بھٹکل میں محکمہ جنگلات کے افسران کے ساتھ اجلاس میں احتجاجی کمیٹی کے صدر رویندرا ناتھ کی شرکت

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 13th April 2019, 11:31 PM | ساحلی خبریں |

بھٹکل 13؍اپریل (ایس او نیوز) محکمہ جنگلات کے دفتر میں افسران اور جنگلاتی زمین کے اتی کرم داروں کے ساتھ ایک مشترکہ اجلاس منعقد کیا گیا جس میں جنگلاتی زمین کے حقوق کی جدوجہد کرنے والی ہوراٹا سمیتی کے ضلع صدر رویندرا ناتھ نے شرکت کی۔

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ یہ خبر عام ہوئی ہے کہ محکمہ جنگلات کے افسران نے بھٹکل تعلقہ کے 1863اتی کرم داروں کو ان کے قبضے والی زمینوں سے بے دخل کرنے کے لئے حکومت کو سفارش بھیجی ہے۔ مگر اس بات میں کوئی سچائی نہیں ہے۔اگر کبھی اتی کرم داروں کواس طرح بے دخل کرنے کا قدم اٹھایا گیا تو پھر ہوراٹا سمیتی کی جانب سے ہر قسم کا احتجاج شروع کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ جس زمین پر لوگ رہائش اختیار کرکے 30سے40 برس کا عرصہ گزر چکا ہے۔ گھروں کے ٹیکس اداکیے جارہے ہیں۔ اتی کرم کو سکرم کرنے کی درخواستیں جمع کی گئی ہیں۔ جی پی ایس کا عمل بھی کیا گیا ہے۔اس کے باوجود محکمہ جنگلات کے افسران غریب اتی کرم داروں کو ایک باتھ روم تک باندھنے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔ان کے خلاف مسلسل ظلم وستم کیا جارہا ہے۔ جبکہ امیر اتی کرم داروں کی طرف سے افسران آنکھیں موند لیتے ہیں۔ رویندرانائک نے محکمہ جنگلات کے افسران سے مطالبہ کیا کہ غریب اتی کرم داروں کو انصاف دلانے کا کام کریں۔

اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اے سی ایف بالچندرا نے کہا کہ اتی کرم کے معاملے میں بھٹکل اور ضلع کے دوسرے تعلقہ جات میں بڑا فرق نظر آرہا ہے۔ قبضہ کی گئی زمین پر اتی کرم داروں کی رہائش اہم بات ہوتی ہے۔اتی کرم داروں کو بے دخل کرنے کے لئے حکومت سے کی گئی سفارش کا معاملہ پرانا ہے۔ دوبارہ اس پرکا جائزہ لینے کا کام کیا جارہا ہے۔ پرانا قبضہ داروں کو تنگ کرنے کا کام ہم نہیں کررہے ہیں۔ ماضی میں چند معاملات میں فوجداری مقدمات درج ہوئے ہیں اوراس تعلق سے قانونی کارروائی شروع ہوئی ہے جس کی وجہ سے کچھ مسائل کھڑے ہوگئے ہیں۔ 

اس موقع پر اتی کرم ہوراٹا سمیتی بھٹکل تعلقہ صدر راما موگیرکے علاوہ رضوان، عبدالقیوم، دیوراج وغیرہ موجود تھے۔

ایک نظر اس پر بھی

کیا شمالی کینرا سے شیورام ہیبار کے لئے وزارت کا قلمدان محفوظ رکھا گیا ہے؟

کرناٹکاکے وزیراعلیٰ  ایڈی یورپا نے دو دن پہلے اپنی کابینہ کی جو تشکیل کی ہے اس میں ریاست کے 13اضلاع کو اہمیت دیتے ہوئے وہاں کے نمائندوں کو وزارتی قلمدان سے نوازا گیا ہے۔اور بقیہ 17اضلاع کو ابھی کابینہ میں نمائندگی نہیں دی گئی ہے۔

ساگر مالا منصوبہ: انکولہ سے بیلے کیری تک ریلوے لائن بچھانے کے لئے خاموشی کے ساتھ کیاجارہا ہے سروے۔ سیکڑوں لوگوں کی زمینیں منصوبے کی زد میں آنے کا خدشہ 

انکولہ کونکن ریلوے اسٹیشن سے بیلے کیری بندرگاہ تک ’ساگر مالا‘ منصوبے کے تحت ریلوے رابطے کے لئے لائن بچھانے کا پلان بنایا گیا اور خاموشی کے ساتھ اس علاقے کا سروے کیا جارہا ہے۔

ماڈرن زندگی کا المیہ: انسانوں میں خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان۔ ضلع شمالی کینرا میں درج ہوئے ڈھائی سال میں 641معاملات!

جدید تہذیب اور مادی ترقی نے جہاں انسانوں کو بہت ساری سہولتیں اور آسانیاں فراہم کی ہیں، وہیں پر زندگی جینا بھی اتنا ہی مشکل کردیا ہے۔ جس کے نتیجے میں عام لوگوں اور خاص کرکے نوجوانوں میں خودکشی کا رجحان بڑھتا جارہا ہے۔

منگلورو پولیس نے ایک اور مشکوک کار کو پکڑا؛ پنجاب نمبر پلیٹ والی کار کے تعلق سے پولس کو شکوک و شبہات

دو دن دن پہلے لٹیروں اور جعلسازوں کی ایک ٹولی کے قبضے سے منگلورو پولیس نے ایسی کار ضبط کی تھی جس پر نیشنل کرائم انویسٹی گیشن بیوریو، گورنمنٹ آف انڈیا لکھا ہوا تھا۔اب مزید ایک مشکوک کار کو پولیس نے اپنے قبضے میں لیا ہے۔ جس پر بھی گورنمینٹ آف انڈیا لکھا ہوا ہے۔

مرڈیشور ساحل پر ماہی گیروں اور انتظامیہ افسران کے درمیان پارکنگ جگہ کو لےکر تنازعہ: ماہی گیروں کا احتجاج  

مرڈیشور میں مچھلی شکار پیشہ کے لئے جگہ مختص کرنے اور ماہی گیر کشتیوں کو  محفوظ رکھنے کےلئے جگہ متعین کرنے کے متعلق   ماہی گیروں اور مقامی انتظامیہ کے درمیان پھر ایک بار تنازعہ پیدا ہوگیا ہے۔