نتیش کمار کو آر جے ڈی اور کانگریس سمیت 7 پارٹیوں کی حمایت حاصل، حکومت سازی کا دعویٰ کیا پیش

Source: S.O. News Service | Published on 9th August 2022, 10:38 PM | ملکی خبریں |

پٹنہ،9؍اگست (ایس او نیوز؍ایجنسی) بہار کی سیاست میں جاری اٹھا پٹخ کے درمیان نتیش کمار نے گورنر پھاگو چوہان سے ملاقات کر ایک بار پھر حکومت سازی کا دعویٰ پیش کر دیا ہے۔ انھوں نے گورنر سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہمارے پاس سات پارٹیوں کی حمایت ہے۔ اس میں 164 اراکین اسمبلی ہیں۔ ہم لوگ مل کر کام کریں گے اور بہار کو آگے بڑھانے کا راستہ ہموار کریں گے۔‘‘ نتیش کمار نے 164 اراکین اسمبلی کی حمایت کا خط بھی گورنر کے حوالے کر دیا۔ اس میں جنتا دل یو کے 45، آر جے ڈی کے 79، بایاں محاذ کے 16، کانگریس کے 19، ہم کے 4 اور ایک آزاد رکن اسمبلی شامل ہیں۔

نتیش کمار جب گورنر پھاگو چوہان سے ملاقات کے لیے پہنچے تو ان کے ساتھ تیجسوی یادو، للن سنگھ، اجیت سنگھ، جیتن رام مانجھی، وجئے چودھری اور شرن کمار وغیرہ بھی موجود تھے۔ ان سبھی نے اتحاد کا مظاہرہ کیا۔ اس سے قبل نتیش کمار نے گورنر سے ملاقات کر وزیر اعلیٰ عہدہ سے اپنے استعفیٰ کا خط پیش کر دیا تھا اور پھر وہ بہار کی سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی کی رہائش پہنچے تھے۔ پھر اس کے بعد مہاگٹھ بندھن لیڈران کی میٹنگ ہوئی جس میں نتیش کمار کو مہاگٹھ بندھن کا لیڈر منتخب کیا گیا۔ تیجسوی یادو نے نتیش کمار کو آر جے ڈی اراکین اسمبلی کی حمایت کا خط بھی سونپا۔ بعد ازاں نتیش کمار حکومت سازی کا دعویٰ پیش کرنے کے لیے گورنر پھاگو چوہان کے پاس پہنچے۔

حکومت سازی کا دعویٰ پیش کرنے کے بعد نتیش کمار نے آر سی پی سنگھ کا نام لیے بغیر بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’سماج میں تنازعہ پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تھی جو ہمیں اچھا نہیں لگا تھا۔ کئی طرح کی باتیں ہو رہی تھیں جو ہمیں اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ سبھی اراکین پارلیمنٹ اور اراکین اسمبلی کا مشورہ تھا کہ بی جے پی کا ساتھ چھوڑ دیا جائے اور ان کی بات مانتے ہوئے این ڈی اے سے الگ ہونے کا فیصلہ لیا گیا۔‘‘

حکومت سازی کا دعویٰ پیش کیے جانے کے بعد نتیش کمار کے ساتھ ساتھ تیجسوی یادو نے بھی میڈیا سے بات چیت کی۔ انھوں نے کہا کہ ’’عوام متبادل چاہتی ہے۔ بہار کو خصوصی ریاست کا درجہ نہیں ملا، حالانکہ کئی بار وزیر اعظم کے سامنے اس کا مطالبہ رکھا گیا تھا۔ ملک میں بے تحاشہ مہنگائی اور بے روزگاری ہے۔ ہمیں ملک کی آئین کو بچانا ہے۔ یہ ایسے ایشوز ہیں جس کے لیے سبھی کو بی جے پی کے خلاف متحد ہونا ہوگا۔‘‘ تیجسوی نے الزام عائد کیا کہ ملک کے ماحول کو خراب کیا جا رہا ہے اور نتیش کمار نے بے خوف ہو کر ایک ایسا فیصلہ لیا ہے جس کے بعد بی جے پی کے ایجنڈے کو بہار میں نافذ نہیں ہونے دینا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

کہاں غائب ہو گئے نوٹ بندی کے بعد چھاپے گئے 9.21 لاکھ کروڑ روپے، آر بی آئی کے پاس بھی تفصیل موجود نہیں!

مرکز کی مودی حکومت نے بلیک منی پر قدغن لگانے کے مقصد سے 2016 میں نوٹ بندی ضرور کی، لیکن اس مقصد میں کامیابی قطعاً ملتی ہوئی نظر نہیں آ رہی ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں نے نوٹ بندی کے وقت بھی مرکز کے اس فیصلے پر سوالیہ نشان لگایا تھا،

ہندوستان میں 10 سالوں کے دوران شرح پیدائش میں 20 فیصد کی گراوٹ، رپورٹ میں انکشاف

 پچھلے 10 سالوں میں ہندوستان میں عام زرخیزی کی شرح (جی ایف آر) میں 20 فیصد کی کمی درج کی گئی ہے۔ اس کا انکشاف حال ہی میں جاری کردہ سیمپل رجسٹریشن سسٹم (ایس آر ایس) ڈیٹا 2020 میں ہوا ہے۔ جی ایف آر سے مراد 15-49 سال کی عمر کے گروپ میں ایک سال میں فی 1000 خواتین پر پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد ...

الیکشن کمیشن نے تین برسوں میں جموں و کشمیر کی 7 سیاسی جماعتوں کو رجسٹر کیا

الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) نے گزشتہ تین برسوں کے دوران جموں و کشمیر کی7 سیاسی جماعتوں کو رجسٹر کیا ہے جن میں کچھ غیر معروف جماعتیں بھی شامل ہیں۔ ای سی آئی ریکارڈس کے مطابق کمیشن نے سال 2019 سے تمام ضروری لوازمات کی ادائیگی کے بعد جموں و کشمیر کی 7 سیاسی جماعتوں کو رجسٹر ...

بامبے ہائی کورٹ سے گوشت کے اشتہارات پر پابندی کی درخواست خارج

بامبے ہائی کورٹ نے ٹی وی اور اخبارات میں نان ویجیٹیرین کھانے کے اشتہارات پر پابندی لگانے کی درخواست خارج کر دی ہے، چیف جسٹس دیپانکر دتہ اور جسٹس مادھو جمدار نے پیر کو جین چیریٹیبل ٹرسٹ کی عرضی کو یہ کہتے ہوئے خارج کر دیا کہ عدالت صرف اس صورت میں مداخلت کر سکتی ہے جب شہریوں کے ...

پی ایف آئی پر پھر چھاپے، شاہین باغ میں دبش، جامعہ میں دفعہ 144 نافذ

نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) سے ملی لیڈ کی بنیاد پر، 8 ریاستوں کی پولیس نے آج یعنی منگل کو ملک بھر میں پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) کے کئی مقامات پر چھاپے مارے۔ نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع خبر کے مطابق اسے دوسرے راؤنڈ کا چھاپہ بتایا جا رہا ہے۔