بھٹکل اور اطراف میں برسات کے ساتھ ساتھ چل رہا ہے مچھروں کا عذاب؛ کیا ذمہ داران مچھروں پر قابو پانے کے لئے اقدامات کریں گے ؟

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 4th September 2019, 8:37 PM | ساحلی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

بھٹکل 4/ستمبر (ایس او نیوز) اگست کے مہینے سے مسلسل برس رہی موسلادھار بارش نے جہاں ایک طرف عام زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے، وہیں پر جگہ جگہ پائے جانے والے گڈھوں، تالابوں اور نالوں میں پانی جمع ہونے کی وجہ سے مچھروں کی افزائش میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اور مچھروں کے کاٹنے  سے پھیلنے والی بیماریوں نے لوگوں کے لئے عذاب کھڑا کردیا ہے۔

بھٹکل تعلقہ کے مختلف مقامات سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق مچھروں کی افزائش میں بہت زیادہ اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ صبح کے وقت اور شام سورج ڈھلنے کے بعد گھروں اور دکانوں میں مچھروں کے غول کے غول ہوا میں اڑتے اور لوگوں کو کاٹتے دکھائی دیتے ہیں۔لوگ اس بات سے پریشان ہوگئے ہیں کہ کسی بھی مقام پر بیٹھنے یا کھڑے ہونے  کی صورت  میں مچھر حملہ آور ہوجاتے ہیں، اور جس طرف چلے جاؤ پیچھا کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔اس کے علاوہ کھانے پینے کی چیزوں پر بھی مچھر منڈلاتے نظر آتے ہیں۔ننھے منے بچے ان مچھروں کے حملوں کا سب سے زیادہ شکار ہورہے ہیں۔

مچھر اور ہلاکت خیز بیماریاں: برسات کے موسم کی وجہ سے پلنے بڑھنے والے یہ مچھر اب پنکھوں کی ہوا، مچھر مار اگربتی اور دیگر چیزوں سے بھی قابو میں نہیں آ رہے ہیں۔مچھروں کے کاٹنے سے پریشان لوگ ڈینگی، ملیریا، فائلیریاچکن گنیا جیسے امراض لاحق ہونے کے خدشات میں مبتلا ہوگئے ہیں۔اصل میں انسانوں کو کاٹنے والے مادہ مچھر سے مختلف بیماریاں پھیلتی ہیں۔ایک ہی مقام پر بڑے وقفے تک جمع رہنے والا پانی مچھروں کی پیدائش اور افزائش کا سبب بنتا ہے۔ اور بھٹکل کی موجودہ حالت یہ ہے کہ برساتی پانی کی نکاسی صحیح ڈھنگ سے نہ ہونے کی وجہ سے ہر جگہ پانی اور کیچڑ نظر آتا ہے، جو مچھروں کے لئے بہت ہی عمدہ ماحول فراہم کرتا ہے۔  یہ مچھر جو انسانوں اور جانوروں کا کاٹنے اور ان کا خون چوسنے کاکام کرتے ہیں ان کی تقریباً 3500 نسل  پائی جاتی ہیں۔ان میں سے تقریباً100نسل  کے مچھر  ایسے ہوتے ہیں جو انسانوں کے لئے ہلاکت خیز بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔

 گندگی اورمچھروں کی افزائش:  بھٹکل تعلقہ میں صرف گڈھوں میں جمع برساتی پانی ہی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہاں پر گندے پانی کے نکاسی والے کھلے نالے بھی مچھروں کی آبادی بڑھانے کا باعث ہوگئے ہیں۔ شہری علاقے میں یہ نالے ایک غلاظت بھرا منظر پیش کرتے ہیں۔ لیکن کسی کو بھی ا س کی پرو ا نہیں ہے۔صفائی ستھرائی سے متعلق چاہے جتنی بھی پبلسٹی کی جاتی ہو، اور چاہے کتنے ہی سوچتا ابھیان چلائے جائیں، جب تک عوامی رویہ نہیں بدلے گا تب ماحول صاف ستھرا نہیں ہوسکتا۔ ملیریا، ڈینگی جیسی بیماریوں کی روک تھام کے لئے جو ڈی ڈی ٹی نامی مچھر مار دوا استعمال کی جاتی تھی اب بلدی اداروں کے پاس وہ دوا موجود ہی نہیں ہے۔اس کے علاوہ مچھروں کو مارنے کے لئے دوا ملے ہوئے دھویں کے بادل(فوگنگ) کا استعمال بھی نہیں کیا جارہا ہے۔اس طرح مچھروں کی آبادی میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

محکمہ صحت کے اعدادو شمار کے مطابق بھٹکل تعلقہ میں سال 2019کے دوران ڈینگی کے 17اور ملیریا کا ایک معاملہ سامنے آیا ہے۔ اس میں سے 13 معاملے ایسے ہیں، جن میں بھٹکل کے لوگ دوسرے شہروں میں رہتے ہوئے بیمار ہوکر شہر میں لوٹے تھے۔تعلقہ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر مورتی بھٹ کا کہنا ہے کہ وبائی امراض پر قابو پانے کا مؤثر طریقہ یہی ہے کہ مچھروں کی آبادی کو بڑھنے سے روکا جائے۔ اس کے لئے عوام کے اندر بیداری آنی چاہیے اور اجتماعی طور پر اس کے لئے اقدامات کرنے ہونگے۔

کیا میونسپالٹی اور پنچایت توجہ دیں گے :  مچھروں کی افزائش پر قابو پانے کے تعلق سے  جب بھٹکل اسسٹنٹ  کمشنر مسٹر ساجدمُلا سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ اس تعلق سے میونسپالٹی اورپنچایت حکام  کی توجہ مبذول کرائیں گے اور  مختلف علاقوں میں مچھر مار دواوں اور فوگنگ کرنے کے احکامات جاری کریں گے۔ اس تعلق سے ایک میونسپل کونسلر نے  بتایا کہ عوام کی جانب سے  خاموشی کو دیکھتے ہوئے  فوگنگ اور مچھر مار دواوں کا چھڑکاو بند کیا گیا ہے، اگرعوام میونسپالٹی پر زور ڈالتے ہیں تو یہ کام دوبارہ شروع ہوسکتا ہے، اسی طرح جالی پٹن پنچایت کے  ایک سرگرم رکن  نے بتایا کہ پنچایت میں فوگنگ کرنے کے تمام ساز و سامان موجود ہیں، عوام کی طرف سے دباو ڈالا جاتا ہے تو   فوگنگ کرائی جاسکتی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

مرڈیشور میں سڑک توسیع کی مانگ لے کر عوام نےتعمیراتی کام روک کر احتجاج کیا

مرڈیشور میں پشکرنی کے اطراف سڑک توسیع کے لئے سہولت ہونے کے باوجود افسران ان دیکھی کرتے ہوئے پرانی سڑک پر ہی اکتفا کرکےتعمیری کام کئے جانے پر دیہی عوام نے تعمیراتی کام روک کر اپنی مخالفت کا اظہار کیا ہے۔

کاروار میں ماہی گیر خواتین کا احتجاج : میونسپالٹی افسران پر دوغلی پالیسی اپنانے کا الزام

شہر میں زیر تعمیر نئی مچھلی مارکیٹ کو لے کر میونسپالٹی کے افسران عدالت کو ایک اور ماہی گیروں کو ایک جانکاری دیتے ہوئے دھوکہ دے رہے ہیں، اس معاملے میں افسران دوغلاپن اختیار کرنے کا الزام لگاتے ہوئے سابق رکن اسمبلی ، کانگریس لیڈر ستیش سئیل کی قیادت میں ماہی گیر خواتین نے ڈپٹی ...

یلاپور ضمنی انتخاب: کیا کانگریس کا’ہاتھ‘ چھوڑنے والے بی جے پی امیدوار شیورام ہیبار کو ان کے اپنے ہی شکست دیں گے؟!

سابقہ اسمبلی انتخاب کے دوران ضلع اُترکنڑا کے یلاپورحلقے سے کانگریس کے ٹکٹ پر بہت ہی کم ووٹوں کے ساتھ جیت درج کرنے والے شیورام ہیبار نے اُس وقت اپنے طبقے کے لوگوں کو دوش دیتے ہوئے کہا تھا کہ میرے اپنے لوگوں نے مجھے جیت دلانے کے لئے خوش دلی سے ووٹ نہیں ڈالے تھے۔

کیاقرضوں کی معافی اور سیلاب زدگان کی باز آبادکاری میں ریاستی حکومت دیوالیہ ہوگئی ہے؟۔ طلبہ کی اسکالرشپ کے لئے فنڈ نہیں ہے!

آج کل عوام کے ذہنوں میں یہ سوال گونج رہا ہے کہ کسانوں کے قرضوں کی معافی اور سیلاب زدگان کی راحت کاری کے کام میں کیا ریاستی حکومت دیوالیہ ہوچکی ہے۔ جس کی وجہ سے معاشی طور پر کمزور طبقات کے طلبہ کو دی جانے والی اسکالرشپ جاری کرنے کے لئے فنڈ کی کمی ہونے کی بات کہی جارہی ہے۔

منڈگوڈ:بی جے پی کے سابق رکن اسمبلی وی ایس پاٹل کے بیٹے باپو پاٹل نے کیا کانگریس میں شمولیت کااعلان

منڈگوڈ میں بی جے پی کے کٹر حامی خاندان کے طور پر پہچانے جانے والے سابق رکن اسمبلی اور موجود کے ایس آر ٹی سی چیرمین وی ایس پاٹل کے بیٹے اور بی جے پی کے یووا لیڈر باپوپاٹل نے بی جے پی سے رشتہ توڑ کر کانگریس میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے۔

منکی اور مرڈیشور کے ساحل اور محمد حیات کرناٹکا یونیورسٹی دھارواڑ کے کرکٹ یونیورسٹی بلیو منتخب

کھیل کے میدان میں بھٹکل اور اطراف کے کھلاڑیوں کا یونیورسٹی بلیو منتخب ہونا عام ہوتاجارہا ہے، تازہ خبر یہ ہے کہ  پڑوسی علاقہ منکی اور مرڈیشور سے تعلق رکھنےو الے دونوجوان کرکٹ میں کرناٹکا یونیورسٹی دھارواڑ کی کرکٹ ٹیم کے لئے  منتخب ہوگئے ہیں

ایودھیا معاملہ سے منسلک وہ شخصیات، جن کےکام کی وفاداری مذہب پربھاری ثابت ہوئی

سپریم کورٹ کے فیصلےکے بعد ایودھیا معاملے(مندر- مسجد تنازعہ) کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ 135 سال پہلے1885 میں شروع ہوئےایودھیا تنازعہ کی قانونی لڑائی میں کچھ کردارایسے رہے ہیں، جنہیں ان کی ڈیوٹی کے فرائض کولےکرہمیشہ یاد رکھا جائےگا،

نمونیا ایک ایسا مرض، جس کا علاج موجود، پھر بھی مہلک ترین مرض؛ ایک سال میں آٹھ لاکھ بچے جاں بحق

عالمی ادارہ صحت نے ایک رپورٹ جاری کی ہے، جس کے مطابق نمونیا کے مرض میں مبتلا ہو کر گزشتہ برس آٹھ لاکھ شیر خوار اور کم عمر بچے ہلاک ہوئے۔ پاکستان، نائجیریا، بھارت، جمہوریہ کانگو اور ایتھوپیا کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے، جہاں نمونیا کے باعث ہلاک ہونے بچوں کی تعداد تقریباً چار ...

شاعر مشرق علامہ اقبال کی یوم پیدائش ؛ کیا آج کا پاکستان علامہ اقبال کے خواب کی تعبیر ہے؟

پاکستان قائم ہونے کے 72 سال بعد آج بھی علمی و ادبی حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ پاکستان کا خواب دیکھنے والے علامہ اقبال اصل میں کس طرح کا پاکستان دیکھنا چاہتے تھے۔انہیں مفکر پاکستان کہا جاتا ہے۔ ہندوستان سے تاج برطانیہ کی رخصتی اور دو آزاد مملکتوں کے قیام سے بہت پہلے علامہ اقبال ...

 دلوں کو تقسیم کرنے والی دیوارِ برلن کی یادیں اب بھی باقی ہیں 

جرمنی کو دو حصوں میں تقسیم کرنے والی تاریخی دیوارِ برلن کو گرے 30 سال مکمل ہوگئے ہیں لیکن اس کی یادیں آج بھی باقی ہیں۔دیوار کی موجودگی تک یہ ملک مشرقی جرمنی اور مغربی جرمنی کہلاتا تھا۔ یہ دیوار 1961 میں تعمیر کی گئی تھی۔دیوار برلن جنگ عظیم دوم کے بعد تعمیر ہوئی تھی۔

بابری مسجد۔رام جنم بھومی تنازعہ؛ خدا کی قسم، کوئی بھی ذی شعور مندر اور مسجد کے لئے اپنے گھر کو آگ نہیں لگائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ از: سید خرم رضا

بابری مسجد۔رام جنم بھومی تنازعہ پر ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ کا فیصلہ دس دن کے اندر آنے والا ہے۔ وزیر اعظم سے لے کر ہندو اور مسلمانوں کی تمام نمائندہ تنظیموں کے رہنما اپیل کر رہے ہیں کہ عوام کو خوش دلی سے عدالت کا جو بھی فیصلہ آئے اسے قبول کرنا چاہیے۔ فیصلہ اگر حق میں ...