں ہوگا: نتیش کمار

Source: S.O. News Service | Published on 26th February 2020, 10:36 AM | ملکی خبریں |

پٹنہ،26/فروری (ایس او نیوز/ایجنسی)  بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار نے آج اسمبلی میں قومی شہری رجسٹر ( این آر سی) کو غیر ضروری بتایا اور کہا کہ قومی مردم شماری رجسٹر ( این پی آر ) کے حالیہ خاکہ سے مستقبل میں این آر سی کے نفاذ پر کچھ لوگوں کو خطرات لاحق ہوں گے اسی کو دیکھتے ہوئے ان کی حکومت نے این پی آر 2010 کے پرانے خاکہ کی بنیاد پر ہی کرانے کے لئے مرکزی حکومت کو خط لکھا ہے۔

نتیش کمار نے اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تیجسوی پرساد یادو کے شہریت ترمیمی قانون ( سی اے اے)، این آر سی اور این پی پر ایوان میں خصوصی بحث کے لئے دی گئی تحریک التواء تجویز کی منظوری کے بعد قریب ایک گھنٹے کی ہوئی بحث کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ سات اکتوبر 2019 کو حکومت ہند کے رجسٹرار اور مردم شماری کمشنر کی جانب سے بہار حکومت کو این پی آر سے متعلق ایک خط بھیجا گیا تھا اس سے قبل 15 مئی 2010 سے 15 جون 2010 کے مابین این پی آر کرایا گیا تھا اور اس کے بعد سال 2015 میں بھی اس پر کچھ کام ہوا تھا۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس بار 2020 میں جو این پی آر کرانے کے لئے خط بھیجا گیا ہے اس کے خاکہ میں کچھ دیگر اطلاعات کو جمع کرنے کی بات ہے۔ سال 2010 میں این پی آر میں تھرڈ جینڈر کو شامل نہیں کیا گیا تھا لیکن اس بار اس میں تھرڈ جینڈر کو جوڑا گیا ہے۔ اس کے علاوہ والدین کا نام، ان کی تاریخ پیدائش، ان کی جائے پیدائش اور جائے وفات کی بھی جانکاری طلب کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی معلومات ہر کسی کو نہیں ہے۔ وہ بھی اپنے ماں۔ باپ کے متعلق میں ایسی معلومات سے لا علم ہیں۔

نتیش کمار نے کہا کہ این پی آر 2020 میں ماں۔ باپ سے متعلق پوچھی گئی جانکاری دستیاب نہیں ہونے پر اس کے آگے انوائٹیڈ کوما کے اندر چھوٹی لکیر کھینچ کر چھوڑ دینی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے مستقبل میں این آر سی کے نفاذ سے متعلق خطرات لاحق ہوں گے اس لئے ان کی حکومت نے حکومت ہند کے رجسٹرار اور مردم شماری کمشنر کو 15 فروری کو خط لکھ کر درخواست کی ہے کہ این پی آر میں تھرڈ جینڈر کو جوڑنے کے علاوہ دیگر سوالات کو شامل نہیں کیا جائے۔

ایک نظر اس پر بھی

جموں کے ایک وکیل اور کشمیر کی ایک خاتون کورونا سے ہلاک، لوگ دہشت زدہ

 جموں سے تعلق رکھنے والے ایک وکیل اور جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کی ایک خاتون کی موت کے بعد کورونا ٹیسٹ مثبت آنے سے جموں و کشمیر یونین ٹریٹری میں اس وائرس سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 23 ہوگئی ہے۔ ان ہلاکتوں کے بعد لوگوں میں ایک دہشت کا ماحول بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔