بھٹکل میونسپل انتخابات: سابق میونسپل صدر پرویز قاسمجی نے الیکشن آفسر کو لیا آڑے ہاتھ؛ مبینہ طور پر غلط معلومات دینے پر ظاہر کی سخت ناراضگی

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 14th May 2019, 11:48 PM | ساحلی خبریں |

بھٹکل 14/مئی (ایس او نیوز)  بھٹکل میونسپالٹی انتخابات کے لئے  پرچہ نامزدگی داخل کرنے  کے دوران اُمیدواروں کو مبینہ طور پر  غلط معلومات دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے  میونسپالٹی کے سابق صدر جناب پرویز قاسمجی نے آج الیکشن آفسر کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ آپ کی ذمہ داری  صرف انتخابات کو منعقد کرانے کی  ہے، کس نے کتنے سالوں سے  ٹیکس نہیں بھرا ، کس کا پانی کا کنتا بل باقی ہے وہ دیکھنا آپ کی ذمہ داری نہیں ہے۔ اُس کام کے لئے میونسپالٹی میں چیف آفسر موجود ہے۔ 

یاد رہے کہ میونسپالٹی انتخابات کے لئے  پرچہ نامزدگی داخل کرنے کا دور شروع ہوکر آج تین دن ہورہے ہیں، صبح تک کسی نے بھی پرچہ نامزدگی  داخل نہیں کیا تھا، بتایا گیا ہے کہ الیکشن آفسر نے اُمیدواروں سے مبینہ طور پر کہا تھا کہ انتخابات میں کھڑے ہونے کے لئے اُمیدوار کے ساتھ ساتھ  جو چار گواہ ہوتے ہیں، اُن کے کاغذات بھی  مکمل ہونے چاہئے، اُن کا ٹیکس بھرا ہوا بل ،  پانی بھرا ہوا بل،  ڈرینیج بل وغیرہ باقی نہیں رہنا چاہئے وہ سبھی کاغذات بھی اُمیدوار کے کاغذات کے ساتھ منسلک ہونے چاہئے۔

بعض اُمیدواروں  نے اس تعلق سے جناب پرویز قاسمجی کو  واقعے کی جانکاری دی اور بتایا کہ کاغذات کو لے کر اُنہیں پریشان کیا جارہا ہے۔  اطلاع ملتے ہی  سابق میونسپل صدر میونسپالٹی  دفتر پہنچے اور الیکشن آفسر ایم بی پاٹل جو بھٹکل کے تحصیلدار بھی ہیں،  سے وضاحت طلب کی، جب تحصیلدار نے بتایا کہ   کئی لوگوں کے پانچ پانچ سالوں کے ٹیکس باقی ہیں، کئی ایک نے  پانی بل نہیں بھرا ہے اور  انتخابی قاعدے قوانین کے مطابق اُن کے  کاغذات کلیئر ہونے چاہئے تو پرویز نے اُنہیں  آڑے ہاتھ لیتے ہوئے  سوال کیا کہ کیا انتخابات کے قوانین و ضوابط  میں ایسالکھا ہے کہ   گواہوں کے کاغذات اگر کلئیر نہیں ہیں تو   اُن اُمیدواوں کے کاغذات قبول نہیں کئے جائیں گے ؟  جب تحصیلدار ایم بی پاٹل نے  انتخابی قوانین دکھانے کی کوشش کی تو جناب پرویز صاحب نے کہا کہ  اُس میں کیا کچھ لکھا ہے اُنہیں اُس کی پوری جانکاری ہے، مجھے یہ بتایا جائے کہ ایک انتخابی آفسر کی ڈیوٹی کیا ہے ؟ کافی  تکرار کے بعد  الیکشن آفسر ایم بی پاٹل نے بتایا کہ انہوں نے کسی بھی اُمیدوار سے یہ بات نہیں کہی کہ اگر رسید منسلک نہیں کریں گے  تو کاغذات قبول نہیں کئے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اگر کسی نے  میونسپالٹی کا کوئی بل نہیں بھرا ہے  تو انتخابات کے بعد اُنہیں نوٹس روانہ کی جائے گی اور اُنہیں بل کی ادائیگی کے لئے تین ماہ کی مہلت دی جائے گی۔ اس بات کو لے کر بھی  جناب پرویز صاحب نے  وضاحت کی کہ  اُس کے بعد بھی  میونسپالٹی کے بلوں کی ادائیگی کرنا میونسپل چیف آفسر کا کام ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ بقیہ بلوں کی  ادائیگی وقت پر کریں، اگر کوئی نہیں کرتا تو پھر تحصیلدار کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ میونسپل چیف آفسر کو  نوٹس دیں اور جواب طلب کریں، اُمیدواروں کے گواہوں نے بل بھرا ہے یا نہیں بھرا ہے، یہ کام الیکشن آفسر کا نہیں ہے۔ انتخابی آفسر نے واضح کیا کہ انہوں نے میونسپل انتخابات کے لئے اُمیدواروں کو غلط جانکاری نہیں دی ہے اور نہ ہی گواہوں سے رسیدیں طلب کی ہیں انہوں نے یہ کہہ کہ بات کو ختم کیا کہ  وہ دیگر اُمور پر کسی طرح کی مداخلت نہیں کریں گے۔

تین لوگوں نے داخل کیا پرچہ نامزدگی:   تحصیلدار اور الیکشن آفسر ایم بی پاٹل کے ساتھ  جناب پرویز قاسمجی کی گرما گرم بات چیت کے بعد  آج تین لوگوں نے پرچہ نامزدگی داخل کیا، جن کے نام یہ ہے :

وارڈ نمبر پانچ (بندر روڈ سکینڈ کراس ، کوگتی نگر) یہاں   شیڈول ٹرائب کے لئے سیٹ ریزرو تھی، جگناتھ کرشنا گونڈا نے آج پرچہ داخل کیا، وارڈ نمبر 11(وی ٹی روڈ) جنرل سیٹ تھی ، یہاں سے راجیو پانڈورنگا شیٹ اور وارڈ نمبر 17 (سلطان اسٹریٹ)، جنرل سیٹ سے  محتشم محمد عظیم  نے آج پر چہ نامزدگی داخل کیا۔

خیال رہے کہ پرچہ نامزدگی داخل کرنے کے لئے اب صرف دو دن باقی رہ گئے ہیں، 16 مئی نامزدگی داخل کرنے کا آخری دن ہے، جبکہ 29 مئی کو انتخابات منعقد ہوں گے۔

ایک نظر اس پر بھی

کیا شمالی کینرا سے شیورام ہیبار کے لئے وزارت کا قلمدان محفوظ رکھا گیا ہے؟

کرناٹکاکے وزیراعلیٰ  ایڈی یورپا نے دو دن پہلے اپنی کابینہ کی جو تشکیل کی ہے اس میں ریاست کے 13اضلاع کو اہمیت دیتے ہوئے وہاں کے نمائندوں کو وزارتی قلمدان سے نوازا گیا ہے۔اور بقیہ 17اضلاع کو ابھی کابینہ میں نمائندگی نہیں دی گئی ہے۔

ساگر مالا منصوبہ: انکولہ سے بیلے کیری تک ریلوے لائن بچھانے کے لئے خاموشی کے ساتھ کیاجارہا ہے سروے۔ سیکڑوں لوگوں کی زمینیں منصوبے کی زد میں آنے کا خدشہ 

انکولہ کونکن ریلوے اسٹیشن سے بیلے کیری بندرگاہ تک ’ساگر مالا‘ منصوبے کے تحت ریلوے رابطے کے لئے لائن بچھانے کا پلان بنایا گیا اور خاموشی کے ساتھ اس علاقے کا سروے کیا جارہا ہے۔

ماڈرن زندگی کا المیہ: انسانوں میں خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان۔ ضلع شمالی کینرا میں درج ہوئے ڈھائی سال میں 641معاملات!

جدید تہذیب اور مادی ترقی نے جہاں انسانوں کو بہت ساری سہولتیں اور آسانیاں فراہم کی ہیں، وہیں پر زندگی جینا بھی اتنا ہی مشکل کردیا ہے۔ جس کے نتیجے میں عام لوگوں اور خاص کرکے نوجوانوں میں خودکشی کا رجحان بڑھتا جارہا ہے۔

منگلورو پولیس نے ایک اور مشکوک کار کو پکڑا؛ پنجاب نمبر پلیٹ والی کار کے تعلق سے پولس کو شکوک و شبہات

دو دن دن پہلے لٹیروں اور جعلسازوں کی ایک ٹولی کے قبضے سے منگلورو پولیس نے ایسی کار ضبط کی تھی جس پر نیشنل کرائم انویسٹی گیشن بیوریو، گورنمنٹ آف انڈیا لکھا ہوا تھا۔اب مزید ایک مشکوک کار کو پولیس نے اپنے قبضے میں لیا ہے۔ جس پر بھی گورنمینٹ آف انڈیا لکھا ہوا ہے۔

مرڈیشور ساحل پر ماہی گیروں اور انتظامیہ افسران کے درمیان پارکنگ جگہ کو لےکر تنازعہ: ماہی گیروں کا احتجاج  

مرڈیشور میں مچھلی شکار پیشہ کے لئے جگہ مختص کرنے اور ماہی گیر کشتیوں کو  محفوظ رکھنے کےلئے جگہ متعین کرنے کے متعلق   ماہی گیروں اور مقامی انتظامیہ کے درمیان پھر ایک بار تنازعہ پیدا ہوگیا ہے۔