کیا بھٹکل جالی ساحل سیر و تفریح کے لئے ہوگیا ہے غیر محفوظ؟ شہریوں کے لئے کیا ہے اس کا متبادل ؟!

Source: S.O. News Service | Published on 23rd January 2021, 8:55 PM | ساحلی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

بھٹکل،23؍جنوری (ایس او نیوز) بھٹکل تعلقہ میں  مرڈیشور ساحل اور مرڈیشور کا  مندر ملکی اور بین الاقوامی سطح پر شہرت یافتہ سیاحتی مرکز ہے۔ اس کے بعد بھٹکل شہر سے قریب جالی بیچ ان دنوں سیر و تفریح کرنے والوں کے لئے بہت زیادہ دلکش بنتا جارہا ہے۔

یہاں پر شام کے وقت غروب آفتاب کا نظارہ کرنے کے علاوہ شہر کے جھمیلوں سے دور تھوڑی دیر تازہ ہوا، سمندری موجوں اور  قدرتی نظارہ کا لطف اٹھانے والوں کی بھیڑ روز بروز بڑھتی جارہی ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ یہاں پر تعمیر کچھ خوبصورت مکانات کرایے پر دستیاب رہنے کی وجہ سے لوگ شادی بیاہ سے متعلق خصوصی دعوتیں یا پھر فیملی  گیٹَ ٹوگیدر، پارٹیوں اور تفریحی پروگراموں کے لئے جالی بیچ کو ترجیح دینے لگے ہیں۔

سماجی ذمہ داران کی تشویش: مگر پچھلے کچھ مہینوں سے یہاں پر وقفہ وقفہ سے کچھ ناخوشگوار واقعات، کشیدگی اور کشمکش کی خبریں ملنے لگی ہیں، جو اس علاقے میں بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ حساسیت اور دبی ہوئی چنگاریوں کے اشارے کر رہی ہیں۔ جس بڑی تعداد میں عصر ہوتے ہی مرد و خواتین، بچوں اورنوجوانوں کے  جھنڈ جالی بیچ کی طرف رواں دواں ہوتے ہیں اور شام سے دیر رات تک ساحل پر خوش گپیوں، سیر وتفریح اور وقت گزاری کی سرگرمیاں چلتی ہیں انہیں دیکھتے ہوئے سماجی ذمہ داروں کے اندر تشویش اور فکر مندی جنم لے رہی ہے۔ 

کیا ہے یہاں کی صورت حال ؟ :  جالی بیچ بنیادی طور پر غیر مسلم ماہی گیروں کی اکثریت والا علاقہ ہے۔ مسلم آبادی کے بعد ایک لمبے فاصلہ پربھی غیر مسلم باشندوں کی رہائش موجود ہے۔ دوسری طرف سیر و تفریح کے لئے جانے والوں کی اکثریت مسلم نوجوانوں اور جوڑوں کی ہے۔ ساحل کی طرف جانے والی سڑک پر بھیڑکے ہاتھوں بھاجی ترکاری، جاسمین کے پھول، مختلف قسم کے فروٹ، اسنیاکس ، مشروبات وغیرہ فروخت کرکے اپنا کاروبار بڑے اچھے پیمانے پر چمکانے والے بھی مقامی غیر مسلم ہیں۔جبکہ صرف سمندر کے سامنے کرایے پر ملنے والے چند مکانات مسلمانوں کی ملکیت ہیں۔ حال کے دنوں میں یہاں آدھی رات کو سیر و تفریح کے لئے آتے جاتے لوگوں کو مقامی افراد کی جانب سے روکنے یا پھر پارٹی منانے والوں کے شور و ہنگامہ کے خلاف  شکایت کے بعد پولیس افسران کے موقع پر پہنچنے جیسے معاملات پیش آ چکے ہیں۔ اور ایسی خبریں سوشیل میڈیا پر وائس مسیج سے عام ہونگی تو ظاہر سی بات ہے کہ ماحول میں کشیدگی پیدا ہوگی، جس کے بعد کسی انہونی واردات پیش آنے میں زیادہ دیر نہیں لگتی۔ اس پہلو سے سماج کے ذمہ داروں کی تشویش حق بجانب ہے۔

آخریہاں مسئلہ کیا ہے ؟!: سیر و سیاحت کرنے والوں سے فائدہ رہنے کے باوجوداعتراضات اٹھانے اور مسائل کھڑے کرنے کا سلسلہ بھی یہاں کے غیر مسلم رہائشیوں کی طرف سے شروع ہورہا ہے۔ یہاں کے باشندوں کے اہم اعتراضات یہ ہیں کہ دیر رات تک ساحل پر یا پھر کرایے کے اسٹے ہوم میں رہنے والوں کی طرف سے ہنگامہ خیز موج مستی، چیخ و پکار اور شورشرابا اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ وہاں پر رہنے والے دوسرے لوگوں کی نیندیں حرام ہوجاتی ہیں۔ پارٹیوں کے وقت اتنی بلند آواز میں ساونڈ سسٹم کا استعمال کیا جاتا ہے کہ قریب میں رہنے والوں کے کان پھٹ جاتے ہیں۔ پارٹیوں کے بعد بچا کچا کھانا اور کچرا جہاں چاہے وہاں پھینک دیا جاتا ہے جو صحت عامہ کے لئے نقصان دہ ہونے کے علاوہ  اس سے ماحولیاتی آلودگی حد سے زیادہ بڑھ رہی ہے۔ ایک گمبھیر الزام یہ بھی لگایا جارہا ہے کہ یہاں کی اسٹے ہوم والی  بعض عمارتیں پنچایت کی باضابطہ اجازت کے بغیر تعمیر کی گئی ہیں۔

کیا ہیں سیاحوں کی شکایات؟: سیر و تفریح  کے لئے ساحل پر جانے یا کچھ دنوں کے لئے آرام و راحت پانے کی نیت سے سمندری کنارے پر واقع مکانات میں قیام کرنے والوں کو شکایت ہے کہ مقامی باشندے چھوٹی چھوٹی باتوں پر بلا وجہ انہیں ہراساں کرتے ہیں۔ رات کے وقت ساحل پر خاموش اور خوشگوار انداز میں وقت گزاری کرنے والوں سے مقامی افراد خواہ مخواہ پوچھ تاچھ اور تفتیش کیا کرتے ہیں۔ پھرتکرار سے آگے بڑھ کر مار پیٹ اور ظلم و زیادتی پر اتر آتے ہیں۔ اور ان سب کے باوجود پولیس کی طرف سے اس زیادتی کو روکنے اور سیاحوں کو راحت دلانے کے سلسلے میں کوئی اقدام نہیں ہوتا۔

کیا سیر و تفریح کے اوقات مقرر ہونگے؟: بعض حلقوں کی جانب سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہےکہ جالی بیچ جو کہ سیرو تفریح کا اہم ترین مرکز بنتا جارہا ہے، اس کو ٹورزم کے نقطہ نظر سے ترقی دی جائے کیونکہ پورے ملک میں سمندری ساحل ہی سب سے زیادہ سیاحوں کی دلکشی کا سبب بنتے ہیں۔ جبکہ کچھ لوگوں کی طرف سے یہ بھی مطالبہ ہورہا ہے کہ سیر و تفریح کی اہمیت کے ساتھ وہاں پر پائی جارہی موجودہ رسہ کشی کو دیکھتے ہوئے سیر و تفریح کے لئے آنے جانے کے کچھ اوقات مقرر کیے جائیں اور دیر رات تک ساحل پر مٹر گشتی کرنے والوں پر پابندی لگائی جائے۔

کیا ہے پولیس اور انٹلی جنس کی سرگرمی؟:  اہم ذرائع سے ملی اطلاعات کے مطابق جالی بیچ پر سیاحوں کی سرگرمیوں اور وہاں پر ابھر رہی صورت حال کے تعلق سے محکمہ پولیس او رانٹلی جنس کے افسران متحرک ہوگئے ہیں اور اپنے منصوبے کے مطابق تفصیلات اور معلومات جمع کرنے میں جٹ گئے ہیں۔ انہوں نے پنچایت افسران سے عمارتوں کے اجازت نامے کے بارے میں زبانی طور پر معلومات حاصل کی ہیں۔ اور جالی بیچ پر کچھ پابندیاں لگانے کے سلسلے میں سنجیدگی سے غور و خوض ہورہا ہے۔

کیا کہتے ہیں پنچایت چیف آفیسر: جالی پٹن پنچایت چیف آفیسر اجئے کا کہنا ہے کہ" جالی بیچ پر حالیہ دنوں میں پیدا ہونے والی صورت حال کے تعلق سے پولیس افسران نے  ہمارے پاس پہنچ کر معلومات حاصل کی ہیں۔ اس تعلق سے ہم محتاط اورچوکنا ہوگئے ہیں۔ اپنے اعلیِٰ افسران سے تبادلہ خیال کرنے کے بعد ہم ضروری اقدام کریں گے۔" 

کیا ہے اس کا پہلا متبادل: جالی ساحل کا علاقہ سیر و سیاحت کے لئے خصوصاً شام کے وقت زیادہ محفوظ نہ رہنے اور کسی بھی وقت ناخوشگوار صورت حال پیدا ہونے کے خدشات کو دیکھتے ہوئے اس کا سب سے بڑا متبادل تو یہی ہے کہ اپنے بیوی بچوں اور دیگر گھر والوں کے ساتھ اس طرح کے ساحلی علاقوں میں شام کے بعد سیر کے لئَے جانے سے گریز کیا جائے۔ راتوں کو کرایے کے مکان میں قیام کریں تو اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ شور و غوغا اور ہنگامہ خیزی نہ ہو اور آس پاس کے لوگوں کے آرام و سکون میں خلل نہ پڑے۔ اور ان کو الجھنے یا تنازع کھڑا کرنے کا موقع نہ ملے۔

یہ ہوسکتا ہے دوسرا متبادل: اس سے ہٹ کر ایک اور متبادل یہ ہو سکتا ہے کہ شام کی تفریح کے لئے 'نستار بیچ' کو ترجیح دی جائے جو کہ قدرے محفوظ ہے اور ساحل کے قریب کی آبادی بھی اہل و عیال کے ساتھ وقتی قیام کے لئے زیادہ موافق ہے۔ حالانکہ یہ علاقہ بھی شہر سے جالی جتنا ہی دور ہے مگر اب چونکہ 'آگرا کاٹ' پر ندی کے اوپر نیا پل تعمیر ہوگیا ہے اس لئے نستار بیچ تک موٹر گاڑیوں سے بحفاظت پہنچنے اور واپس لوٹنے کے لئے یہ راستہ زیادہ قابل ترجیح ہے۔ پتہ چلا ہے کہ منڈلّی گرام پنچایت اس طرح سیاحت کو فروغ دینے اور سیر و تفریح کرنے والوں کے لئے بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کے منصوبے پر سنجیدگی سے غور کررہی ہے۔

    پھر بھی لاکھ ٹکے کی ایک بات یہی ہے(بشیر بدر کاشعر ذرا سی ترمیم کے ساتھ) کہ :
 یوں ہی بے سبب نہ پھِرا کرو، سرِ شام گھر میں رہا کرو
     وہ غزل کی سچی کتاب ہے، اسے چپکے چپکے پڑھا کرو

ایک نظر اس پر بھی

یلاپور میں پٹرول ، ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کےخلاف لاری مالکان تنطیموں کا احتجاج

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں لگاتار اضافے کی مخالفت میں لاری مالکان کے مختلف تنظیموں نے جمعہ کو شہر میں بند منایا۔ لاری، آٹو، ٹیاکسی اوردیگر تجارتی سواریوں نے بھی بند میں شامل ہوتےہوئے حمایت کی۔ تنظیموں نے تحصیلدار کی معرفت ریاستی گورنر اور ضلع نگراں کار وزیر کو میمورنڈم ...

یلاپور کی نندولی دیہات کی طالبہ کا اغواء کاری معاملہ : ماں کے خوف سےخود لڑکی نے  گھڑی تھی جھوٹی کہانی  

یلاپور تعلقہ نندولی دیہات میں دسویں میں زیر تعلیم طالبہ کے اغواءکاری معاملے کی  سچائی کا پتہ چلتے ہی جانچ میں جٹی پولس ٹیم حیرت میں پڑگئی ہے۔ لڑکی نے جھوٹی کہانی گھڑتے ہوئے خود اغواء ہونےکا ناٹک رچے جانے کی بات لڑکی نے پولس کے سامنے بیان کی ہے۔

بھٹکل رتھ اتسوا امن و شانتی کے ساتھ ہوا اختتام پزیر

بھٹکل چن پٹن ہنومان مندر کا رتھ اتسوا امن و شانتی کے ساتھ اختتام پزیر ہوا۔ سالانہ جاترا کی مناسبت رتھ اتسوا اپریل کے مہینے میں منعقد ہوتا ہے۔ لیکن کووڈ وباء اور لاک ڈاون کے پیش نظر گزشتہ سال یہ تہوار منایا نہیں گیا تھا۔ اس لئے امسال کے طے شدہ تہوار سے قبل 26 فروری کو گزشتہ سال کا ...

’ وشوگرو‘ کسے کہاگیا ؟ : عوامی تحریکات کو غلط رخ دینے والے ’آندولن جیوی‘ کون ہیں ؟ معروف کنڑا روزنامہ پرجاوانی کی خصوصی رپورٹ

کرناٹک کی بات کریں تویہاں  بی جےپی کی کوئی بنیاد ہی نہیں تھی ۔ ہبلی عیدگاہ میدان اور چک منگلورو کے بابابڈھن گری جیسے تنازعوں کے سہارے بی جے پی  یہاں اپنے قدم جمانے میں کامیاب ہوئی ہے، گائے ذبیحہ کا معاملہ چھیڑ کر  اور  فرقہ وارانہ نفرت بو کر بی جے پی نے  ساحلی پٹی پراپنی  جڑیں ...

مسلمانوں پر ملک کی آبادی بڑھانے کا الزام غلط۔سابق چیف الیکشن کمشنر نے اپنی نئی کتاب میں اعداد وشمار پیش کئے ، 70سال میں مسلمانوں کی آبادی صرف4فیصد بڑھی

ملک کے سابق چیف الیکشن کمشنر اور چار کتابوں کے مصنف ایس وائی قریشی نے اپنی تازہ تصنیف’آبادی کا تصور۔ ہندوستان میں اسلام،فیملی پلاننگ اورسیاست‘ منظر عام پر پیش کی ہے۔

ریزرویشن معاملہ: حکومت کا تعصب ایک طرف لیکن مسلمان اپنے حقوق کی حصولیابی اورسرکاری اسکیمات سے فائدہ اٹھانے میں بھی ناکام۔۔۔۔ روزنامہ سالارکا تجزیہ

کرناٹک میں مختلف طبقات کی طرف سے ریزرویشن کی مانگ کو لے کر ماحول جس طرح دن بہ دن گرمی اختیار کرتا جا رہا ہے اسی درمیان یہ بات بھی سامنے آئی کہ تمام طبقات کیلئے حکومت کی طرف سے آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے ریزرویشن دینے کا وزیر اعلیٰ بی ایس ایڈی یورپا کی طرف سے اعلان کیا گیا-

انکولہ کے ڈونگری دیہات کے طلبا جان ہتھیلی پرلے کرتعلیم حاصل کرنے پر مجبور؛ ایک ماہ کے اندر بریج تعمیر کرکے دینے کا ایم ایل اے نے کیا وعدہ

انکولہ تعلقہ کے  ڈونگری  دیہات کے طلبا کےلئے تعلیم حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ یہاں کے طلبہ کو  ہر روز خطرناک حالت میں جان ہتھیلی پر لےکر ندی پارکرتےہوئے  اسکول پہنچنا ہوتاہے۔