بنگلورو کا عیدگاہ میدان سرکاری ملکیت قرار، قانونی جنگ لڑنے کی تیاری میں وقف بورڈ

Source: S.O. News Service | Published on 7th August 2022, 11:01 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،7؍اگست (ایس او نیوز؍ایجنسی) وقف بورڈ نے اتوار کے روز کہا ہے کہ وہ برہت بنگلورو مہانگر پالیکے (بی بی ایم پی) کی جانب سے عیدگاہ میدان کو محکمہ محصولات کی اراضی قرار دئے جانے کے بعد قانونی جنگ لڑنے کی تیاری کر رہا ہے۔ بی بی ایم پی کے فیصلہ پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے وقف بورڈ کے چیئرمین شفیع سعدی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے 1965 میں فیصلہ سنایا تھا کہ عیدگاہ میدان وقف بورڈ کی جائیداد ہے، لہذا بی بی ایم پی کا فیصلہ قابل قبول نہیں ہے اور اس سے عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

سعدی نے کہا کہ وقف بورڈ اس معاملہ میں قانونی جنگ لڑے گا اور قانون کے ماہرین سے رابطہ قائم کیا جا رہا ہے۔ خیال رہے کہ بی بی ایم پی نے پہلے کہا تھا کہ ملکیت اس کی نہیں ہے لیکن ہفتہ کے روز اس نے ایک حکم نامہ جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ عیدگاہ میدان محکمہ محصولات کی ملکیت ہے۔

وقف بورڈ نے بی بی ایم پی کے ایک کھاتہ (ملکیت کا قانونی دستاویز) کے لئے درخواست پیش کی تھی، جسے خارج کر دیا گیا۔ جوائنٹ کمشنر سرینواس نے وقف بورڈ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے عیدگاہ میدان کے مالکانہ حقوق کا دعویٰ کرنے کے لئے دستاویز جمع کرنے کو کہا تھا۔

رپورٹ کے مطابق بی بی ایم پی نے دستاویز جمع کرنے کے لئے دو مہینے کا وقت فراہم کیا تھا۔ چونکہ وقف بورڈ ضروری دستاویز پیش کرنے میں ناکام رہا، لہذا بی بی ایم پی نے کھاتہ جاری کرنے سے انکار کر دیا اور کرناٹک کے محکمہ محصولات کو اراضی کا فطرتی مالک قرار دے دیا۔

چامراج نگر ناگرک منچ نے عیدگاہ میدان کے احاطہ میں 15 اگست کو یوم آزادی منانے کے لئے درخواست پیش کی تھی۔ کچھ مہینے قبل جب بی بی ایم پی نے وقف سے متعلق دستاویز جمع کرنے کو کہا تو تنازہ ختم ہو گیا تھا۔

ایک نظر اس پر بھی

صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے میسور و کے دس روزہ دسہرہ تقریبات کا افتتاح کیا

دوماہ کی تیاریوں کے بعد آج بروز پیر صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے میسور کے چامنڈی پہاڑ پر دس روزہ دسہرہ تقریبات کا چامنڈیشوری دیوی کی مورتی پر پھول نچھاور کرکے افتتاح کیا۔ پہلے صدر جمہوریہ نے چامنڈیشوری دیوی کے درشن کئے اور اس مندر کی تاریخ کے تعلق سے تفصیل سے جانکاری حاصل کی۔

ذہنی دباؤ بیسویں صدی کا ایک مہلک مرض؛ آئیٹا گلبرگہ کے ورک شاپ سے ڈاکٹر عرفان مہا گا وی کا خطاب

نئے دور کی شدید ترین بیماریوں میں ذہنی دباؤ اور اس سے پیدا ہونے والے اثرات کو مہلک امراض میں شمار کیا جاتا ہے ۔ روز مرہ کی مشینی زندگی میں ذہنی دباؤ  میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے ۔ لیکن اس کو کیسے کم کیا جائے اس پر غور کر نے اور اس سلسلے میں کوشش کرنے کی ضرورت ہے ۔

پی ایف آئی پر ای ڈی اور این آئی اے کے کریک ڈاون کے بعد ایس ڈی پی آئی نے کہا؛ ایجنسیوں نے کبھی بھی آر ایس ایس اور اس سے منسلک تنظیموں پر چھاپہ نہیں مارا

 سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) کرناٹک یونٹ نے بنگلور میں اپنے ریاستی مرکزی دفتر میں ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ای ڈی اور این آئی اے نے کبھی بھی آر ایس ایس اور اس سے منسلک تنظیموں پر چھاپہ نہیں مارا بلکہ صرف پاپولرفرنٹ آف انڈیا کو ہی نشانہ بنایا ...