بھٹکل میں برسات رک گئی  مگر ہر طرف چھوڑ گئی تباہی کے مناظر

Source: S.O. News Service | Published on 5th August 2022, 12:34 AM | ساحلی خبریں |

بھٹکل،4؍اگست (ایس او نیوز) منگل کے دن بھٹکل میں مختصر وقت کی بارش سے جس قسم کی عجیب اور خوفناک سیلابی صورت حال پیدا ہوئی تھی ، وہ کل اور آج دو دن مزید بارش نہ ہونے کی وجہ سے اب بدل گئی ہے ۔ لیکن صرف ایک رات کی برسات سے جو تباہی پھیلی ہے اس کے مناظر بڑے دلدوز ہیں۔ 
    
حالانکہ محکمہ موسمیات نے ساحلی علاقے میں ریڈ الرٹ جاری کر رکھا ہے مگر بھٹکل اور اطراف میں برسات تھم سی گئی ہے ۔ اس دوران متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے پر درد ناک مناظر سامنے آتے ہیں۔ 
    
مٹھلّی میں جہاں پہاڑی چٹان کھسکنے کی وجہ سے گھر کے ملبے میں دب کر چار جانیں تلف ہونے کا واقعہ پیش آیا اس علاقے میں ابھی سوگ چھایا ہوا ہے ۔ پہاڑی سے مٹی ابھی بھی کھسک رہی ہے ۔ اگلے پل وہاں کیا ہوگا یہ کہنا مشکل ہے ۔ آس پاس کے مکینوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے اور وہ لوگ پلٹ کر اپنے گھر آنے سے خوف کھا رہے ہیں ۔ پولیس نے پہاڑی کے اوپری حصے پر بیریکیڈس لگا کر لوگوں کی آمد و رفت بند کر دی ہے۔ 
    
ڈارنٹا، غوثیہ اسٹریٹ، چوتنی، مٹھلّی، منڈلّی، تنگین گنڈی، شیرالی، کائکینی، بینگرے جیسے علاقے برسات اور سیلاب سے بہت زیادہ متاثر ہوئے ہیں ۔ ان علاقوں میں پانی گھروں کے اندر داخل ہونے کے ساتھ ساتھ کئی علاقوں میں کھیتوں کی ہریالی کیچڑ کے نیچے دب گئی ہے ۔ یہاں وہاں ٹوٹے ہوئے کمپاونڈ، کیچڑ، مٹی اور ملبے کے ڈھیر، گھروں کی ٹوٹی دیواریں، گھروں کے اندر سے کیچڑ صاف کرتے اور تباہ شدہ گھر کی چیزیں آنگن اور پچھواڑے میں پھینکتے لوگ نظر آرہے ہیں تو دوسری طرف بھٹکل مین بازار کے ایک حصے میں برساتی سیلاب سے بری طرح خسارہ کا شکار ہونے والے دکاندار اپنی دکانیں خالی کر رہے ہیں یا پھر بھیگا ہوا مال اونے پونے داموں پر فروخت کرتے نظر آرہے ہیں۔ اس موقع پرسماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم، رابطہ سوسائٹی اور بھٹکل مسلم یوتھ فیڈریشن کے کارکنان وقتی ضرورت کی چیزیں بطور ریلیف تقسیم کرتے ہوئے بھی نظر آرہے ہیں۔

ایک طرف سمندر کنارے پر مچھیرے اپنی ٹوٹی ہوئی ماہی گیر کشتیوں کا معائنہ کرتے یا پھر سمندر میں بہہ جانے والے اپنے جال اور دیگر سامان تلاش کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ۔ تو دوسری طرف برساتی پانی میں ڈوبنے کی وجہ سے بگڑنے والی بائکس ، کاریں اور اسکوٹرس جیسی موٹر گاڑیوں  کو مرمت کے لئے لوگ لے جاتے ہوئے بھی دیکھے گئے ہیں، اس کے علاوہ ریفریجریٹرس ، فریزرس، واشنگ مشینیں، انورٹرس، گرائنڈرس جیسی گھریلو استعمال کی چیزیں سیکڑوں کی تعداد میں گھروں کے باہر رکھی گئی ہیں اور مرمت کے انتظار میں ہیں، ایسے میں مجلس اصلاح و تنظیم کی طرف سے الیکٹرانک سامان کی مرمت کے لئے میکانیک کا انتظام کیا جارہا ہے اور تنظیم کی طرف سے مختلف علاقوں کے لئے مختلف میکانیک کی خدمات حاصل کی جارہی ہیں، اس ضمن میں تنظیم کی طرف سے قائم ریلیف کمیٹی کے ذمہ داران جناب محمد صادق مٹا (موبائل: 9886000880) یا ارشاد گوائی سے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل میں بارش سے مچی تباہی کے بعد ضلع انچارج وزیر نے کہا؛ اتی کرم والوں کو بھی دی جائے گی ریلیف

ضلع اُترکنڑا  میں شدید بارشوں سے ہونے والے نقصانات کے لیے خصوصی معاوضہ فراہم کرنے کے لیے حکومتی سطح پر کوششیں جاری ہیں۔ بھٹکل میں  اتی کرم  والی زمینات پرتعمیر  مکانات اور دکانوں کو بھی  نقصان پہنچا ہے تو اُنہیں بھی معاوضہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ بات ضلع انچارج وزیر ...

کاروار: بارش سے نقصان اٹھانے والے دکانداروں کو سرکاری معاوضہ دیا جائے گا - کوٹا سرینواس پجاری  کا اعلان

ضلع انچارج وزیر کوٹا سرینواس پجاری نے کاروار میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی نے برسات اور سیلاب سے نقصان اٹھانے والے دکانداروں کو معاوضہ ادا کرنے کی ہدایت دی ہے۔

بھٹکل : بارش کی تباہی کا سروے کرنے کے لئے 11 ٹیمیں تشکیل

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر راجو موگویرا نے بتایا کہ بھٹکل تعلقہ میں زبردست برسات کی وجہ سے ہوئی تباہ کاریوں کا جائزہ لینے کے لئے انتظامیہ کی طرف سے 11 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں  جو متاثرین کے گھر گھر جا کر نقصانات کا جائزہ لے رہی ہیں۔