مہاراشٹرا معاملے پر امت شاہ نے توڑی چپی؛ کہا مودی اور میں نے ہمیشہ یہی کہا کہ فڑنویس ہی وزیر اعلیٰ بنیں گے

Source: S.O. News Service | Published on 14th November 2019, 10:53 AM | ملکی خبریں |

ممبئی 14/نومبر (ایس او نیوز/ایجنسی) ایک طرف شیوسینا سربراہ ادھو ٹھاکرے اور پارٹی کے دیگر لیڈران بار بار بی جے پی پر دھوکہ بازی کا الزام لگا رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ پہلے ڈھائی ڈھائی سال کے وزیر اعلیٰ بنانے پر بات ہوئی تھی جس سے اب بی جے پی پیچھے ہٹ رہی ہے، وہیں دوسری طرف بی جے پی لیڈران ایسے کسی معاہدے سے انکار کر رہے ہیں۔ ادھو ٹھاکرے کا کہنا ہے کہ لوک سبھا انتخابات کے وقت امت شاہ سے جو ان کی بات ہوئی تھی، اس میں طے پایا تھا کہ مہاراشٹر اسمبلی الیکشن میں جیتنے کی صورت میں 50-50 کے فارمولے پر عمل ہوگا اور دونوں پارٹی سے ڈھائی ڈھائی سال کے وزیر اعلیٰ ہوں گے۔ اس معاملے میں پہلی بار امت شاہ نے اپنی زبان کھولی ہے۔ انھوں نے ادھو ٹھاکرے کے دعووں کو سرے سے خارج کر دیا ہے۔

مہاراشٹر کے سیاسی بحران پر پہلی بار مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے میڈیا میں اپنا بیان دیا ہے۔ انھوں نے ادھو ٹھاکرے کے الزامات کے ساتھ ساتھ ریاست میں صدر راج نافذ ہونے کے تعلق سے کھل کر اپنا رد عمل ظاہر کیا۔ شیوسینا سے اتحاد ٹوٹنے کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ’’ہمیں شیوسینا کی نئی شرطیں منظور نہیں تھیں۔ جہاں تک وزیر اعلیٰ کے عہدہ کا سوال ہے، تو پی ایم مودی اور میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ اگر ہم جیتے تو دیویندر فڑنویس ہی وزیر اعلیٰ بنیں گے۔‘‘

ریاست میں صدر راج اور گورنر کے کردار کے بارے میں بتاتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ ’’حکومت بنانے کے لیے سبھی کو پورا وقت ملا۔ حکومت بنانے کے لیے 18 دن کا وقت تھا۔ اس کے بعد ہی صدر راج کی سفارش کی گئی۔ سرکار بنانے کے لیے اتنا وقت کسی ریاست کو نہیں ملا۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’گورنر نے اسمبلی کی مدت کار ختم ہونے کے بعد ہی سبھی پارٹیوں کو مدعو کیا۔ اس کے بعد نہ شیو سینا، نہ این سی پی اور نہ ہی ہم اکثریت ثابت کر سکے۔ آج بھی جس کے پاس نمبر ہوں وہی حکومت بنائے۔‘‘ شیوسینا، این سی پی اور کانگریس کے ذریعہ لگائے جا رہے اس طرح کے الزامات کو انھوں نے مسترد کر دیا کہ نمبر ثابت کرنے کے لیے انھیں مناسب وقت نہیں دیا گیا۔

ادھو ٹھاکرے کے الزامات اور شیوسینا سے ٹوٹے رشتوں کے بارے میں امت شاہ کا کہنا ہے کہ ’’ہم تو شیوسینا کے ساتھ حکومت بنانے کے لیے تیار تھے۔ انتخابی تشہیر کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی اور میں نے کئی بار کہا تھا کہ انتخاب جیتنے کے بعد دیویندر فڑنویس ہی ریاست کے وزیر اعلیٰ ہوں گے۔ اگر اس پر اعتراض تھا تو اسی وقت کہنا چاہیے تھا۔ اب وہ نئی شرطوں کے ساتھ آ گئے، جو کہ نہیں مانی جا سکتی۔‘‘

ایک نظر اس پر بھی

ریپ کے معاملے پرسوال سے بھاگ جانے والے سشیل مودی نے زبان کھولی،راہل کو چیلنج کرتے ہوئے ٹویٹ کیا، اپنے آپ پر اعتماد کرو، اپنے حقیقی نام پر الیکشن لڑو

پٹنہ سیلاب کے موقعہ پربھاگ جانے والے اورریپ کے واقعے پرسوال سے فرارہوجانے والے نائب وزیراعلیٰ سوشیل کمارمودی کی زبان راہل گاندھی پرکھل گئی ہے۔بے چارے نے ان معاملات پرچپی کے بعدکچھ توبولاہے۔