عام ہڑتال: مغربی بنگال میں کئی مقامات پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپ، ٹرین خدمات متاثر

Source: S.O. News Service | Published on 26th November 2020, 10:45 PM | ملکی خبریں |

کولکاتا،26؍نومبر(ایس او نیوز؍یو این آئی) مرکزی حکومت کی مزدور مخالف پالیسی اور دیگر مطالبات کو لے کر ٹریڈ یونینوں کے ملک گیرہڑتال جسے بایاں محاذ اور کانگریس کی حمایت حاصل ہے کا کلکتہ شہر اور دیگر علاقوں میں جزوی اثر نظر آرہا ہے۔ ہڑتال کو کامیاب بنانے کے لئے بائیں بازوں اور کانگریس کے کارکنان جمعرات کی صبح سے ہی سڑکوں پر نکل کر احتجاج و مظاہرہ کر رہے ہیں۔

کلکتہ سمیت دیگر اضلاع میں ہڑتال کرنے والوں کے ساتھ پولیس جھڑپوں کی تصاویر سامنے آرہی ہیں۔ ہڑتال کے دوران معمولات زندگی کو بحال کرنے کے لئے پرعزم پولیس نے جگہ جگہ مظاہرین پر لاٹھی چارج کیے ہیں۔ کئی مقامات پر بائیں محاذ اور کانگریس کارکنان نے سڑک جام اور ناکہ بندی کی۔ چاندنی میٹرو اسٹیشن کے قریب بائیں بازو کے کارکن اور حمایتی جمع ہوگئے۔

مظاہرین نے طاقت کے ذریعہ میٹرو اسٹیشن بند کرنے کی کوشش کی۔ دوسری جانب، ہڑتال کرنے والوں نے بی ٹی روڈ پر سڑک بلاک کرنے کی بھی کوشش کی۔ مگر تھوڑی دیر بعد سڑک کھولوانے کے لئے پولیس نے لاٹھی چارج کرنا شروع کر دیا۔ ہڑتال کے حامی کارکنان بدھان سرانی میں ٹرام لائن پر بیٹھ کر سڑک روکتے ہوئے دیکھے گئے۔ ہڑتال کرنے والوں پر لیٹن اسٹریٹ پر دکانوں میں توڑ پھوڑ کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

شہر کے جادو پور علاقے میں بایاں محاذ زیادہ سرگرم تھی۔ جادو پور اسٹیشن میں داخل ہوکر ٹرین کو روکنے کی کوشش کی۔ جادو پور یونیورسٹی کے سامنے بڑی تعداد میں بائیں بازوں کے حامی جمع ہوتے دکھائی دیئے۔ ریلوے ناکہ بندی کی وجہ سے صبح سے ہی سیالدہ ساؤتھ برانچ میں ٹرینوں کی نقل و حرکت درہم برہم ہوگئی۔ اسی طرح سیالدہ نارتھ برانچ کے بن گاؤں روٹ پر متعدد اسٹیشنوں پر ناکہ بندی کی وجہ سے ٹرین کی آمد و رفت میں خلل پڑ گیا۔

نیو ٹاؤن میں ہڑتال حامیوں نے سڑک پر ٹائر جلاکر احتجاج کیا۔ شہر کے راجہ بازار چوک پر بھی کانگریس اور بائیں محاذ کے کارکنان نے احتجاج و مظاہرہ کیا۔ دوسرے دنوں کے مقابلے ہوڑہ اور سیالدہ ریلوے اسٹیشن پر لوگوں کی بھیڑ کم تھی۔

کمرہٹی اسمبلی کے ممبر اسمبلی مانس مکھرجی کی قیادت میں کانگریس اور بائیں محاذ کے حامیوں نے جلوس نکالا۔ کمرہٹی اور آس پاس کے علاقے میں ٹریفک نظام درہم برہم ہوگیا۔ بارک پور گھوشپارہ روڈ بلاک کردیا۔ سی پی ایم کارکنوں نے کار کے ٹائر جلا کر روڈ بلاک کردیا۔ ٹیٹاگڑھ پولیس نے آکر ناکہ بندیوں کو ہٹایا۔ اس واقعے کے باعث گھوشپارہ روڈ پر ٹریفک کا زبردست جام ہوگیا۔

ادھر درگاپور میں بھی پولیس نے ہڑتال حامیوں پر لاٹھی چارج کیا۔ بائیں بازو کے کارکنوں نے ہڑتال کی حمایت میں درگاپور میں ڈی وی سی جنکشن کے قریب نیشنل ہائی وے نمبر 2 بلاک کردیا۔ جب انہیں ہٹایا گیا تو پولیس کے ساتھ جھڑپ ہوئی۔ پولیس نے کئی افراد کو گرفتار کیا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

میڈیاٹرائل عدلیہ کے کام میں مداخلت کے مترادف، ری پبلک ٹی وی اور ٹائمز ناؤ کی رپورٹنگ توہین آمیز: تاہم کسی بھی کارروائی سے اجتناب

اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی موت سے متعلق معاملے میں ممبئی پولیس کی شبیہ کو خراب کرنے والے ریپبلک ٹی وی اور ٹائمز ناؤ کی کوریج آج بامبے ہائی کورٹ نے بادی النظر میں توہین آمیز قرار دیا، تاہم اس ضمن میں کسی بھی کاروائی سے اجتناب کرتے ہوئے عدالت نے واضح کیا کہ مستقبل میں کی جانے ...

بی جے پی ارنب گوسوامی معاملے پروضاحت پیش کرے، این سی پی نے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی سے جانچ کا مطالبہ کیا

شرد پوارکے زیرقیادت نیشنلسٹ کانگریس پارٹی نے پیر کے روز مشترکہ پارلیمانی کمیٹی سے ری پبلک ٹی وی کے ایڈیٹرارنب گوسوامی اور ٹیلی ویژن ریٹنگ ایجنسی بارک کے سابق سی ای او داس گپتا (کے درمیان) کی مبینہ گفتگو کی تحقیقات کا مطالبہ کیاہے۔

رجنی کانت کی  پارٹی کا اعلان: ہمارے ممبران کسی بھی سیاسی پارٹی میں جانے کے لئے آزاد ہیں  

رجنی کانت کے انتخابی سیاست سے دور رہنے کے فیصلے کے بعد اب ان کی پارٹی رجنی مککل مندرم (آر ایم ایم) نے اپنے ممبروں سے کہا ہے کہ وہ آر ایم ایم چھوڑ سکتے ہیں، اور کسی بھی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کرسکتے ہیں۔