بحرینی فرمانروا کی اماراتی قیادت کو اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کے اعلان پرمبارک باد

Source: S.O. News Service | Published on 15th August 2020, 9:09 PM | خلیجی خبریں | عالمی خبریں |

دبئی /15اگست (ایس اونیوز)متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان باہمی تعلقات سے متعلق سجھوتے کے اعلان پر عالمی اور علاقائی سطح پر اس اقدام کا خیر مقدم کیا جا رہا ہے۔

گذشتہ روز خلیجی ریاست بحرین کے فرمانروا حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ نے متحدہ عرب امارات کے ولی عہد الشیخ محمد بن زاید آل نھیان سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے انہیں اسرائیل کےساتھ معاہدہ کرنے پر مبارک باد پیش کی۔ انہوں‌ نے توقع ظاہر کی کہ امارات اور اسرائیل میں امن معاہدہ خطے میں امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کو آگے بڑھانے میں مدد دے گا۔

بحرینی فرمانروا نے امارات اسرائیل معاہدے کو جرات مندانہ اور خطے میں تاریخی امن کی طرف اہم قدم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے معاہدے خطے کے عوام کی امنگوں کے مطابق ہیں۔ اسرائیل اور امارات کے درمیان تعلقات کے قیام سے امن کے مواقع کو آگے بڑھانے، مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے نئے افق کھولنے، خطے کی اقوام کے امن، ترقی اور خوشحالی میں مدد ملے گی۔

انہوں نے اسرائیل اور امارات کے درمیان 'دوستی معاہدہ' کرانے میں امریکا کی مساعی کو بھی سراہا اور کہا کہ اسرائیل کی طرف سے فلسطینی اراضی پر خود مختاری سے دست برداری اہم پیش رفت ہے۔اس سے مشرق وسطیٰ میں دو ریاستی حل کی راہ ہموار کرنے اور فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کو کسی امن معاہدے تک پہنچنے میں مدد دے گی۔

دوسری جانب بات کرتے ہوئے امارات کے ولی عہد الشیخ محمد بن زاید آل نھیان نے مملکت بحرین کی جانب سے خطے کے مفادات اور اقوام کی امن وسلامتی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔

خیال رہے کہ جمعرات کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدہ کرانے کا اعلان کیا تھا۔ امارات اور اسرائیل نے بھی باہمی تعلقات کے قیام کی تصدیق کی ہے۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امارات سے معاہدے کے بدلے میں اسرائیل نے فلسطینی اراضی پراپنی خود مختاری کا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔ اس معاہدے ہر دونوں ممالک تین ہفتوں کے اندر امریکا میں ہونے والی ایک ملاقات میں دستخط کریں گے۔ اس اجلاس میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو اور امارات کے ولی عہد الشیخ محمد بن زاید آل نھیان شرکت کریں گے اور معاہدے پر دستخط کریں گے۔

ایک نظر اس پر بھی