18ماہ بعدبنگلورو میں نشے کی حالت میں ڈرائیونگ کی چیکنگ بحال

Source: S.O. News Service | Published on 21st September 2021, 11:39 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو ،21؍ستمبر (ایس او  نیوز) بنگلورو پولیس نے شراب پی کر گاڑیاں چلانے پر روک لگانے سے متعلق چیکنگ کو بحال کر دیا ہے۔ یاد رہے اس جانچ کو کورونا وباء شروع ہونے کے بعد روک دیا گیا ہے۔ تاہم ابھی چونکہ کووڈ وباء پوری طرح ختم نہیں ہوئی ہے، یہ جانچ سانس کی بجائے خون کے معائنہ کے ذریعہ کی جا رہی ہے۔اس چیکنگ کا آغاز جمعہ کی رات 9.30 بجے سے شروع ہوا جو آدھی رات تک جاری رہا۔ 46افراد کے خلاف اس معاملے درج کئے گئے۔

ذرائع کے مطابق ا س موقع پر لاپروائی سے ڈرائیونگ، گاڑیاں چلاتے وقت شعبدہ بازی، تیز رفتار سے گاڑیاں چلانے کے سلسلہ میں دیگر 1,400 افراد کے خلاف بھی معاملے درج ہوئے۔ایک اعلیٰ پولیس افسر نے بتایا کہ معمول کی چیکنگ کے دوران اگر کسی پولیس افسر کو گاڑی چلانے والے کے منہ سے شراب کی بو آتی ہے تو اسے سرکاری اسپتال لے جایا جاتا ہے جہاں اس کے خون کی جانچ کی جاتی ہے۔اگر اس کا نتیجہ الکحل کے استعمال کے سلسلہ میں مثبت آتا ہے تو ایسے فرد کے خلاف معاملہ درج کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ پولیس ان کی گاڑیاں اور لائسنس بھی ضبط کر لیتی ہے۔ آج سے 18ماہ قبل کووڈ کی وجہ سے شراب کے نشہ میں گاڑی چلانے کی چیکنگ روک دی گئی تھی۔ حالانکہ اسے اس سال کے آغاز میں بحال کیا جانا چاہئے تھا، لیکن کووڈ کی دوسری لہر کے پیش نظر ایسا نہیں کیا جا سکا۔ اب جبکہ صورتحال میں بہتری آئی ہے، پھر اسے شروع کیا گیا ہے۔ پولیس نے یہ مہم شہر میں خصوصاً رات کی وقت شروع کی ہے۔ اس کی وجہ بھی یہ ہے کہ حال ہی میں دو جان لیوا حادثات ہوئے۔ رات کے کرفیو کے نفاذ کی خلاف ورزیوں پر نظر رکھنے کے لئے بھی مختلف مقامات پر پولیس کو تعینات کیا گیا ہے۔31اگست کو تمل ناڈو کے ایک رکن اسمبلی کے بیٹے سمیت 7افراد اس وقت ہلاک ہو گئے تھے جب ان کی کار کورمنگلا علاقے میں ایک عمارت کی کمپاؤنڈ دیوار سے ٹکرا گئی۔دوسرا واقعہ 14ستمبر کو پیش آیاجس میں ایک مرد اور عورت کی الیکٹرانک سٹی فلائی اوور سے گر کر ہلاک ہو گئے جب ایک کار نے انہیں ٹکر مار دی۔

ایک نظر اس پر بھی

کرناٹکا کے وزیرا علیٰ کے عمل کا ردعمل والے غیر ذمہ دارانہ بیان کےخلاف ریاست بھر میں احتجاج : بنگلور میں منعقدہ احتجاجی مظاہرے میں وزیراعلیٰ اورہوم منسٹر کو دستور کی یاد دھانی کرائی گئی

کرناٹک کے وزیر اعلیٰ بسوراج بومائی کے عمل کا ردعمل والے غیر ذمہ دارانہ بیان کے خلاف بنگلور کے میسور بینک سرکل پر احتجاجی دھرنا دیتے ہوئے مظاہرہ کیا گیا تو وہیں مختلف اضلاع میں کمشنروں کو میمورنڈم دیتےہوئے وزیر اعلیٰ کو اپنا بیان واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔

مسلمانوں میں نکاح معاہدہ ہے نہ کہ ہندو شادی کی طرح رسم، طلاق کے معاملے پرکرناٹک ہائی کورٹ کااہم تبصرہ

کرناٹک ہائی کورٹ نے اہم تبصرہ کرتے ہوئے کہاہے کہ مسلمانوں کے یہاں نکاح ایک معاہدہ ہے جس کے کئی معنی ہیں ، یہ ہندو شادی کی طرح ایک رسم نہیں ہے اور اس کے تحلیل ہونے سے پیدا ہونے والے حقوق اور ذمہ داریوں سے دور نہیں کیا جاسکتا۔

کرناٹک سے روزانہ 2100کلو بیف گوا کو سپلائی ہوتاہے : وزیر اعلیٰ پرمود ساونت

بی جے پی کی اقتدار والی ریاست کرناٹک سے روزانہ 2000کلوگرام سے زائد جانور اور بھینس کا گوشت (بیف)گوا کو رفت ہونےکی جانکاری بی جے پی اقتدار والی ریاست گوا کے وزیرا علیٰ پرمود ساونت نے دی۔ وہ گوا ودھان سبھا کو تحریری جواب دیتےہوئے اس بات کی جانکاری دی ۔