بھٹکل کے سی سی ٹی وی کیمرے کیا صرف دکھاوے کےلئے ہیں ؟

Source: S.O. News Service | By V. D. Bhatkal | Published on 4th May 2017, 10:34 PM | ساحلی خبریں | اسپیشل رپورٹس | آپ کی آواز |

بھٹکل:4/مئی (ایس اؤنیوز) شہر بھٹکل پرامن ، شانتی کا مرکز ہونے کے باوجود اس کو شدید حساس شہروں کی فہرست میں شمار کرتے ہوئے یہاں سخت حفاظتی اقدامات کی مانگ کی جاتی رہی ہے۔ مندرنما ’’ناگ بنا ‘‘میں گوشت پھینکنا، شرپسندوں کے ہنگامے ، چوروں کی لوٹ مار جیسے جرائم میں اضافہ ہونے کے باوجود شہری عوام حفاظتی اقدامات سےبے اطمینانی کااظہار کئے جانے پر بھٹکل شمس الدین سرکل، مین روڈ، ماری کٹہ، اولڈ بس اسٹائنڈ، پھول مارکٹ وغیرہ  جیسے مختلف مقاما ت پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرتے ہوئے حفاظتی اقدامات کو سخت کیاجانا طئے ہوا۔ جس کے لئے شہر کے کچھ مالداروں نے بھی معاشی طورپر تعاون کیا تو لاکھوں روپئے کی لاگت سے شہر کے مختلف جگہوں پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے اور اسکی بہتر تشہیر بھی کی گئی اور عوام نے ایک گونہ اطمینان کی سانس لی، کہ چلو! آخر کچھ تو ہوا۔

مگر اب اطلاع موصول ہوئی ہے کہ  یہ سی سی ٹی وی کیمرے کام ہی نہیں کررہے ہیں، بتایا گیا ہے کہ انتظامیہ  عید یا دیگر تہواروں، میلوں ٹھیلوں کے موقع پراسپیشل پارٹی کی طرح ان کیمروں  کی دیکھ ریکھ کرتی رہی ، مگر اب افسران کی غفلت کا نتیجہ ہے کہ یہ  کیمرے صرف دکھاوے کے رہ گئے ہیں  اور انتظامیہ بھی شاید کسی ہنگامے کے انتظار میں ہے۔جس کے بعد ہی ان کیمروں کو واپس استعمال کے لائق بنایاجائے گا۔

بھٹکل میں جب ایم نارائن ڈی وائی ایس پی کے طورپر خدمات انجام دے رہے تھے تو شہر میں جانوروں کی سپلائی کے نام پر ہنگامے ، گروہی تصادم، پولس تھانوں کاگھیراؤ جیسے معاملات پر قدغن لگانے کے لئے سنجیدگی سے معاملے کو پیش کیا تھا جس کے لئے انہوں نے مالداروں سے تعاون بھی مانگاتو مقامی سرمایہ داروں اور اداروں نے بھرپور مدد کا وعدہ بھی کیا۔ لیکن اسی دوران نارائن کے تبادلے کے بعدمعاملہ کھٹائی میں پڑگیا۔ پھر اس کے موجودہ منڈیا کے ایس پی سدھیرکمار ریڈی ،جب بھٹکل میں اے ایس پی کے عہدے پر فائز تھے تو سی سی ٹی وی کیمروں کو لے کر دوبارہ بات چیت ہوئی اور جوں توں کرکے 6سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ کیمرے نصب کئے جانے کے بعد اس کی کوئی نگرانی نہیں ہوئی ، جس کانتیجہ یہ ہواکہ تھوڑے عرصہ تک کام کرنے کے بعد کیمرے خاموش ہوگئے ۔

 جب کیپٹن ائیپا ڈی وائی ایس پی تھے تو سی سی ٹی وی کیمروں کولے کر گفتگوہوتی رہی، ان کا تبادلہ ہونے سے کچھ دن پہلے 13سی سی ٹی وی کیمرے عطیہ کنندگان کے تعاون سے خریدے گئے۔ پھول بازار چوک، شمس الدین سرکل ، پرانابس اسٹانڈ، میسور کیفے، مٹن مارکیٹ کراس، پولس اسٹیشن کراس، مصباح  کراس روڈ، محمد علی روڈوغیرہ مختلف جگہوں پر کیمرے نصب کئے گئے تو صرف پولس ہی نہیں بلکہ عوام نے بھی اطمینا ن کی سانس لی ، کپٹن ائیپا بھی تبادلہ ہوکر چلے گئے۔ جس کے ساتھ ہی سی سی ٹی وی کیمرے پھر بند ہوگئے ۔ نصب کئے گئے کیمروں کے متعلق اب کسی کو بھی اطمینان نہیں ہے ، شمس الدین سرکل پر نصب شدہ 2کیمروں کے علاوہ بقیہ کیمروں کا پولس اسٹیشن سے تعلق کب ٹوٹ گیا،  کسی کو کچھ پتہ  نہیں ہے۔ آخر کون اس کی نگرانی کرے گا سب کچھ صیغہ راز میں ہے۔نجی طورپر دکانوں پر لگائے گئے کیمرے راہ گیروں کا انتظار کرتے رہتے ہیں، میلوں ٹھیلوں، عید و تہوار کے موقع پر یاد آنے والے سی سی ٹی وی کیمرے بھولے بسرے گیتوں کی طرح خالی دکھاوے کے ڈبے بن گئے ہیں۔ ہاں ! پھر کوئی ہنگامہ یا معاملہ ہوتاہے تو سی سی ٹی وی کیمروں کی درستگی ، مرمت کا ناٹک شروع ہوگا،

عوامی سطح پر بہت سنجیدہ الزام لگایا جارہاہے کہ  ان کیمروں کو جان بوجھ کر خراب کیا جاتا ہے یا کیمرے کا کنکشن کاٹ دیا جاتا ہے، تاکہ پولس کی نا اہلی اور اُن کی رشوت خوری کیمرے میں بند نہ ہوجائے، اس سلسلے میں پولس کے اعلیٰ افسران کو توجہ دینے کی  ضرورت ہے، عوام کا خیال ہے کہ اگر اس طرف سنجیدگی سے دھیان نہیں دیا گیا تو کسی ہنگامہ پرشہر کے امن میں خلل پڑنا یقینی ہے۔

عوام نے اس سلسلے میں بیان دیتے ہوئے کہاکہ محکمہ پولس کے افسران بار بار دکانوں ، مسجدوں ، مندروں میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کی ہدایات اور تاکید کرتے رہتے ہیں، لیکن محکمہ کی طرف سےہی مختلف جگہوں پر نصب کئے گئے کیمروں کی کہانی کو دیکھنے اور سننے والا کوئی نہیں ہے۔ اس تعلق سے ایک شخص نے  سوال کیا  کہ کیا نصب کئے گئے کیمروں پر بھی سی سی ٹی وی کیمرے لگانے پڑیں گے  کہ آیا اس بات کی جانکاری مل سکے کہ آخر ان کیمروں کے کنکشن کاٹتا کون ہے ؟

ایک نظر اس پر بھی

علاج کے لئے منگلور جانے والے توجہ دیں: منگلورو اور اڈپی کے اسپتالوں میں کل 17جون کو او پی ڈی خدمات رہیں گی بند

 بھٹکل اور اطراف سے کافی لوگ  علاج معالجہ کے لئے پڑوسی ضلع اُڈپی اور مینگلور کے اسپتالوں کا رُخ کرتے ہیں،  ان کے لئے  بری  خبر یہ ہے کہ کل  ڈاکٹروں کے احتجاج کے پیش نظر  مینگلور اور اُڈپی کے اسپتالوں میں باہری  مریضوں  کا علاج  نہیں ہوگا۔

آئی ایم اے میں سرمایہ کاری کرکے دھوکہ کھانے والے متاثرین کی قانونی مدد کے لئے اے پی سی آر کی خدمات دستیاب

آئی ایم اے میں سرمایہ کاری کرکے دھوکہ کھانے والے متاثرین کی قانونی رہنمائی اور اُن کی  مدد کے لئے  اسوسی ایشن فور پروٹیکشن آف سیول رائٹس  (اے پی سی آر)  کی خدمات حاصل کی جاسکتی ہے۔جن  لوگوں نے  اپنی چھوٹی چھوٹی سرمایہ  کاری  اس کمپنی میں کی تھی اور اب وہ کنگال ہوچکے ہیں، اے پی ...

کرناٹکا اُردو اکیڈمی کی جانب سے امسال بھٹکل کے دو صحافیوں کو بھی ایوارڈ؛ 2 اور3 جولائی کو ہوگی بنگلور میں تقریب

 کرناٹکا اُردو اکیڈمی نے امسال پہلی بار بھٹکل کے دو صحافیوں بھٹکل نیوز کے ایڈیٹر عتیق الرحمن شاہ بندری اور پھول میگزین  کے ایڈیٹرمولوی عبداللہ دامدا ابو ندوی  کو    ایوارڈ سے نوازے جانے کا اعلان کیا ہے۔

بھٹکل تعلقہ اسپتال میں ضروری سہولتیں تو موجود ہیں مگر خالی عہدوں پر نہیں ہورہا ہے تقرر

جدید قسم کا انٹینسیو کیئر یونٹ (آئی سی یو)، ایمرجنسی علاج کا شعبہ،مریضوں کے لئے عمدہ ’اسپیشل رومس‘ کی سہولت کے ساتھ بھٹکل کے سرکاری اسپتال کو ایک نیا روپ دیا گیا ہے۔لیکن یہاں اگر کوئی چیز نہیں بدلی ہے تو یہاں پر خالی پڑی ہوئی اسامیوں کی بھرتی کا مسئلہ ہے۔ 

آر ایس ایس کی طرح کوئی مسلم تنظیم کیوں نہیں؟ از: ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز

مسٹر نریندر مودی کی تاریخ ساز کامیابی پر بحث جاری ہے۔ کامیابی کا سب کو یقین تھا مگر اتنی بھاری اکثریت سے وہ دوبارہ برسر اقتدار آئیں گے اس کا شاید کسی کو اندازہ نہیں تھا۔ دنیا چڑھتے سورج کی پجاری ہے۔ کل ٹائم میگزین نے ٹائٹل اسٹوری مودی پر دی تھی جس کی سرخی تھی ”India’s Divider in Chief“۔

خود کا حلق سوکھ رہا ہے، مگر دوسروں کو پانی فراہم کرنے میں مصروف ہیں بھٹکل مسلم یوتھ فیڈریشن کے نوجوان؛ ایسے تمام نوجوانوں کو سلام !!

ایک طرف شدت کی گرمی اور دوسری طرف رمضان کا مبارک مہینہ  ۔ حلق سوکھ رہا ہے، دوپہر ہونے تک ہاتھ پیر ڈھیلے پڑجاتے ہیں،    لیکن ان   نوجوانوں کی طرف دیکھئے، جو صبح سے لے کر شام تک مسلسل شہر کے مختلف علاقوں میں پہنچ کر گھر گھر پانی سپلائی کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ انہیں  نہ تھکن کا ...

مودی جی کا پرگیہ سنگھ ٹھاکور سے لاتعلقی ظاہر کرنا ایسا ہی ہے جیسے پاکستان کا دہشت گردی سے ۔۔۔۔ دکن ہیرالڈ میں شائع    ایک فکر انگیز مضمون

 وزیر اعظم نریندرا مودی کا کہنا ہے کہ وہ مہاتما گاندھی کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کو دیش بھکت قرار دیتے ہوئے ”باپو کی بے عزتی“ کرنے کے معاملے پر پرگیہ ٹھاکورکو”کبھی بھی معاف نہیں کرسکیں گے۔“امیت شاہ کہتے ہیں کہ پرگیہ ٹھاکور نے جو کچھ کہا ہے(اور یونین اسکلس منسٹر اننت کمار ہیگڈے ...

بلقیس بانو کیس۔ انصاف کی جدوجہد کا ایک سنگ میل ......... آز: ایڈووکیٹ ابوبکرسباق سبحانی

سترہ سال کی ایک لمبی اور طویل عدالتی جدوجہد کے بعد بلقیس بانو کو ہمارے ملک کی عدالت عالیہ سے انصاف حاصل کرنے میں فتح حاصل ہوئی جس فتح کا اعلان کرتے ہوئے عدالت عالیہ (سپریم کورٹ آف انڈیا) نے گجرات سرکار کو حکم دیا کہ وہ بلقیس بانو کو پچاس لاکھ روپے معاوضہ کے ساتھ ساتھ سرکاری نوکری ...

بھٹکل کے نشیبی علاقوں میں کنووں کے ساتھ شرابی ندی بھی سوکھ گئی؛ کیا ذمہ داران شرابی ندی کو گٹر میں تبدیل ہونے سے روک پائیں گے ؟

ایک طرف شدت کی گرمی سے بھٹکل کے عوام پریشان ہیں تو وہیں پانی کی قلت سے  عوام دوہری پریشانی میں مبتلا ہیں، بلندی والے بعض علاقوں میں گرمی کے موسم میں کنووں میں پانی  کی قلت  یا کنووں کا سوکھ جانا   عام بات تھی، مگر اس بار غالباً پہلی بار نشیبی علاقوں میں  بھی پانی کی شدید قلت ...

بھٹکل میں طبی سہولیات کا ایک جائزہ؛ تنظیم میڈیا ورکشاپ میں طلبا کی طرف سے پیش کردہ ایک رپورٹ

مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل کی جانب سے منعقدہ پانچ روزہ میڈیا ورکشاپ میں جو طلبا شریک ہوئے تھے، اُس میں تین تین اور چار چار طلبا پر مشتمل الگ الگ ٹیموں کو شہر بھٹکل کے مختلف مسائل کا جائزہ لینے اور اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی تھی، اس میں سے ایک  ٹیم جس میں  حبیب اللہ محتشم ...

امریکہ نے پھر سے کیوں بنایا افغانستان کو نشانہ؟ ........ آز: مھدی حسن عینی قاسمی

 کوئی بھی سرمایہ دار ملک  پہلے آپ  کو متشدد  بناتا ہے اور ہتھیار مفت دیتا ہے پھر ہتھیار فروخت کرتا ہے، پھر جب آپ  امن کی بحالی کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں تو آپ کے اوپر بم گرا دیتا ہے. ٹھیک یہی کہانی ہے امریکہ اور افغانستان کی، پہلے امریکہ نے  افغانستان کو طالبان اور  القاعدہ ...

راستے بندہیں سب، کوچہ قاتل کے سوا؟ تحریر: محمدشارب ضیاء رحمانی 

یوپی میں مہاگٹھ بندھن نہیں بن سکا،البتہ کانگریس،ایس پی اتحادکے بعدیوں باورکرایاجارہاہے کہ مسلمانوں کاٹینشن ختم ہوگیا۔یہ پوچھنے کے لیے کوئی تیارنہیں ہے کہ گذشتہ الیکشن میں سماجوادی کی طرف سے کیے گئے ریزویشن سمیت چودہ وعدوں کاکیاہوا؟۔بے قصورنوجوانوں کی رہائی کاوعدہ ...

گجرات فسادات کے قاتل گاندھی جی کا قتل کرنے کے بعد نظریات کو بھی قتل کرنے کے درپہ،کوا چلا ہنس کی چال اپنی چال بھی بھولنے لگا ہے۔از:سید فاروق احمدسید علی،

جب سے نریندردامور مودی نے اقتدار سنبھالا ہے تب سے ملک کے حالات میں جیسے بھونچال سا آگیا ہے۔ انہونی ہونی ہوتی نظر آرہی ہے۔وزیراعظم خود کو تاریخ کی ایک قدر آور شخصیت بنانے کے لئے پے درپے نت نئے فیصلے کرتے نظر آرہے ہیں۔ اس میں چاہے کسی کا بھلا ہو یا نقصان ہو ویسے نقصان ہی زیادہ ...