کیا جے ڈی نائک کی جلد ہوگی کانگریس میں واپسی؟!۔دیشپانڈے کی طرف سے ہری جھنڈی۔ کانگریس کر رہی ہے انتخابی تیاری

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 28th January 2019, 9:39 PM | ساحلی خبریں | ریاستی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

بھٹکل 28؍جنوری (ایس او نیوز) ایسا لگتا ہے کہ حالیہ اسمبلی انتخابات سے چند مہینے پہلے کانگریس سے روٹھ کر بی جے پی کا دامن تھامنے اور بی جے پی کے امیدوار کے طور پر فہرست میں شامل ہونے والے سابق رکن اسمبلی جے ڈی نائک کی جلد ہی دوبارہ کانگریس میں واپسی تقریباً یقینی ہوگئی ہے۔ اہم ذرائع کے مطابق اس کے لئے ضلع انچارج وزیر آر وی دیشپانڈے کی جانب سے بھی ہری جھنڈی دکھا دی گئی ہے۔

کانگریس پارٹی میں  واپسی: اس امکان کو تقویت اس بات سے بھی ملتی ہے کہ اسمبلی الیکشن میں بی جے پی سے ٹکٹ نہ دئے جانے پر جے ڈی نائک پارٹی سے ناراض دکھائی دے رہے تھے اور پارٹی کے کسی بھی پروگرام میں شامل نہیں ہورہے تھے۔جس سے صاف ظاہر ہورہا تھا  کہ وہ بی جے پی سے بدظن ہوگئے ہیں۔ دوسری طرف پچھلے چند مہینوں سے وہ ضلع انچارج وزیر دیشپانڈے سے بھی مسلسل رابطے میں تھے۔ذرائع کا  کہنا ہے کہ اس ضمن میں آر وی دیشپانڈے نے سوموار کے دن سابق رکن اسمبلی منکال وئیدیا سے بھی بات چیت کی ہے۔بتایاجاتا ہے کہ مقامی کانگریسی لیڈروں سے منظوری ملنے کے بعد جے ڈی نائک نے کے پی سی سی صدر دنیش گنڈو راؤ کو دوبارہ کانگریس میں اپنی شمولیت کے لئے درخواست بھیج دی ہے۔اب کے پی سی سی کی طرف سے اجازت ملتے ہی دوبارہ کانگریس میں واپسی کی تاریخ اور مقام کا تعین کیاجانے والا ہے۔

پارلیمانی امیدوار کون؟: کانگریس پارٹی کی طرف سے آئندہ لوک سبھا انتخابات کے پیش نظر ضلع شمالی کینرا میں ہلچل اور تیاری تو شروع ہوگئی ہے ، مگر پارٹی کا امیدوار کون ہوگا اس تعلق سے ابھی کوئی واضح اشارہ پارٹی کی جانب سے نہیں مل رہا ہے۔کہاجاتا ہے کہ کانگریس ہائی کمان کی طرف سے دیشپانڈے کو میدان میں اترنے کے لئے آمادہ کرنے کی کوشش ہورہی ہے ،جبکہ خود دیشپانڈے اس سلسلے میں ابھی کوئی دلچسپی نہیں دکھا رہے ہیں۔اس کے علاوہ سابقہ پارلیمانی انتخاب میں شکست کا منھ دیکھنے والے پرشانت دیشپانڈے دوبارہ میدان میں اترنے کے امکانات بہت کم نظر آتے ہیں۔ دوسری طرف مارگریٹ آلوا کے فرزند نویدیت آلوا کے بارے میں سمجھاجاتا ہے کہ اگر موقع ملے تو وہ میدان میں اتر کرقسمت آزمانے کے لئے تیار ہیں، لیکن کانگریس کمیٹی کے اندر اس تعلق سے حمایت ملنے کے امکانا ت نہیں ہیں۔

کیا جنتادل کا امیدوار ہوگا!: سیاسی حلقوں میں کینرا سیٹ کے لئے کانگریس پارٹی کے پارلیمانی امیدوار کے طور پر جو نام سب سے زیادہ ابھر کر سامنے آرہا ہے ، وہ راجیہ سبھا کے رکن بی کے ہری پرساد کا ہے۔لیکن مخلوط ریاستی حکومت کی ایک فریق پارٹی جنتادل ایس کی طرف سے اپنے لئے پارلیمانی انتخابات میں 12 نشستیں دینے کا مطالبہ کانگریس ہائی کمان سے کیا گیا ہے۔اس وجہ سے کانگریسی لیڈروں کے ذہن میں یہ سوال بھی ابھر رہا ہے کہ کہیں شمالی کینرا کی سیٹ پر جنتادل کی نظریں نہ ہوں اور ان 12سیٹوں میں اس حلقے کا مطالبہ بھی شامل نہ ہو۔لہٰذا ہری پرساد کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ پہلے کانگریس اور جنتا دل کو اپنی سیٹوں کی تقسیم کا مسئلہ حل کر لینے دو ، اس کے بعد ہی ہری پرساد انتخاب میں اترنے یا نہ اترنے کا فیصلہ کریں گے۔

ہری پرساد مضبوط دعویدار...مگر: کانگریس کے سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے کہ اگر اس انتخاب میں بی جے پی کو شکست دینی ہے تو پھر پسماندہ طبقے سے کسی کو امیدوار بنانا ہوگا۔ اسی نقطۂ نظر سے کانگریس پارٹی پسماندہ طبقے سے ہی امیدوار کی تلاش میں ہے۔اس لحاظ  سے راجیہ سبھا رکن بی کے ہری پرساد ایک مناسب ترین امیدوار ہیں۔ لیکن کانگریس کو ڈر ہے کہ ان کے خلاف بی جے پی یہ پروپگنڈہ کرے گی کہ ہری پرساد ضلع شمالی کینرا سے باہر کے امیدوار ہیں۔ اس منفی پہلو سے تشہیر کا نقصان کانگریس کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔اس کے علاوہ چونکہ ہری پرساد کانگریس ہائی کمان کے ساتھ بہت قریبی روابطہ رکھتے ہیں، اس لئے ان کے انتخاب جیتنے کی صورت میں ضلع شمالی کینرا میں آر وی دیشپانڈے کی گرفت کانگریسی لیڈروں اور ضلع کمیٹی پر کمزور پڑجائے گی۔

کیا جے ڈی نائک ہوں گے امیدوار؟: اس پہلو پر غور کریں تو اندازہ ہوجاتا ہے کہ کانگریسی امیدوار بننے کے زیادہ امکانات اسی کے حق میں ہیں جو کہ دیشپانڈے کیمپ سے تعلق رکھتا ہو، اور اسی کے لئے زیادہ کوشش بھی ہونے والی ہے۔اس کے علاوہ کانگریس ورکنگ کمیٹی کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا کے ساتھ بھی بی کے ہری پرساد کے تعلقات کچھ زیادہ خوشگوار نہیں ہیں۔ایسے میں دیشپانڈے کی مرضی اور کوشش کو زیادہ ترجیح ملنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ان سب حالات کے پیش نظر نامدھاری طبقے کے بھیمنّا نائک اور جے ڈی نائک کے نام امیدوار کے بطور ابھرنے لگے ہیں۔اور زیادہ توقع اس بات کی ہے کہ اگر جنتا دل کی طرف سے کینرا سیٹ کا مطالبہ نہیں ہوتااور یہ سیٹ وہ کانگریس کے لئے چھوڑ دیتی ہے تو پھر ہری پرساد کے نام پر غور نہ ہونے کی صورت میں جے ڈی نائک کو ہی امیدوار بنایا جانا کوئی تعجب کی بات نہیں ہوگی۔ضلع کے سیاسی حالات میں بدلتے ہوئے تازہ حالات کو دیکھ کراس  بات کا قوی امکان پید ا ہوگیا ہے کہ شاید کینرا پارلیمانی سیٹ پر سابق رکن اسمبلی جے ڈی نائک کوہی کانگریس اپنا امیدوار بنائے گی۔ معلوم ہوا ہے کہ بطور امیدوار کانگریسی لیڈروں کے سامنے ان کے نام کی تجویز پیش کی گئی ہے۔دیکھنا ہوگا کہ یہ سیاسی اونٹ اب کس کروٹ بیٹھنے والا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

بنٹوال میں ایمبولینس اور ٹرک کا تصادم۔ 1خاتون ہلاک، 4زخمی    

نیرلکٹے کے پاس پیش آنے والے ٹرک اور ایمبولینس کے تصادم میں ایک خاتون موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جبکہ ایمبولینس میں موجود مریض سمیت دیگر 4افراد زخمی ہوگئے ہیں، جنہیں علاج کے لئے پتور کے سرکاری اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔

کاروار:اپنی نجی خواہشات کے لئے دوسروں پر الزام عائد نہ کریں : وزیر دیش پانڈے کا ہیبار پرپلٹ وار

اغی گروپ میں شامل یلاپور کے رکن اسمبلی شیورام ہیبار نےاپنے فیس بک پیج پر ضلع نگراں کار وزیر آر وی دیش پانڈے کے خلاف لگائے گئے الزاما ت کا وزیر دیش پانڈے نے بھی فیس بک پر  ہی  کچھ اس طرح جواب دیا ہے۔ ’ہیبار اپنے نجی اور انفرادی فیصلوں اور خواہشات کے لئے خود ذمہ دار ہیں ، اس ...

اڈپی ضلع پولیس نے کروائی گائیں چرانے کے معاملات میں ملوث157 افرادکی پریڈ۔ شہر بدرکرنے اور غنڈہ ایکٹ لاگو کرنے کی دی گئی وارننگ

اڈپی ضلع میں پولیس نے گائیں چرانے کے معاملات میں شامل رہنے والے افراد کو مختلف مقامات پر طلب کرکے ان کی اجتماعی پریڈ کروائی اور انہیں تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ اس طرح کی وارداتوں میں اگر وہ ملوث ہونگے تو پھر ان کے خلاف شہر بدر کرنے یا پھر غنڈہ ایکٹ لاگو کرنے جیسے اقدامات کیے ...

مفرورمنصورخان کاایک اورویڈیو 24 گھنٹے میں ہندوستان واپسی کاوعدہ!

لوگوں کو کروڑوں روپئے کا دھوکہ دینے والی پونزی کمپنی آئی ایم اے کے بانی وایم ڈی محمد منصور خان کیا واقعی 24 گھنٹوں میں ہندوستان واپس لوٹ آئیں گے؟ جبکہ اس گھپلے کی جانچ کررہی ایس آئی ٹی نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ منورخان کا پاسپورٹ انٹرپول کے ذریعہ کالعدم قرار دیا گیا ہے -

کرناٹک : استعفیٰ دینے والوں کی فہرست میں یلاپور رکن اسمبلی ہیبار بھی شامل۔کیاوزارت کے لالچ میں چل پڑے آنند اسنوٹیکر کے راستے پر؟

ریاست کرناٹک  میں جو سیاسی طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے اور اب تک کانگریس، جے ڈی ایس مخلوط حکومت کے تقریباً 13 اراکین اسمبلی اپنا استعفیٰ پیش کرچکے ہیں اس سے مخلوط حکومت پر کڑا وقت آن پڑا ہے اور قوی امکانا ت اسی بات کے دکھائی دے رہے ہیں کہ دونوں پارٹیوں کے سینئر قائدین کی جان توڑ کوشش ...

بھٹکل میں 110 کے وی اسٹیشن کے قیام سے ہی بجلی کا مسئلہ حل ہونے کی توقع؛ کیا ہیسکام کو عوامی تعاون ملے گا ؟

بھٹکل میں رمضان کے آخری دنوں میں بجلی کی کٹوتی سے جو پریشانیاں ہورہی تھی، سمجھا جارہا تھا کہ  عین عید کے  دن  بعض نوجوانوں کے  احتجاج کے بعد  اُس میں کمی واقع ہوگی اور مسئلہ حل ہوجائے گا، مگر  عید الفطر کے بعد بھی  بجلی کی کٹوتی یا انکھ مچولیوں کا سلسلہ ہنوز جاری ہے اور عوام ...

بھٹکل تعلقہ اسپتال میں ضروری سہولتیں تو موجود ہیں مگر خالی عہدوں پر نہیں ہورہا ہے تقرر

جدید قسم کا انٹینسیو کیئر یونٹ (آئی سی یو)، ایمرجنسی علاج کا شعبہ،مریضوں کے لئے عمدہ ’اسپیشل رومس‘ کی سہولت کے ساتھ بھٹکل کے سرکاری اسپتال کو ایک نیا روپ دیا گیا ہے۔لیکن یہاں اگر کوئی چیز نہیں بدلی ہے تو یہاں پر خالی پڑی ہوئی اسامیوں کی بھرتی کا مسئلہ ہے۔ 

آر ایس ایس کی طرح کوئی مسلم تنظیم کیوں نہیں؟ از: ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز

مسٹر نریندر مودی کی تاریخ ساز کامیابی پر بحث جاری ہے۔ کامیابی کا سب کو یقین تھا مگر اتنی بھاری اکثریت سے وہ دوبارہ برسر اقتدار آئیں گے اس کا شاید کسی کو اندازہ نہیں تھا۔ دنیا چڑھتے سورج کی پجاری ہے۔ کل ٹائم میگزین نے ٹائٹل اسٹوری مودی پر دی تھی جس کی سرخی تھی ”India’s Divider in Chief“۔

خود کا حلق سوکھ رہا ہے، مگر دوسروں کو پانی فراہم کرنے میں مصروف ہیں بھٹکل مسلم یوتھ فیڈریشن کے نوجوان؛ ایسے تمام نوجوانوں کو سلام !!

ایک طرف شدت کی گرمی اور دوسری طرف رمضان کا مبارک مہینہ  ۔ حلق سوکھ رہا ہے، دوپہر ہونے تک ہاتھ پیر ڈھیلے پڑجاتے ہیں،    لیکن ان   نوجوانوں کی طرف دیکھئے، جو صبح سے لے کر شام تک مسلسل شہر کے مختلف علاقوں میں پہنچ کر گھر گھر پانی سپلائی کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ انہیں  نہ تھکن کا ...

مودی جی کا پرگیہ سنگھ ٹھاکور سے لاتعلقی ظاہر کرنا ایسا ہی ہے جیسے پاکستان کا دہشت گردی سے ۔۔۔۔ دکن ہیرالڈ میں شائع    ایک فکر انگیز مضمون

 وزیر اعظم نریندرا مودی کا کہنا ہے کہ وہ مہاتما گاندھی کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کو دیش بھکت قرار دیتے ہوئے ”باپو کی بے عزتی“ کرنے کے معاملے پر پرگیہ ٹھاکورکو”کبھی بھی معاف نہیں کرسکیں گے۔“امیت شاہ کہتے ہیں کہ پرگیہ ٹھاکور نے جو کچھ کہا ہے(اور یونین اسکلس منسٹر اننت کمار ہیگڈے ...