دبئی اور عرب امارات میں پھنسے بھٹکل اور اطراف کے لوگوں پر مشتمل لوگ چارٹرڈ فلائٹ کےذریعے بھٹکل پہنچنے میں کامیاب؛ تین جگہوں پر کیا گیا ہے کورنٹائن

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 13th June 2020, 3:18 PM | ساحلی خبریں |

بھٹکل 13/ جون (ایس او نیوز)  میں  چالیس  دن کی ویزا پر فروری میں دبئی گیا تھا، وہاں پہنچ کر کچھ دنوں میں ہی کورونا وباء کا  معاملہ سامنے آیا پھردبئی سمیت انڈیا   بھی لاک ڈاون  ہوگیا، میں دبئی پہنچ کر اتنی   بری طرح پھنس گیا کہ ویزا خراب ہوگئی، نوکری نہیں، رہنےاور کھانے کے لئے پیسے بھی نہیں ہونےاور واپس جانے کے لئے فلائٹ سروس بھی نہیں تھی ،  ایسی خراب حالت میں انسان آخر کیا کرے گا۔  ویزا ختم ہوکے دو ماہ بعد خبر ملی کہ بھٹکل کے تاجر جناب  عتیق الرحمن مُنیری نے ہم جیسے  لاک ڈاون میں پھنسے ہوئے لوگوں کو راحت دلانے  اور ہمیں مشکلات سے نجات دلانے کے لئے   چارٹرڈ فلائٹ  مینگلور روانہ کررہے ہیں۔ میں اور میرے جیسے بہت سارے لوگوں کے لئے یہ بہت بڑی مدد ہے، میں ان  کا بے حد ممنون و مشکور ہوں کہ مجھے اس چارٹرڈ فلائٹ پر انہوں نے سوار کرکے انڈیا روانہ کیا اور الحمدوللہ میں خیرو عافیت کے ساتھ آج صبح بھٹکل پہنچ گیا۔ یہ بات  دبئی سے بھٹکل پہنچنے والے ایک مسافر نے   بتائی۔ وہ  آج سنیچر صبح  قریب دس بجے مینگلور ائرپورٹ ہوتے ہوئے خصوصی بس کے ذریعے بھٹکل پہنچا ہے۔

ان  کی طرح دوسرے کئی ایک  مسافروں نے بھی اسی طرح کے اپنے واقعات بیان کئے  اور جناب عتیق الرحمن مُنیری صاحب کی ستائش کرتے ہوئے  دبئی کے  دیگر  ذمہ داران سمیت  قومی سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل  کا بھی شکریہ ادا کیا جن کی کوششوں سے  فلائٹ  جمعہ کی شب 11:20(دبئی ٹائم)  کو راس الخیمہ ائرپورٹ سے  اُڑان بھرتے ہوئے  آج صبح 4:20 کو مینگلور ائرپورٹ پر لینڈ  ہوئی، مینگلورمیں بھٹکلی جماعت المسلمین مینگلور کے ذمہ داران کے ساتھ  مجلس اصلاح و تنطیم کے ذمہ داران ان کے استقبال کے لئے پہلے سے موجود تھے۔

پانچ بسوں پر سوار کرکے جملہ 184 لوگوں کو جن میں نو  بچے بھی شامل ہیں، بھٹکل پہنچے۔ لگیج کے لئے بسوں پر جگہ نہ ہونے سے  ایک منی بس اور ایک منی لاری کا انتظام کرتے ہوئے تمام لوگوں کے لگیج کو الگ سے بھٹکل لایا گیا ۔ بھٹکل میں سبھوں کو اب سات دنوں کے لئے کورنٹائن کیا گیا ہے، ان میں سے  68 لوگوں کو ہوٹل کولا پیراڈائز میں، 67 لوگوں کو نیلاور اپارٹمنٹس میں اور 49 لوگوں کو  انجمن ہوسٹل میں کورنٹائن کیا گیا ہے۔

بھٹکل پہنچنے کے بعد تعلقہ انتظامیہ اور تنظیم والنٹیرس کے درمیان  لفظی جھڑپ:    دبئی سے ہی تمام لوگوں کو ٹوکن فراہم کئے گئے تھے اور بالکل منظم انداز میں  ان کو شناختی کارڈ کے ساتھ اسی میں اُن کے  ہوٹل کا نام، روم نمبر اور مینگلور سے بھٹکل جانے والی بس نمبر وغیرہ   درج کیا گیا تھا،   مینگلور ائرپورٹ میں اُترنے کے بعدلوگ اپنے اپنے نمبر کے بس پر سوار ہوگئے  لیکن لگیج زیادہ ہونے کی وجہ سے مسئلہ پیدا ہوگیا اور  مسافروں کے ساتھ اُن کا  لگیج نہیں جاسکا، جس کو دیکھتے ہوئے ذمہ داران نے مزید ایک   منی بس اور ایک  منی لاری کا انتظام کیا اور تمام سامان اُس میں لاد دیا۔

ایسے میں  تنظیم کے ذمہ داران پر  مشتمل والنٹیرس نے  فیصلہ کیا کہ  تمام بسوں کو پہلے سیدھے  انجمن  آباد لے جایا جائے، وہاں تماموں کے لگیج الگ الگ کرکے مسافروں کے حوالے کیا جائے، پھر اُنہیں ان کے ہوٹلوں میں  پہنچایا جائے، لیکن  تعلقہ انتظامیہ کو چونکہ  پہلے ہی لسٹ فراہم کی گئی تھی کہ  کونسے نمبر کی بس پر کس ہوٹل کے مسافر سوار ہیں  اور کونسے نمبر کی بس کو ہوسٹل لے جانا ہے،  انہوں نے تنظیم کے والنٹیرس کی جانب سے کی گئی تبدیلی کو نظر انداز کردیا اورتمام بسوں کو پہلے  قدوائی روڈ کراس کے قریب نیشنل ہائی وے پر ہی روک دیا اور وہاں سے ہوٹل کولا پیراڈائز والے مسافروں کی بس کو کولاپیراڈائز ،  نیلاور کی بس کو نیلاور اپارٹمنٹس اور انجمن آباد جانے والی بس کو انجمن آباد روانہ کردیا۔

اسی بات کو لے کر تعلقہ انتظامیہ کے آفسران اورتنظیم   والنٹیرس کے درمیان  ہوٹل کولا پیراڈائز کے باہر کچھ  دیر کے لئے گرماگرم بحث   شروع ہوگئی۔  تعلقہ انتظامیہ اپنی بات پر  بضد تھے تو تنظیم کے والنٹیرس اپنے بات پر اڑ گئے تھے،  والنٹیرس کا کہنا تھا کہ ہم تعلقہ انتظامیہ کی ہر بات کو مان کر چلتے ہیں لیکن انتظامیہ کے آفسران ہماری کوئی بات اور ہمارا کوئی مشورہ  قبول نہیں کرتے اور اپنی ہی من مانی کرتے ہیں، اگر یہاں بھی آپ کو اپنی من مانی کرنی ہے تو پھر شوق سے کریں ، ہم   والنٹیرس اپنے ہاتھ اُٹھادیں گے ، آپ  جو جی میں آئے کریں، اس موقع پر بعض افسران  کو جب معاملہ سمجھ میں آگیا کہ متعلقہ مسافر کو اُن کا   لگیج دینے کا مسئلہ  آسان نہیں ہے تو   پھر آفسران  نے بسوں کو انجمن آباد لے جانے پررضامندی ظاہر کی  اور اس طرح یہ معاملہ ختم ہوگیا۔

سات دن کورنٹائن:   دبئی سے آئے ہوئے تمام لوگوں کو اب دو پرائیویٹ ہوٹلوں اور انجمن ہوسٹل میں کورنٹائن کیا گیا ہے، ہوٹل میں روم جانے سے پہلے  تمام لوگوں کی تھرمل اسکیننگ کی گئی ، پھر انہیں اپنے اپنے کمرے میں جانے کی اجازت دی گئی  تو وہیں انجمن ہوسٹل جانے والوں کو  بس پر سے اُترنے  کے دوران ہی  تھرمل اسکیننگ کی گئی اور پھر ہوسٹل کے اندر جانے دیا گیا۔ تماموں کو اب سات دنوں کے لئے کورنٹائن کیاگیا ہے۔

تھوک کے سیمپل :  بتایا گیا ہے کہ پانچ دن کورنٹائن کے بعد تماموں کے تھوک کے سیمپل لئے جائیں گے اور رپورٹ نیگیٹو آنے کے بعد انہیں گھر جانے کی اجازت دی جائے گی۔ البتہ حاملہ خواتین کے تھوک کے سیمپل کل  اتوار کو ہی لے کر انہیں گھر روانہ کرنے کے تعلق سے  ذمہ داران اور انتظامیہ کے درمیان  بات چیت چل رہی تھی۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل کے ایک عالم دین کی صرف 47 دنوں میں حفظ قران کی تکمیل پر تہنیتی جلسہ

نوجوان عالم دین عبدالغفار کی صرف 47 دنوں کے اندر حفظ قران مکمل کرنے پر ان کے اعزاز میں مسجد ابوہریرہ میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں ان کی تہنیت کی گئی اور انہیں  مبارکباد سمیت انعامات سے نوازا گیا۔

بھٹکل کا نوجوان اُدیاور میں ہوئے سڑک حادثہ میں شدید زخمی؛ علاج کے لئے مالی تعاون کی اپیل

بھٹکل مخدوم کالونی کا ایک نوجوان اُڈپی کے اُدیاور میں سڑک حادثہ میں شدید زخمی ہوا ہے اور اسے منی پال کستوربا اسپتال شفٹ کیا گیا ہے، نوجوان کی مالی حالت کمزور ہونے  کی وجہ سے علاج کے لئے  قریب تین لاکھ  روپیوں کی فوری ضرورت ہے۔ نوجوان کی شناخت سمیرسوکیری (34) کی حیثیت سے کی گئی ...

دبئی میں ایک سواری نے ایک شخص کو رونڈ ڈالا؛ مہلوک ایشیائی شخص کی شناخت ہنوز نہیں ہوپائی؛ پولس نے عوام سے کی تعاون کی اپیل

یہاں ایک سواری کی ٹکر میں ایک شخص ہلاک ہوگیا مگر اُس شخص کی شناخت ابھی تک معمہ بنی ہوئی ہے اور یہ کون ہے، کس ملک یا کس  شہر سے ہے کچھ پتہ نہیں چل پایا ہے۔ پولس کا کہنا ہے کہ یہ ایشیاء کے  کسی ملک سے تعلق رکھتا ہے۔

دبئی :شیرورگرین ویلی اسکول کے صدر ڈاکٹر سید حسن کی دختر دانیا کو ملا شیخہ فاطمہ بنت مبارک ایوارڈ آف ایکسلینس‘

عرب امارات میں بہترین ہمہ جہتی تعلیمی کارکردگی کے لئے طالب علموں کو دیا جانے والا ’’ہَرہا ئنیس شیخہ فاطمہ بنت مبارک ایوارڈ آف ایکسلینس“ امسال دانیا حسن کو تفویض کیا گیا ہے جس کا تعلق  بھٹکل کے پڑوسی علاقہ شرور سے ہے۔