سپر ٹیوزڈے: ڈیموکریٹک پارٹی کے پرائمری میں جو بائیڈن سب سے آگے

Source: S.O. News Service | Published on 4th March 2020, 6:20 PM | عالمی خبریں |

نیویارک / 4مارچ (آئی این ایس انڈیا)امریکہ کی 14 ریاستوں میں منگل کو ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدواروں کے انتخاب کے لیے پارٹی کے رجسٹرڈ ووٹرز نے ووٹ ڈالے جس کے ابتدائی نتائج کے مطابق سابق نائب صدر جو بائیڈن کم از کم آٹھ ریاستوں میں کامیاب رہے جب کہ ان کے حریف برنی سینڈرز تین ریاستوں میں برتری حاصل کر سکے ہیں۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق تین نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مقابلہ کرنے کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدواروں کے درمیان مقابلہ جاری ہے۔سابق نائب صدر جو بائیڈن اور ورمونٹ سے سینیٹر برنی سینڈرز مضبوط ترین امیدوار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔اب تک ہونے والے انتخابات میں رجسٹرڈ پارٹی ووٹرز کی زیادہ تر حمایت ان دونوں رہنماؤں کے لیے سامنے آئی ہے۔ریاست آئیووا سے شروع ہونے کا ڈیموکریٹک صدارتی امیدواروں کا انتخابی مرحلہ منگل کو اس وقت دلچسپ صورت اختیار کر گیا جب 14 ریاستوں میں ہونے والی ووٹنگ میں جو بائیڈن نے سب پر سبقت حاصل کر لی ہے۔ابتدائی تین پرائمری اور کاکس میں جوبائیڈن کو بری طرح شکست ہوئی تھی لیکن ان کی کامیابی کا آغاز جنوبی کیرولائنا کے پرائمری سے ہوا جس کا تسلسل سپر ٹیوزڈے کو بھی دیکھا گیا۔کسی ایک دن سب سے زیادہ پرائمری انتخابات کی وجہ سے مارچ کے پہلے منگل کو سپر ٹیوزڈے کہا جاتا ہے۔ عام تاثر ہے کہ سپر ٹیوزڈے کو کوئی ایک امیدوار زیادہ برتری حاصل کر لے تو،باقی ریاستوں کے پرائمری انتخابات میں اسے شکست دینا مشکل ہو جاتا ہے۔منگل کو جن ریاستوں میں ڈیموکریٹک پارٹی کے ووٹرز نے ووٹ ڈالے ان میں ریاست الاباما، ٹیکساس، شمالی کیرولائنا، کیلی فورنیا، ٹینیسی، ورجینیا، آرکنسا، اوکلاہوما، کولوراڈو، میساچوسیٹس، یوٹا، منی سوٹا، ورمونٹ اور مئین شامل ہیں۔اس کے علاوہ امریکن سموآ اور بیرون ملک ڈیموکریٹ ووٹرز نے بھی اپنے پسندیدہ امیدواروں کے حق میں ووٹ دیے۔ابتدائی نتائج سامنے آں ے کے بعد جو بائیڈن ڈیموکریٹک پارٹی کے مضبوط ترین صدارتی امیدوار کے طور پر سامنے آئے ہیں تاہم انہیں برنی سینڈرز کا مقابلہ درپیش ہے۔نیویارک کے سابق میئر مائیکل بلوم برگ نے 'سپر ٹیوزڈے' سے قبل اپنی انتخابی مہم پر لاکھوں ڈالرز خرچ کیے تھے۔ وہ صرف امریکن سموا سے کامیابی حاصل کر سکے ہیں۔امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جو بائیڈن 14 ریاستوں میں سے 247 ڈیلی گیٹس جیتنے میں کامیاب ہو جائیں گے جب کہ برنی سینڈرز 179 ڈیلی گیٹس جیت سکتے ہیں۔یاد رہے کہ صدارتی امیدوار کا فیصلہ امریکہ کی 50 ریاستوں اور دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی سمیت سات دوسرے حلقوں میں پرائمری انتخابات کے بعد کیا جاتا ہے جو جون تک مختلف تاریخوں میں منعقد کیے جاتے ہیں۔ ہر ریاست میں ووٹوں کی بنیاد پر ڈیلی گیٹس جیتے جاتے ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی