بھٹکل : بڑے جانوروں کی قربانی پر سرکاری پابندی کے پس منظر میں بکروں کا کاروبار زوروں پر

Source: S.O. News Service | Published on 19th July 2021, 12:17 PM | ساحلی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

بھٹکل 19/ جولائی (ایس او نیوز)  بقر عید کی آمد کے ساتھ بھٹکل میں بڑے پیمانے پر بڑے جانوروں کی قربانی ہمیشہ ایک معمول رہا ہے ۔ مگر امسال ریاستی حکومت کی پابندیوں کی وجہ سے بڑے جانور لانے اور فروخت کرنے میں جو رکاوٹیں پیدا ہورہی ہیں اس پس منظر میں بکرے کی منڈی بہت زیادہ اچھال پر آگئی ہے۔
    
بھٹکل شہر میں بکروں کے کاروبار کے ماضی میں برسہا برس تک 'سوداگر' فیمیلی کا نام چل رہا تھا ۔ مگر پچھلے چند برسوں سے اس میدان میں 'موٹیا گوٹ فام' نے اپنا جھنڈا لہرایا اور بہترین قسم کے بکروں کی فروخت میں آگے نکل گیا ۔ اب عید قرباں کے موقع پر فروخت کرنے کے لئے راجستھان، مدھیہ پردیش ، مہاراشٹرا وغیرہ سے مختلف اقسام کے بکروں  کی کھیپ بہت بڑی تعداد میں بھٹکل شہر پہنچ چکی ہے ۔ بکروں کے کاروبار میں اس مرتبہ 'موٹیا' کےعلاوہ 'پٹیل'، 'انعام، 'سلطان' ، 'فرینڈز' گوٹ فارم جیسے کچھ نئے نام بھی ابھر کر سامنے آئے ہیں اور انہوں  نے ٹی ایف سی  کے قریب میدان میں اور دوسرے مقامات پر بڑی تعداد میں بکرے فروخت کرنے کا انتظام کیا ہے۔
    
بڑے جانوروں کی قربانی میں دشواری کو دیکھتے ہوئے بھٹکل کے علاوہ مرڈیشور، منکی، شیرور وغیرہ سے لوگ بکروں کی خریدی کے لئے بھٹکل کی طرف رخ  کر رہے ہیں۔ اس مرتبہ فی کیلو 450 روپے تا 475 روپے قیمت چل رہی ہے اور اس اعتبار سے کم اور بھاری قیمتوں والے بکرے مارکیٹ میں دستیاب ہیں مگر متوسط طبقے کی نظر 15 تا 20 ہزار روپے والے بکروں پر ٹکتی نظر آرہی ہے۔

موٹیا گوٹ فام کے ارسلان کے مطابق اس مرتبہ انہوں نے عید کے موقع پر کم از کم 5000 بکرے فروخت ہونے کا ٹارگیٹ رکھا ہے، اگر ڈیمانڈ بڑھ گئی تو پھر مزید بکرے منگوائے جائیں گے ۔ ارسلان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جن کے گھروں کے احاطے میں قربانی کے لئے سہولت نہیں ہے ان کے لئے ہم نے اپنے فارم پر ہی قربانی کرنے کا انتظام کیا ہے۔ 
    
بھٹکل میں اس وقت بہت بڑی تعداد میں بکروں کی منڈی سامنے آنے کے بعد یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ان بکروں کی دیکھ بھال کرنے، چاراپانی دینے اور ضرورت ہونے پر ڈاکٹر سے دوائی وغیرہ حاصل کرنے کے لئے باگلکوٹ، کوپل وغیرہ سے کچھ چرواہوں کو بھی بلوایا گیا ہے، کیونکہ وہ اس کام میں پیشہ ورانہ مہارت رکھتے ہیں۔ بقر عید کا موسم ختم ہونے تک یہ لوگ یہاں قیام کریں گے۔ کوپّل سے تعلق رکھنے والے اوچیرپّا نامی ایک چرواہے نے بتایا کہ ہم لوگ بھٹکل میں آکر دس تا پندرہ دن قیام کرتے ہیں ۔ بکروں کی دیکھ بھال کرکے اچھی خاصی کمائی کرتے ہیں ۔ پھر عید قرباں ختم ہونے کے بعد ہم اپنے گاوں واپس چلے جاتے ہیں۔

یاد رہے کہ بھٹکل  سمیت  ملک کے بیشتر علاقوں میں بدھ 21 جولائی کو عیدالاضحیٰ منائی جارہی ہے۔
 

ایک نظر اس پر بھی

اڈپی : اکشئے مچندرا نے لیا ضلع ایس پی کا چارج

ضلع میں ساورکر بینر کی وجہ سے جو تنازعہ کھڑا ہوا ہے اس کے درمیان اچانک ضلع سپرنٹنڈنٹ آف پولیس وشنو وردھن کا تبادلہ کر دیا گیا اور ان کی جگہ پر ہاکے اکشئے مچندرا نے نئے ایس پی کا چارج لے لیا ۔

بھٹکل : شمس الدین سرکل پر عمل میں آیا ٹریفک پولیس چوکی کا قیام

شہر کے قلب میں واقع شمس الدین پر موٹر گاڑیوں کی آمد و رفت کی نگرانی اور ٹریفک قوانین کی پابندی کو یقینی بنانے کے لئے ٹاون پولیس اسٹیشن کی طرف سے ایک ٹریفک پولیس چوکی کا قیام عمل میں آیا جس کا افتتاح بھٹکل ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے یو بیلی اپّا نے کیا ۔

کیرالہ کے کُمبلے میں منعقدہ کبڈی ٹورنامنٹ میں بھٹکل ٹیم نے ماری بازی؛ کوپلّا ٹیم کو دی فائنل میں شکست

  کیرالہ کے کاسرکوڈ ۔کُمبلے میں منعقدہ  انڈر 18 کبڈی ٹورنامنٹ میں بھٹکل کبڈی فرینڈس (KBF) نے شاندار کھیل کا مظاہرہ پیش کرتے ہوئے فائنل میں کیرالہ کی کوپّل ٹیم کو شکست دے کر ٹرافی اپنے نام کرلی ہے۔

بھٹکل:  شیرالی جماعت کے لگائے گئے الزامات میں کوئی سچائی نہیں؛مقابل فریقین کی وضاحت

یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہم مندرجہ ذیل دستخط کنند گان شیرالی جماعت اور مسجد کی زمین سے متعلق جو  تنازعہ پیدا ہوا ہے وہ معاملہ ایک عرصہ سے عدالت میں چل رہا ہے۔ مسجد کی تعمیر اور مکانات کی تعمیر کے لئے جو جگہ استعمال ہوئی ہے۔اس میں کچھ لوگوں کی ذاتی زمین شامل ہے جسے حل کرنے کی ...

کاروار: الگیری شہری ہوائی اڈہ : بازآبادکاری کے لئے بقیہ فنڈ طلب کیا گیا ہے - کوٹا سرینواس پجاری کا بیان

پولیس پریڈ گراونڈ میں جشن آزادی کی تقریب میں حصہ لینے کے بعد ضلع انچارج وزیر کوٹا سرینواس پجاری نے اخباری نمائندوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ انکولہ کے الگیری میں مجوزہ شہری ہوائی اڈہ کی تعمیر کے لئے تحویل اراضی کا کام جاری ہے اور بے گھر ہونے والوں کی بازآباد کاری کے لئے بقایا فنڈ ...

کاروار : پلٹی ہوگیا ملٹی اسپیشالٹی ہاسپٹل کا اعلان - سی ایم مصروف ہیں - پرائیویٹ پارٹی تیار نہیں - ضلع انچارج نے مانگی مزید مہلت 

ضلع انچارج وزیر کوٹا سرینواس پجاری نے ایک دن پہلے جشن آزادی میں پرچم کشائی کے بعد خطاب اعلان کیا تھا کہ ضلع میں پبلک - پرائیویٹ پارٹنرشپ کی بنیاد پر جلد ہی ملٹی اسپیشالٹی ہاسپٹل کا قیام عمل میں آئے گا - اور یہ بھی بتایا تھا اس ضمن میں اگست 16-17 کو وزیر اعلیٰ کا دورہ بھی ہوگا- 

کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری۔۔۔۔۔۔ از: ظفر آغا

جشن آزادی سے بڑھ کر بھلا کون سا جشن ہو سکتا ہے۔ اگر جشن آزادی 75ویں ہو تو پھر تو خوشی جتنی بھی ہو کم ہی سمجھیے۔ تب ہی تو سارا ملک ان دنوں اس جشن میں ڈوبا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہماری نسل جس نے غلامی نہیں دیکھی، اس کو آزادی کی سہی قدر سمجھ پانا مشکل ہے۔

مودی سرکار پر مہنگائی کی مار۔۔۔۔۔۔ از: اعظم شہاب

اب ہم اسے اپنے وزیرداخلہ صاحب کا خوف قراردیں یا مجبوری کہ انہوں نے مہنگائی،بیروزگاری اورمرکزی ایجنسیوں کے غلط استعمال کے خلاف کانگریس کے ملک گیراحتجاج کو رام مندرمخالف یامسلمانوں کی منھ بھرائی قراردیدی۔

آزادی کا امرت مہوتسو اور ایک جانباز ہندوستانی کی داستان شجاعت ۔۔۔۔۔از: سہیل انجم

ہندوستان کی آزادی کو 75 سال ہو گئے۔ گویا 1947 کی نومولود آزادی اپنی پختہ عمر کو پہنچ گئی۔ لیکن مختلف بہانوں سے اس آزادی کو سلب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ آزاد ہندوستان کے معماروں نے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کی قیادت میں ملک کو جس راستے پر ڈالا تھا اس سے بھٹکانے کے جتن کیے ...

آخر گاندھی خاندان سے کس بات کا بیر!۔۔۔۔۔۔ از: ظفر آغا

حکم سرکار کا، خاموش، چپ رہیے، زبان نہ ہلے! اگر محمد زبیر کی طرح حکمراں جماعت کے جھوٹ کو جھوٹ کہا تو جیل جائیے اور سماجی کارکن تیستا سیتلواڈ کی طرح حاکم وقت پر انگلی اٹھائی تو آپ کا بھی وہی حشر ہوگا جو تیستا کا ہوا۔ یعنی بس چپ رہئے اور حاکم وقت یا حکمراں جماعت کے آگے سر باسجود ...

واہ رے میڈیا: گالیاں کھا کے بدمزہ نہ ہوا۔۔۔۔۔از: سہیل انجم

اگر کسی شریف اور غیرت مند آدمی کو ایک بار ہی گالی دے دی جائے یا کچھ ایسا کہہ دیا جائے جو اس کے کردار پر حملہ ہو تو اسے بہت چو ٹ پہنچتی ہے اور وہ خود احتسابی کرنے لگتا ہے کہ آخر اس کے بارے میں ایسا کیوں کہا گیا۔ لیکن اگر کسی بے غیرت شخص کی شان میں گستاخی پر گستاخی کیوں نہ کی جائے اور ...

اتر کنڑا : منتخب عوامی نمائندوں کی وعدہ خلافی ، سرکاری افسران کی بے توجہی اور متحدہ عوامی جد و جہد کی کمی کا شکار ہوا ہے ملٹی اسپیشالٹی ہاسپٹل کا ادھورا خواب 

پچھلے کئی برسوں سے ضلع شمالی کینرا کے لئے ایک جدید ترین وسائل اور سہولتوں والے ملٹی اسپیشالٹی ہاسپٹل کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے ۔ اور جب بھی کوئی بڑا حادثہ ہوتا ہے اور کسی میڈیکل ایمرجنسی کی صورت پیدا ہوتی ہے تو یہ مطالبہ میڈیا اور بالخصوص سوشیل میڈیا میں تیز ہوجاتا ہے ۔ ٹویٹر ...