بھٹکل میں بارش سے مچی تباہی کے بعد ضلع انچارج وزیر نے کہا؛ اتی کرم والوں کو بھی دی جائے گی ریلیف

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 8th August 2022, 1:14 AM | ساحلی خبریں |

بھٹکل 7 اگست (ایس او نیوز) ضلع اُترکنڑا  میں شدید بارشوں سے ہونے والے نقصانات کے لیے خصوصی معاوضہ فراہم کرنے کے لیے حکومتی سطح پر کوششیں جاری ہیں۔ بھٹکل میں  اتی کرم  والی زمینات پرتعمیر  مکانات اور دکانوں کو بھی  نقصان پہنچا ہے تو اُنہیں بھی معاوضہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ بات ضلع انچارج وزیر کوٹا سری نواس پجاری نے بتائی۔ وہ  بھٹکل میں یکم اگست  اور 2  اگست کے درمیان ہوئی زبردست بارش سے مچی تباہی کی جائزاتی میٹنگ میں    تعلقہ  کے مختلف آفسران کے ساتھ  معلومات  حاصل کرنے کے  بعد  اخباری نمائندوں سے  بات کررہے تھے۔

اتوار کو  بھٹکل منی ودھان سودھا میں منعقد ہ میٹنگ  کے بعد وزیر موصوف نے بتایا کہ بھٹکل میں ہونے والے نقصانات کا سروے جاری ہے۔ حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ اتی کرم   زمینات پر بھی اگر  کھیتوں، باغات اور مکانات کو نقصان پہنچا ہے تو اس پر  بھی غور کریں۔ انہوں نے کہا کہ ضلع کے مختلف علاقوں میں ہونے والے نقصانات کی سروے رپورٹ بھی جلد موصول ہو جائے گی اور مناسب معاوضہ فراہم کیا جائے گا۔

جائزاتی میٹنگ میں  بھٹکل رکن اسمبلی سنیل نائک، بھٹکل سب ڈیویژن اسسٹنٹ کمشنر ممتادیوی، بھٹکل تحصیلدار ڈاکٹر سومنت، تعلقہ پنچایت چیف آفسر پربھاکر چِکن منے و دیگر موجود تھے۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل: ایس پی کے تبادلے کی افواہوں کو ڈسٹرکٹ انچارج منسڑ نے دی مزید ہوا، کہا؛ افسران کے تبادلے کوئی نئی بات نہیں!

ایماندار افسر کے طورپر مشہور اترکنڑا ضلع ایس پی ڈاکٹر سمن پنیکر کے تبادلے کی افواہوں کو ہوا دیتےہوئے ضلع نگراں کار وزیر پجاری نے کہاکہ افسران کے تبادلے کوئی نئی بات تو نہیں ہے۔

بھٹکل: معاوضہ تقسیم میں تفریق پر رکن اسمبلی کا سخت اعتراض : وزیر شری نواس پجاری نے افسران کو کی فوری کارروائی کی تاکید

گذشتہ ماہ 2اگست کو برسی موسلا دھاربارش سےنقصان اٹھانے والےمتاثرین میں امداد تقسیم کےدوران تفریق کی گئی ہے اور غریبوں کو امداد فراہم کرنےمیں افسران پس و پیش کئے جانے پر رکن اسمبلی سنیل نائک نے سخت اعتراض جتایا ۔

ہلیال:  آوارہ کتوں کو پکڑنے کا معاملہ - چیف آفیسر کے خلاف کیس درج 

آوارہ کتوں کو پکڑ کر جنگل میں چھوڑنا ہلیال ٹی ایم سی کے چیف آفیسر پرشورام شیندے کو مہنگا پڑا کیوںکہ اس کارروائی کو ظالمانہ انداز میں انجام دئے جانے کا الزام لگاَتے ہوئے چیف آفیسر کے خلاف پولیس میں معاملہ درج کیا گیا ہے ۔