اکثریتی طبقہ کی قدامت پسند تنظیموں پر پابندی کیوں نہیں؟ : اسد الدین اویسی

Source: S.O. News Service | Published on 28th September 2022, 8:33 PM | ملکی خبریں |

حیدرآباد،28؍ستمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) صدر کل ہندمجلس اتحاد المسلمین ورکن پارلیمنٹ حیدرآباد اسد الدین اویسی نے پاپلر فرنٹ آف انڈیا پر مرکزی حکومت کی جانب سے عائد کردہ پابندی پر تنقید کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیوں اکثریتی طبقہ کے قدامت پسند تنظیموں پر پابندی عائد کیوں نہیں کی گئی۔

 آج یہاں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے رکن پارلیمنٹ حیدرآباد نے کہا کہ انہوں نے پی ایف آئی کے طریقہ کار کی کبھی تائید نہیں کی تھی ان کی تائید جمہوری طریقہ کار کے ساتھ ہے مگر پھر بھی پاپلر فرنٹ پر عائد کردہ پابندی کی تائید نہیں کی جاسکتی۔

 انہوں نے کہا کہ اس طرح کی سخت پابندی خطرناک ہے۔ یہ پابندی کسی بھی مسلمان کے خلاف ہے جو اپنے نظریات ظاہر کررہا ہے۔ جس طرح ہندوستانی حکومت فسطائت کی طرف جارہی ہے، کسی بھی مسلم نوجوان ہندوستان کے سیاہ قانون یو اے پی اے کے تحت محض ایک پی ایف آئی کے پمفلٹ کے ذریعہ گرفتار کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے سوال کیا کہ کیوں پی ایف آئی پرپابندی عائد کی گئی جبکہ  درگاہ خواجہ اجمیری میں بم دہماکوں کے مجرمین جن جماعتوں سے وابستہ ہیں اُن قدامت پسند اکثریتی طبقہ کی تنظیموں پر پابندی عائد نہیں کی گئی۔

اسد الدین اویسی نے کہا کہ چند افراد کے جرائم میں ملوث ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ادارے اور جماعت پر پابندی عائد کردی جائے اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے بھی تبصرہ کیا تھا۔ کہ محض کسی ادارے سے وابستگی کی بنیاد پر کسی کو سزانہیں دی جاسکتی۔

 انہوں نے کہا کہ عدالتوں کے فیصلہ صادر ہونے تک مسلمانوں نے کئی دہے قید میں گذارے میں نے UA PA کی مخالفت کی ہے اور ہمیشہ کرتا رہوں گا۔ یہ قانون آزادی کے اصول کے خلاف ہے۔ جو دستور کا بنیادی حصہ ہے۔

صدر مجلس نے کہا کہ کانگریس نے UAPA کو سخت بنانے ترمیم کی تھی اور بی جے پی نے مزید سخت ترین بنانے کیلئے ترمیم کی بی جے پی کی اس کوشش کی کانگریس کی تائید کی تھی۔ اس قانون کے خطرناک ہونے کا اس بات سے بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کپن جیسے صحافی کو بغیر کوئی جرم کے گرفتار کیا جاتا ہیاور انہیں ضمانت حاصل کرنے کیلئے دوسال لگ جاتے ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

بی جے پی حکومت نے کھاد کے لیے بھی کسانوں کو کیا پریشان: کمل ناتھ

مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلی کمل ناتھ نے ایک بار پھر بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت پر کسان مخالف ہونے کا الزام لگاتے ہوئے آج کہا کہ حکومت نے کھاد کے لیے کسانوں کو بہت زیادہ پریشان کیا ہے۔ اپنے سلسلہ وار ٹوئٹس میں سابق وزیر اعلی کمل ناتھ نے کہا کہ مدھیہ پردیش کے کسانوں کو کیمیائی ...

قومی راجدھانی دہلی کی فضا ’انتہائی خراب‘، 321 اے کیو آئی درج

 قومی راجدھانی کی ہوا کا معیار منگل کی صبح 'انتہائی خراب' زمرے میں رہا اور کوالٹی انڈیکس 321 ریکارڈ کیا گیا۔ سسٹم آف ایئر کوالٹی اینڈ ویدر فورکاسٹنگ اینڈ ریسرچ (سفر) کے مطابق منگل کی صبح شہر کا مجموعی ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) انتہائی خراب زمرے میں 321 پر ریکارڈ کیا گیا۔ ماحول ...

مہاراشٹر-کرناٹک سرحد تنازعہ میں شدت، بیلگاوی میں مہاراشٹر کے ٹرکوں پر پتھراؤ، حالات کشیدہ

کرناٹک اور مہاراشٹر کے درمیان جاری سرحد تنازعہ نے بیلگاوی علاقہ میں حالات کو کشیدہ کر دیا ہے۔ سرحدی علاقہ بیلگاوی میں تشدد کے واقعات پیش آ رہے ہیں اور منگل کے روز تو بیلگاوی کے باگیواڑی میں شدید احتجاجی مظاہرہ دیکھنے کو ملا۔ اس دوران کرناٹک رکشن ویدیکے سے جڑے کارکنان نے ...

دسمبر 7 سے شروع ہونے والے سرمائی اجلاس سے قبل ہی اپوزیشن پارٹیوں نے مرکز کے سامنے رکھے اہم مطالبات؛ کل جماعتی میٹنگ میں اہم باتوں پر ہوا تبادلہ خیال

بدھ یعنی 7 دسمبر سے  شروع ہوکر 29 دسمبر کو ختم ہونے والے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس سے پہلے  ہی  مرکزی حکومت نے کل جماعتی میٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا تھا جو منگل کو  منعقد ہوا۔