ہوناور میں بارش سے متاثرہ لوگوں کو بھٹکل تنظیم کی جانب سے فراہم کی گئی ضروری امداد؛ اونچی جگہوں پر چھوٹے چھوٹے مکانات تعمیر کرکے دینے متاثرین نے کی اپیل

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 10th August 2019, 7:53 PM | ساحلی خبریں |

بھٹکل 10/اگست (ایس او نیوز) پڑوسی تعلقہ ہوناور کے  کُوروا پنچایت  حدود میں آنے والے کئی قصبوں میں  زبردست بارش سے  متاثر ہونے والے قریب دو سو لوگوں  کو بھٹکل کے قومی  سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم کی جانب سے  چادریں، چٹائیاں، بریڈ، پانی کی بوتلیں سمیت دیگر اشیاء تقسیم کی گئیں اور  نقصانات کاجائزہ لینے کے بعد مزید تعاون دینے کا  یقین دلایا۔ اس موقع پر متاثرین نے   تنظیم وفد سے اپنے مسائل کو پیش کرتے   ہوئے بتایا کہ  ان کے مکانات نشیبی علاقوں میں ہیں جس  کی وجہ سے  ہر سال  زوردار بارش برسنے کے نتیجے میں  شراوتی ندی کا پانی ان کے مکانوں کے اندر داخل ہوجاتا ہے۔ متاثرین نے کہا کہ وہ بے حد غریب ہیں اور آتی کرم زمینات پر چھوٹے چھوٹے مکانات میں رہتے ہیں، ایسے میں اگر وہ سرکاری آفسران سے  بلندی والے علاقوں میں  شفٹ کرنے کی درخواست کرتے ہیں تو اُن سے  مکانات کے کاغذات لے کر آنے کے لئے کہا جاتا ہے۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ آتی کرم زمینات پر مکانات تعمیر کرکے رہنے کی وجہ سے ان  کے پاس گھروں کے کوئی کاغذات ہی نہیں ہیں تو وہ کہاں سے کاغذات جمع کرائیں۔

ولکی کے قریب کوروا سرکاری ہائیر پرائمری اسکول میں  سرکار کی طرف سے  قائم  راحت کیمپ میں  225 متاثرین  کو رکھا گیا ہے، سرکار کی طرف سے  چاول اور دال کے ساتھ تین وقت کا کھانا دیاجارہا ہے، ایسے میں تنظیم کی طرف سے چاردیں اور چٹائیاں فراہم کرنے پر ان لوگوں نے تنظیم  کے ذمہ داران کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ   چار روز قبل جب رات گیارہ بجے  اچانک پانی  شراوتی ندی سے  بہتا ہوا ان کے مکانات میں گھسنا شروع ہوا تو ہمیں  باہر نکالنے والے  ولکی کے مسلمان  تھے اور اب بھٹکل کے مسلم لوگوں نے ان کی خبرگیری کرتے ہوئے ضروری سامان  فراہم کیا ہے۔ متاثرین نے  تنظیم وفد سے کہا کہ آپ لوگوں کو خدا نے بہت کچھ دیا ہے اور آپ لوگ  ہمیشہ غریب لوگوں کی مدد کرتے آئے ہیں،  برائے کرم   بلندی والے مقامات پر  چھوٹا سا مکان تعمیر کرکے  ہماری  مزید مدد کریں اورہر سال پیش آنے والے  مسئلہ سے ہمیں نجات دلائیں۔

تنظیم وفد نے  ولکی کے قریب واقع  ایک اور راحت کیمپ پہنچ کر وہاں بھی متاثرین میں  چادریں اور چٹائیاں تقسیم کیں، ساتھ ساتھ بریڈ اور پانی کی بوتلیں بھی   تقسیم کی گئیں۔ تنظیم وفدکی قیادت تنظیم کے  نائب  صدر جناب عتیق الرحمن مُنیری کررہے تھے، ان کے  ساتھتنظیم جنرل سکریٹری مولوی عبدالرقیب ایم جے ندوی، سکریٹری جیلانی  شاہ بندری،  اراکین  ڈاکٹر محمد حنیف شباب،  امتیاز اُدیاور، عنایت اللہ شاہ بندری،  عبدالماجد رکن الدین ، کے ایم برہان، محمد نصیف خلیفہ، عبدالسلام چامنڈی،  عنایت اللہ اُدیاور و دیگر لوگ موجود تھے۔ ولکی میں جناب اسلم شیخ  نے  وفد کا  مختلف علاقوں کا دورہ کرایا، ڈاکٹر عبداللہ سُکری ،  جناب  خلیل شیخ  و دیگر ذمہ داران نے  وفد کا استقبال کیا اور ولکی میں اپنی خدمات انجام دینے پر  تنظیم وفد کا شکریہ ادا کیا۔

15 راحت کیمپوں میں 1246 متاثرین:   اس موقع پر ساحل آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے  ہوناور کے نائب تحصیلدار  سنتوش بھنڈاری نے بتایا کہ  ہوناور کے مختلف حصوں میں  گذشتہ جمعہ کو شروع ہوئی بارش سے جو تباہی مچی ہے، اُس سے ہوناور تعلقہ کے بہت سارے لوگ متاثر ہوئے ہیں جس میں کئی لوگ  اپنے مکانات کو چھوڑ کر اپنے رشتہ داروں کے ہاں جانے پر مجبور ہوئے ہیں تو وہیں  1246 لوگوں کو  راحت کیمپوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ سنتوش بھنڈاری نے بتایا کہ  ہوناور تعلقہ میں جملہ 15 اسکولوں میں راحت کیمپ  لگایا گیا ہے اور سرکار کی طرف سے  متاثرین کو  تین وقت کا کھانا دیا جارہا ہے۔  انہوں نے بتایا کہ  بارش میں کمی آنے کی وجہ سے اب  نشیبی علاقوں میں پانی  نیچے اُترچکا ہے اس لئے لوگ  اب اپنے اپنے مکانوں کی صفائی میں لگے ہوئے ہیں لیکن بعد میں  واپس کیمپوں میں آکر ہی  رہ رہے ہیں۔

خیال رہے کہ ہوناور سمیت بھٹکل میں آج سنیچر کو بھی صبح سے زوردار بارش کا سلسلہ جاری ہے اور بالخصوص شراوتی بیلٹ کے لوگوں کو   جوگ اور گیرسوپا  ڈیم سے  پانی چھوڑے جانے کی صورت میں  پھر ایک بار گھروں میں پانی آنے کا خدشہ ہے۔ اس تعلق سے  نائب تحصیلدار نے بتایا کہ  ویسے تو ڈیم بھرچکے ہیں مگر اگلے تین دن  تک  ڈیم سے  پانی چھوڑے جانے  کا امکان نہیں ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل: مرڈیشور میں راہ چلتی خاتون کو اغوا کرنے کی کوشش ہوگئی ناکام؛ علاقہ میں تشویش کی لہر

تعلقہ کے مرڈیشور میں ایک خاتون کو اغوا کرنے کی کوشش اُس وقت  ناکام ہوگئی جب اُس نے ہاتھ پکڑ کھینچتے وقت چلانا اور مدد کے لئے پکارنا شروع کردیا،  وارات  منگل کی شب قریب نو بجے مرڈیشور کے نیشنل کالونی میں پیش آئی۔واقعے کے بعد بعد نہ صرف مرڈیشور بلکہ بھٹکل میں بھی تشویش کی لہر ...

کیا شمالی کینرا سے شیورام ہیبار کے لئے وزارت کا قلمدان محفوظ رکھا گیا ہے؟

کرناٹکاکے وزیراعلیٰ  ایڈی یورپا نے دو دن پہلے اپنی کابینہ کی جو تشکیل کی ہے اس میں ریاست کے 13اضلاع کو اہمیت دیتے ہوئے وہاں کے نمائندوں کو وزارتی قلمدان سے نوازا گیا ہے۔اور بقیہ 17اضلاع کو ابھی کابینہ میں نمائندگی نہیں دی گئی ہے۔

ساگر مالا منصوبہ: انکولہ سے بیلے کیری تک ریلوے لائن بچھانے کے لئے خاموشی کے ساتھ کیاجارہا ہے سروے۔ سیکڑوں لوگوں کی زمینیں منصوبے کی زد میں آنے کا خدشہ 

انکولہ کونکن ریلوے اسٹیشن سے بیلے کیری بندرگاہ تک ’ساگر مالا‘ منصوبے کے تحت ریلوے رابطے کے لئے لائن بچھانے کا پلان بنایا گیا اور خاموشی کے ساتھ اس علاقے کا سروے کیا جارہا ہے۔

ماڈرن زندگی کا المیہ: انسانوں میں خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان۔ ضلع شمالی کینرا میں درج ہوئے ڈھائی سال میں 641معاملات!

جدید تہذیب اور مادی ترقی نے جہاں انسانوں کو بہت ساری سہولتیں اور آسانیاں فراہم کی ہیں، وہیں پر زندگی جینا بھی اتنا ہی مشکل کردیا ہے۔ جس کے نتیجے میں عام لوگوں اور خاص کرکے نوجوانوں میں خودکشی کا رجحان بڑھتا جارہا ہے۔

منگلورو پولیس نے ایک اور مشکوک کار کو پکڑا؛ پنجاب نمبر پلیٹ والی کار کے تعلق سے پولس کو شکوک و شبہات

دو دن دن پہلے لٹیروں اور جعلسازوں کی ایک ٹولی کے قبضے سے منگلورو پولیس نے ایسی کار ضبط کی تھی جس پر نیشنل کرائم انویسٹی گیشن بیوریو، گورنمنٹ آف انڈیا لکھا ہوا تھا۔اب مزید ایک مشکوک کار کو پولیس نے اپنے قبضے میں لیا ہے۔ جس پر بھی گورنمینٹ آف انڈیا لکھا ہوا ہے۔