چامراج پیٹ عیدگاہ معاملے میں بی بی ایم پی کا نیا پینترا، اپنی ملکیت ثابت کرنے میں ناکامی پر عیدگاہ کو محکمہ ریوینیو کی املاک قرار دینے کی مذموم کوشش

Source: S.O. News Service | Published on 7th August 2022, 11:05 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،7؍اگست(ایس او نیوز؍رضوان اللہ خان)  ہفتہ کے روز شہر کی چامراج پیٹ عیدگاہ کے معاملہ نے اس وقت ایک دلچسپ موڑ لے لیا جب برہت بنگلورو مہا نگر پالیکے (بی بی ایم پی) نے اس عید گاہ کی ملکیت پر اپنے دعوے سے دستبرداری یہ کہتے ہوئے اختیار کر لی کہ اس کے کھاتے کیلئے وقف بورڈ کی طرف سے دائر کی جانے والی درخواست کو اس بناء پر مسترد کیا جاتا ہے کہ یہ ملکیت ریوینیو ڈپارٹمنٹ کی ہے اس لئے کھاتے کیلئے وقف بور ڈکو اپنی دستاویزات کے ساتھ ریوینیو ڈپارٹمنٹ سے ہی رجوع کرنا چاہئے۔

بی بی ایم پی اب تک اس عید گاہ کو اپنی ملکیت قرا ر دیتی آ رہی تھی، اب اس کے جائنٹ کمشنر (ویسٹ) سرینواس کی طرف سے جاری حکم نامہ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ یہ املاک حکومت کے ریوینیو ڈپارٹمنٹ کی ہے۔ اس لئے عرضی گزار کواب معاملہ کو لے کر ریوی نیو ڈپارٹمنٹ سے رجوع کرنا چاہئے۔بی بی ایم پی جائنٹ کمشنر کی طرف سے جاری اس حکم نامہ پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے سابق ریاستی وزیر اور چامراج پیٹ کے رکن اسمبلی ضمیر احمد خان نے کہا کہ بی بی ایم پی اور ریاستی حکومت کی طرف سے اس حکم نامہ کے ذریعہ عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ چامراج پیٹ عید گاہ کے معاملہ میں اب تک ریاست کے ریوینیو ڈپارٹمنٹ کا کوئی تعلق ہی نہیں رہا۔ اب تک اس محکمہ کی طرف سے اس کی ملکیت کا کا کوئی دعویٰ بھی نہیں کیا گیا۔ 1956سے اس عید گاہ کی ملکیت کو لے کر جو بھی تنازعہ چل رہا تھا وہ بنگلور سٹی کارپوریشن اور سنٹرل مسلم اسوسی ایشن(وقف) کے درمیان تھا۔ اب اچانک یہ جاننے کے بعدکہ اس ملکیت کی کوئی دستاویز بی بی ایم پی کے پاس نہیں ہے بی بی ایم پی نے اس معاملہ سے اپنا دامن جھاڑتے ہوئے اسے ریوینیو ڈپارٹمنٹ کے حوالے کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ1956میں بنگلور کی منصف عدالت 1959میں ہائی کورٹ آف میسور اور 1964 میں سپریم کور ٹ میں اس ملکیت پر اپنا دعویٰ بنگلور و سٹی کارپوریشن نے دائر کیا تھا اور تینوں عدالتوں میں کارپوریشن اپنی ملکیت ثابت کرنے کیلئے کوئی دستاویز پیش نہ کر سکی تھی۔

اب اس معاملے میں وقف بورڈ کی طرف سے عیدگاہ کے کھاتے کی منظوری کیلئے جو درخواست دی گئی تھی اس پر کوئی قدم اٹھانے کی بجائے اپنا دامن بچاتے ہوئے بی بی ایم پی، اس جائیداد کو روینیو ڈپارٹمنٹ کی قرار دینے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس طرح کے حکم سے عوام بالخصوص مسلمانوں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کیس کے کسی بھی مرحلے میں روینیو ڈپارٹمنٹ کا کوئی تعلق نہیں رہا ہے۔ اسی لئے بی بی ایم پی اچانک کوئی حکم صادر کردے گی تو اسے تسلیم نہیں کیا جائے گا بلکہ پوری شدت کے ساتھ قانونی جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ ایک طرح سے بی بی ایم پی کا یہ فیصلہ عیدگاہ کو بچانے کیلئے جاری جدوجہد میں وقف کی ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ آنے والے دنوں میں حکومت کو اس بات سے باور کروایا جائے گا کہ اب تک اس معاملے کی ملکیت کیلئے دہائیوں تک دعویٰ کرنے والی بی بی ایم پی نے کس طرح اپنا دامن جھاڑنے کیلئے گمراہ کن حکم نامہ جاری کیا۔

ریاستی وقف بورڈ کے چیرمین شافع سعدی نے بی بی ایم پی کے اس حکم نامے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاہے کہ بی بی ایم پی کا یہ تسلیم کرنا ہی کافی ہے کہ یہ املاک اس کی نہیں۔ اب بی بی ایم پی اس املاک کو ریوینیو ڈپارٹمنٹ کی قرار دے رہی ہے اس پر بھی قانونی لڑائی جاری رہے گی۔ اپنی ملکیت قرار دے کر دستاویزات پیش کرنے میں ناکام بی بی ایم پی اپنی ناکامی پر پردہ ڈالنے کیلئے حکومت کے دیگر محکمہ کا استعمال کرنے کوشش کررہی ہے لیکن اس میں بھی وہ کامیاب نہیں ہوپائے گی۔

ایک نظر اس پر بھی

انکولہ - ہبلی ریلوے لائن منصوبہ : مرکزی حکومت کے وفد نے کیا مختلف مقامات کا معائنہ

ریاستی ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق انکولہ - ہبلی ریلوے منصوبے پر عمل پیرائی کے سلسلے میں مثبت اور منفی پہلووں کا جائزہ لینے کے  مرکزی حکومت کے ایک وفد نے انکولہ اور یلاپور تعلقہ جات میں مختلف جنگلاتی علاقوں کا معائنہ کیا۔

صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے میسور و کے دس روزہ دسہرہ تقریبات کا افتتاح کیا

دوماہ کی تیاریوں کے بعد آج بروز پیر صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے میسور کے چامنڈی پہاڑ پر دس روزہ دسہرہ تقریبات کا چامنڈیشوری دیوی کی مورتی پر پھول نچھاور کرکے افتتاح کیا۔ پہلے صدر جمہوریہ نے چامنڈیشوری دیوی کے درشن کئے اور اس مندر کی تاریخ کے تعلق سے تفصیل سے جانکاری حاصل کی۔

ذہنی دباؤ بیسویں صدی کا ایک مہلک مرض؛ آئیٹا گلبرگہ کے ورک شاپ سے ڈاکٹر عرفان مہا گا وی کا خطاب

نئے دور کی شدید ترین بیماریوں میں ذہنی دباؤ اور اس سے پیدا ہونے والے اثرات کو مہلک امراض میں شمار کیا جاتا ہے ۔ روز مرہ کی مشینی زندگی میں ذہنی دباؤ  میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے ۔ لیکن اس کو کیسے کم کیا جائے اس پر غور کر نے اور اس سلسلے میں کوشش کرنے کی ضرورت ہے ۔

پی ایف آئی پر ای ڈی اور این آئی اے کے کریک ڈاون کے بعد ایس ڈی پی آئی نے کہا؛ ایجنسیوں نے کبھی بھی آر ایس ایس اور اس سے منسلک تنظیموں پر چھاپہ نہیں مارا

 سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) کرناٹک یونٹ نے بنگلور میں اپنے ریاستی مرکزی دفتر میں ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ای ڈی اور این آئی اے نے کبھی بھی آر ایس ایس اور اس سے منسلک تنظیموں پر چھاپہ نہیں مارا بلکہ صرف پاپولرفرنٹ آف انڈیا کو ہی نشانہ بنایا ...