افغانستان سے انخلا 31 اگست تک مکمل ہوجائے گا :بائیڈن

Source: S.O. News Service | Published on 26th August 2021, 1:54 PM | عالمی خبریں |

واشنگٹن ،26؍اگست (ایس او نیوز؍ایجنسی ) صدر جوبائیڈن نے منگل کی سہ پہر اپنے خطاب میں کہا ہے کہ 14 اگست سے اب تک70،700 افراد کا کابل سے انخلا کیا گیا ہے جن میں امریکی شہری، افغان باشندے اور اتحادی شامل ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جیسا کہ معاملات اس وقت تیزی سے نمٹائے جا رہے ہیں، 31 اگست کی حتمی تاریخ تک انخلا کا کام مکمل ہو جائے گا۔ ساتھ ہی صدر نے کہا کہ ایک متبادل منصوبہ بھی تیار کیا جا رہا ہے؛ جس پر ضرورت پڑنے کی صورت میں عمل درآمد کیا جا سکتا ہے۔ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب میں بائیڈن نے کہا کہ کابل سے انخلا کے کام میں طالبان ابھی تک متعلقہ اہل کاروں کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جس رفتار سے انخلا کا کام جاری ہے، توقع ہے کہ کام کو بر وقت نمٹایا جا سکے گا۔تاہم، صدر نے کہا کہ داعش (خراسان) سے دہشت گردی کا خطرہ موجود ہے۔

لیکن، انھوں نے واضح کیا کہ داعش (خراسان) طالبان کا سخت دشمن ہے۔صدر بائیڈن نے کہا کہ اس سے قبل منگل ہی کے روز جی 7 ممالک کا ورچوئل اجلاس منعقد ہوا جس میں انھوں نے اقوام متحدہ، نیٹو اور یورپی یونین کے سربراہان کو افغانستان سے جاری انخلا کے کام سے متعلق تفصیل پیش کی۔ بقول ان کے، میں نے انھیں بتایا کہ پچھلے 10 دن کے دوران ہم نے مجموعی طور پر 70،700 افراد کو ملک سے نکالا ہے۔ساتھ ہی، انھوں نے بتایا کہ میں نے جی 7 ممالک کے سربراہان سے انخلا کے حوالے سے مشورہ کیا، اور وہ سب امریکی فیصلے کا مکمل ساتھ دے رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ قوی امکان ہے کہ ہم اپنا مشن 31 اگست تک مکمل کر لیں گے۔

جو بائیڈن نے کہا کہ مشن کی تکمیل کے حوالے سے بہت سے خدشات اور چیلنج لاحق ہیں، جو زیادہ تر داعش (خراسان) سے درپیش ہو سکتے ہیں، اور اس کا دار و مدار طالبان کے جاری تعاون پر بھی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ”طالبان ہماری مدد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اگر انخلا کا کام مکمل نہیں ہوتا تو ایک اور صورت یہ ہو سکتی ہے کہ افغانستان تک رسائی کا کام اقوام متحدہ اپنے ذمے لے، اس بات کو بھی جی 7 کے اجلاس میں زیر غور لایا گیا؛ اس کام میں امریکہ سمیت، یورپی یونین کے ممالک عالمی ادارے کا ساتھ دیں گے۔انھوں نے یاد دلایا کہ طالبان کو یہ بات یقینی بنانی ہے کہ وہ کسی دہشت گرد گروہ کو ملک میں جگہ نہیں دیں گے، جہاں سے وہ کسی بیرونی ملک کے لیے دہشت گردی کا باعث بنیں۔

انھوں نے کہا کہ یہ بات واضح ہے کہ ایسی صورت حال کو کسی طور پر برداشت نہیں کیا جائے گا۔اس حوالے سے اقوام متحدہ کا ادارہ ہمارا رہنما ہو گا اور ہم نے یقین دلایا کہ ہم اس سے مکمل تعاون کریں گے اور ساتھ دیں گے۔انخلا کے جاری کام سے متعلق جو بائیڈن نے کہا کہ اب تک یہ آپریشن درست جا رہا ہے، اور امید ہے کہ 31 اگست کی حتمی تاریخ کے اندر اندر مکمل ہو جائے گا۔انھوں نے کہا کہ امریکہ پہنچنے والے ہزاروں افغان باشندوں کو مہاجر کا درجہ دیا جائے گا، ساتھ ہی اس سے قبل سب کا بیک گراؤنڈ چیک کیا جائے گا۔

ایک نظر اس پر بھی

روس-یوکرین جنگ کے سبب عالمی غذائی بحران کا اندیشہ، لاکھوں لوگ نقص تغذیہ کے ہو سکتے ہیں شکار!

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ نے متنبہ کیا ہے کہ یوکرین پر روس کے حملہ سے جلد ہی عالمی غذائی بحران پیدا ہو سکتا ہے جو سالوں تک بنا رہ سکتا ہے۔ جنرل سکریٹری انٹونیو گٹیرس نے کہا کہ بڑھتی قیمتوں کے سبب غریب ممالک میں جنگ نے غذائی بحران کو بڑھا دیا ہے۔

سری لنکا: سمندر کے ساحل پر دو مہینے سے کھڑا ہے پٹرول سے لدا جہاز، حکومت کے پاس خریدنے کے لئے نہیں ہے پیسے !

سری لنکا  نے بدھ کے روز کہا کہ پٹرول سے لدا جہاز تقریباً دو ماہ سے اس کے ساحل پر کھڑا ہے لیکن اس کے پاس ادائیگی کے لیے غیر ملکی کرنسی نہیں ہے۔ سری لنکا نے اپنے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس ایندھن کے لیے قطار میں کھڑے ہو کر انتظار نہ کریں۔ تاہم سری لنکا کی حکومت نے کہا کہ ملک کے پاس ...

مہندا راج پکشے اور ان کے 15 ساتھی ملک چھوڑ کر نہیں جا سکتے: عدالت

سری لنکا اب تک کے بدترین معاشی بحران سے گزر رہا ہے۔ اس سے نمٹنے میں حکومت کی ناکامی پر ملک گیر مظاہروں کے درمیان صدر گوٹابایا راج پکشے نے کل قوم سے خطاب میں کہا تھا کہ وہ جلد نئی حکومت اور وزیراعظم کا اعلان کریں گے۔

سری لنکا: صدر گوٹابایا کا قوم سے خطاب، راج پکشے خاندان سے کابینہ میں کوئی نہیں ہوگا

  سری لنکا میں پرتشدد مظاہروں کے درمیان کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے اور تشدد کے مرتکب افراد کو گولی مارنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اس دوران سری لنکا کے صدر گوٹابایا راج پکشے نے قوم سے دوسرے مرتبہ خطاب کیا، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ایک ہفتے کے اندر نئی حکومت تشکیل دی جائے گی اور نئے ...

بحران میں مبتلا سری لنکائی باشندوں کی ہندوستان میں دراندازی کا اندیشہ، تمل ناڈو پولیس الرٹ

سیاسی اور معاشی بحران میں مبتلا سری لنکا میں ہر طرف تشدد کا ماحول ہے۔ وہاں کے کئی شہریوں کے ذریعہ ہندوستان میں دراندازی کے اندیشے ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ اسے روکنے کے لیے تمل ناڈو کی ساحلی پولیس ہائی الرٹ پر ہے۔