بنٹوال میں پولس کے بھیس میں بزرگ شخص کے قیمتی زیورات لوٹنے کی واردات

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 20th January 2020, 7:57 PM | ساحلی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

منگلورو:20؍جنوری(ایس اؤ نیوز)دو مکاروں نے پولس کے بھیس میں بی سی روڈ بنٹوال کے ایک بزرگ باشندے سے ایک لاکھ روپئے مالیت کے سونے کے زیورات لوٹ کر فرار ہوگئے، جس کے تعلق سے  بنٹوال پولس تھانہ میں معاملہ درج کیا گیا ہے۔

ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق جعلسازوں کا شکار ہوئے موظف بینک آفیسر شیوپرساد شرماسنیچر کو 12بجے دوپہر میں  اپنے بال کٹوانے ہئیر سلون جارہے تھے۔ پیدل چلنے کےدوران ایک انجان شخص   بائک پر سوار ہوکر شیوپرساد کے قریب آیا اور اپنا نام اشوک بتاتے ہوئے   کرائم برانچ پولس آفیسر کی حیثیت سے اپنی شناخت کرائی۔اس نقلی آفسر نے شیوپرساد کو متنبہ کرتے ہوئے بتایا کہ علاقےمیں چورگھس آئے ہیں جو اُسے  لوٹ سکتے ہیں۔

اشوک کے چلے جاتے ہی ایک اور انجان شخص ان کے  قریب پہنچ گیا اور پہلے والے کی طرح ہی متنبہ کیا۔ شیوپرساد نے اس  سے جب شناختی کارڈ پوچھا تو حیرت انگیز طور پر اُس  نے اپنا شناختی کارڈ بھی دکھایا  بعد میں اُس نے  ایک دستی  دے کر کہا  کہ اس میں جو بھی قیمتی زیورات ہیں وہ رکھ دو، تاکہ لٹیروں سے وہ محفوظ رہے۔ شیوپرساد نے اپنا موبائل سمیت زیورات دستی میں رکھ دئے اور  متعلقہ نقلی پولس آفسر کے حوالے کردیا۔

 کچھ ہی دیر بعد  متعلقہ  دستی شیوپرساد کو واپس کی گئی، مگر جب  شیوپرساد نے دستی کو  کھول کر دیکھا  تو اس میں سوائے موبائیل کے کچھ نہیں تھا۔ اس سے پہلے شیوپرساد کچھ کہتا،   لُٹیرا فرار ہوچکا تھا ۔  بنٹوال پولس تھانےمیں کیس درج کرلینےکے بعد پولس جانچ میں جٹ گئی ہے۔  

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل میں کورونا سے لڑنے تنظیم کےذمہ داران بھی نہایت متحرک؛ پوری ٹیم میدان میں کام کررہی ہے؛ چوطرفہ ستائش

اس وقت نہ صرف شہر بھٹکل بلکہ پوری دنیا کورونا وائرس کی وباء سے  حیران وپریشان ہے ایک طرح سے اس وباء سے  پوری دنیا کا نظام درہم برہم ہوگیا ہے جبکہ لاک ڈاؤن کے اعلان کے بعد جس طرح سے ملک بھر میں غریب عوام اور یومیہ مزدور طبقہ کو دقتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس سے ہرکوئی واقف ہیں ...

بھٹکل میں شدت کی گرمی کے بعدوقت سے پہلے ہی برسی بارش؛ساحلی علاقوں میں بجلیوں اور بادلوں کی گڑگڑاہٹ کے ساتھ لوگوں کی ہوئی صبح

بھٹکل سمیت ساحلی کرناٹک میں گذشتہ کچھ دنوں سے شدت کی گرمی سے عوام پریشان تھے، درجہ حرارت بڑھتے ہوئے بھٹکل میں پیر کو 37 ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا تھا، مگر منگل صبح قریب 5 بجے  اچانک آسمان میں بجلیوں کی زبردست چمک اور  بادلوں کی گڑگڑاہٹ کے ساتھ بارش شروع ہوگئی اور دیکھتے ہی ...

بھٹکل سے مزید تھوک کے نمونے جانچ کے لئے روانہ؛ آج موصول ہونے والی تمام رپورٹس بھی نیگیٹیو؛ کیا کسی کی رپورٹ پوزیٹیوآنے کا خدشہ ہے ؟

کورونا وائرس کو لے کر شہر سمیت پورے ملک میں لاک ڈاون جاری ہے اور ہر روز مشکوک لوگوں کے تھوک کے نمونے جانچ کے لئے روانہ کئے جارہے ہیں۔اب تک بھٹکل سے جن لوگوں کے تھوک کے نمونے  جانچ کے لئے روانہ کئے جارہے تھے،  راحت کی خبریں موصول ہورہی تھیں یہاں تک کہ مینگلور اور کاروار میں ...

بھٹکل میں کورونا وائرس کو لے کر کیاسوشیل میڈیا میں کسی طرح کی سازش رچی جارہی ہے ؟ مسلمانوں سے دور رہنے اورکسی بھی طرح کا لین دین نہ رکھنے کے مسیجس وائرل

ایسا لگتا ہے کہ کورونا وائرس کی وباء فسطائی اور فرقہ وارانہ ذہنیت والے غیر مسلموں کے لئے مسلمانوں کے خلاف اپنی بھڑاس نکالنے کا نیا ہتھیار بن گئی ہے۔ ایک طرف کورونا وائرس کے نام پر مسلمانوں سے دوری رکھنے کی تلقین کی جارہی ہے  اور مسلمانوں سے کسی بھی طرح کی خریداری کرنے کی ...

کورونا کے نام پر مسلمانوں پر حملہ؛ باگلکوٹ میں تین مسلم لوگوں کو ایک گاوں میں داخل ہونے سے روکنے کی واردات

باگلکوٹ کے مدھول پولیس اسٹیشن کے حدود میں آنے والے ایک گاؤں میں چند شرپسندوں نے مسلمانوں کو اپنے گاؤں میں داخل ہونے سے عملاً روکتے ہوئے ان پر حملہ کرنے کی واردات پیش آئی ہے  جس کی ویڈیو کلپ بھی سوشیل میڈیا پر  وائرل ہوگئی ہے۔

بھٹکل میں شدت کی گرمی کے بعدوقت سے پہلے ہی برسی بارش؛ساحلی علاقوں میں بجلیوں اور بادلوں کی گڑگڑاہٹ کے ساتھ لوگوں کی ہوئی صبح

بھٹکل سمیت ساحلی کرناٹک میں گذشتہ کچھ دنوں سے شدت کی گرمی سے عوام پریشان تھے، درجہ حرارت بڑھتے ہوئے بھٹکل میں پیر کو 37 ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا تھا، مگر منگل صبح قریب 5 بجے  اچانک آسمان میں بجلیوں کی زبردست چمک اور  بادلوں کی گڑگڑاہٹ کے ساتھ بارش شروع ہوگئی اور دیکھتے ہی ...

مینگلور کے قریب بنٹوال میں دیپ جلاؤ مہم کے دوران اقلیتوں کے گھروں پر پتھراؤ۔ پولیس میں درج کی گئی شکایت

کورونا وائرس کے خلاف متحدہ طور پر جدوجہد کی علامت کے طور پر وزیر اعظم نریندرا مودی نے دیپ جلانے کی جو آواز دی تھی، اس کے دوران بنٹوال میں اقلیتوں کے گھروں پتھراؤ کرنے اور پٹاخے پھینکنے کی واردات پیش آئی ہے۔