بابری مسجد کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد پی ایف آئی نے کہا، فیصلہ غیرمنصفانہ ، بورڈ نے کہا، فیصلے کاکچھ حصہ ہمارے حق میں اور کچھ ہمارے خلاف، گلزار اعظمی نے کہا؛ مسلمان پانچ ایکڑ زمین کا محتاج نہیں

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 9th November 2019, 7:53 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی 9/نومبر (ایس او نیوز) سپریم کورٹ کی طرف سے   بابری مسجد کا فیصلہ  سامنے آنے کے بعد مختلف اداروں کےذمہ داران کی طرف سے مختلف  رائے سامنے آئی ہے۔ ایک طرف  پاپولر فرنٹ آف انڈیا کی مرکزی سیکریٹریٹ بابری مسجد حق ملکیت مقدمے پر سپریم کورٹ کے آج کے فیصلے کو غیرمنصفانہ سمجھتی ہے تو وہیں دوسری طرف  آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے   کہا ہے کہ عدالت کے فیصلے کاکچھ حصہ ہمارے حق میں ہے اور کچھ ہمارے خلاف آیا ہے۔سنی وقف بورڈ کے وکیل ظفریاب جیلانی نے کہا کہ ’’میں فیصلے کا احترام کرتا ہوں، لیکن مطمئن نہیں ہوں۔ ہم دیکھیں گے کہ اس معاملے میں کیا کچھ کیا جا سکتا ہے۔‘‘   ساتھ ساتھ انھوں نے عوام سے یہ اپیل بھی کی کہ وہ کہیں بھی کسی طرح کا احتجاجی مظاہرہ یا توڑ پھوڑ نہ کریں۔ سپریم کورٹ نے جو بھی فیصلہ سنایا ہے اس کا احترام کریں۔

اُدھر جمعیۃ العلما    ہند قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار احمد اعظمی نے ممبئی میں اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان پانچ ایکڑ زمین کا محتاج نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کی ثبوت و شواہد کی روشنی میں عدالت عظمیٰ سے انصاف کی امید تھی جو پوری نہیں ہو سکی ہے۔ اس تعلق سے مولانا ارشد مدنی  نے بھی اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے آج کے  فیصلے کو ہار اور جیت کے نظریے سے نہ دیکھنے اور ملک میں امن وامان اوربھائی چارہ کے ماحول کو باقی رکھنے  کی اپیل کی ہے۔ مولانا مدنی نے یہ بھی کہا کہ یہ فیصلہ ہماری توقعات کے مطابق نہیں ہے لیکن سپریم کورٹ اقتدار اعلیٰ ہے۔

اسدالدین اویسی نے کہا، حقائق پرآستھا کی جیت ہوئی ہے: سپریم کورٹ سے بابری مسجد رام مندر تنازعہ پر فیصلہ سنائے جانے کے بعد کل ہند مسلم اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسدالدین  اویسی نے کہا  کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلہ سے خوش نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے 5 ایکڑ زمین دئے جانے کی پیش کش کو مسترد کر دینا چاہئے۔ اویسی نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے ملک ہندو راشٹر کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے ایک ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پانچ ایکڑ زمین جو دینے کی بات کہی گئی ہے، اسے لینے سے انکار کر دیا جانا چاہیے کیونکہ پانچ ایکڑ زمین خریدنے کی قوت وہ رکھتے ہیں۔  اسد الدین اویسی نے کہا، ’’میں وکلاء کی ٹیم کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میں مسلم پرسنل لاء بورڈ سے اتفاق کرتا ہوں کہ میں سپریم کورٹ سپریم تو ہے لیکن ’یے عیب‘ نہیں ہے۔‘‘  انہوں نے کہا ’’مسلم طبقہ نے اپنے قانونی حقوق کے لئے جدوجہد کی ہے۔ ہمیں ’خیرات‘ کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ میرا ذاتی خیال ہے کہ 5 ایکڑ اراضی کی پیش کش ہمیں واپس کر دینی چاہئے۔‘‘  اسد الدین اویسی نے مزید کہا کہ حقائق پر استھا کی جیت ہوئی ہے اور مجھے اس بات کی فکر ہے کہ اب سنگھ  ’کاشی‘ اور ’متھرا‘ کا معاملہ بھی اٹھائے گا۔‘‘

مسلم پرسنل لاء بورڈ  کا موقف:   آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری حضرت مولانا محمد ولی رحمانی نے بابری مسجد کے سلسلے میں عدالت عظمی کے فیصلے پر ردعمل کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت عظمی کے فیصلے کاکچھ حصہ ہمارے حق میں ہے اور کچھ ہمارے خلاف ہے، مسلم فریق کی جانب سے بابری مسجد کیس کی مضبوط اور مؤثر پیروی کی گئی تھی اور بورڈ کے وکلاء نے دلائل وشواہد کی روشنی میں کورٹ کے سامنے یہ بات واضح کر دی تھی کہ بابری مسجدکسی مندر کو منہدم کرکے نہیں بنائی گئی تھی، اور ۱۵۲۸ سے دسمبر ۱۹۴۹ تک ہمیشہ اس مسجد میں نما ز باجماعت ہوتی رہی ہے۔ جس رات مسجد میں مو رتی رکھی گئی اس رات بھی عشاء کی نماز اداکی گئی۔ خودحکومت نے بھی ۱۹۵۰ میں جو دعویٰ دائر کیا اس میں اس حقیقت کو تسلیم کیا گیا ،نرموہی اکھاڑہ نے ۱۸۸۵ اور ۱۹۴۱ میں عدالت کے سامنے جو نقشہ پیش کیا اس میں اس جگہ پر مسجد ہونے کو تسلیم کیا گیااورچبوترہ پر جنم استھان ہونے کادعویٰ کیاگیا تھا۔پہلی دفعہ ۱۹۸۹ ء میں کورٹ میں دعویٰ کیاگیا کہ گنبدکے نیچے رام جی کی پیدائش ہوئی تھی۔خود کورٹ نے یہ تسلیم کیا کہ ۲۲؍دسمبر کی درمیانی شب میں مسجد کے اندر مورتیاں رکھی گئیں۔ ۱۹۸۹تک ہندو فریق نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ مسجدکے بیچ کے گنبد کے نیچے رام جی کی جائے پیدائش ہے۔ سخت افسوس ہے کہ اس تاریخی پس منظر اورزمین کے مالکانہ حق کے باوجود۱۹۴۹ میں مسجد میں مورتی رکھنے کے مجرمانہ فعل کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ یہاںتک کہ ۱۹۹۲ میں مسجدشہید کردی گئی، کورٹ نے خود ملکیت کے مقدمہ میں یہ تسلیم کیا تھا کہ فیصلہ کی بنیاد آستھا نہیں بنے گی اور نہ ہی آثار قدیمہ کی رپورٹ، لیکن اس کے برعکس دونوں ہی بنیادوں کوکورٹ نے اپنے فیصلہ میں تسلیم کرلیا۔ اسی طرح کورٹ نے ہماری یہ بات بھی مانی تھی کہ سیاحوں کے سفرناموں کو فیصلہ کی بنیاد نہیں بنایا جائیگا۔  اسی طرح نرموہی اکھاڑا نے اپنے کیس ۱۸۸۵ اور ۱۹۴۱ میں مسجد کی حیثیت کو تسلیم کیا تھا۔یہ ایک حقیقت ہے کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اپنی طرف سے قانونی وتاریخی دلائل و شواہد پیش کرنے میں ذرا بھی کوتاہی نہیں کی،اور کورٹ میں بھرپور طریقہ سے اس کیس کی پیروی کی، اس مقدمہ کا ریکارڈ دیکھ کر بخوبی اس کا اندازہ ہوتاہے، اس کے باوجود بابری مسجد کی زمین مندر کے لئے دے دی گئی جس پرہمیں بے حد تکلیف ہے، تاہم بورڈ اس فیصلہ کاتفصیلی جائزہ لے رہاہے۔ اس کے بعد نظرثانی (REVIEW PETITION) کی درخواست داخل کرنے کے بارے میں غورکرسکتا ہے یا اگلے قدم کے بارے میں کوئی فیصلہ کرے گا۔انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ اﷲ کے گھر کی حفاظت کی جو ذمہ داری مسلمانوں پر ہے بورڈ نے آپ سب کی طرف سے پوری طرح اس ذمہ داری کوادا کیا ہے۔ آپ مایوس اور بد دل نہ ہوں اور اپنی طرف سے ہرگز ایسے رد عمل کا اظہا رنہ کریں، جس سے ملک کا امن وامان متأثر ہو، مسلمانوں کے لیے محفوظ اورمناسب طریقہ کاریہ ہے کہ وہ آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کی ہدایات کاانتظار کریں اوربور ڈ کی طرف سے جو بھی ہدایات دی جائیں اس پر عمل کریں۔

پاپولر آف انڈیا کی پریس ریلیزپاپولر فرنٹ آف انڈیا کی طرف سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ  سپریم کورٹ کے آج کے فیصلے کو وہ غیرمنصفانہ سمجھتی ہے اور اس پر گہری مایوسی کا اظہار کرتی ہے۔ حالانکہ ابھی تفصیلات کا انتظار ہے، لیکن خبروں کے مطابق سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی زمین، مندر کی تعمیر کے لئے دے دی ہے اور مسلمانوں کو کسی دوسری جگہ پر دی جانے والی زمین پر مسجد تعمیر کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ پی ایف آئی کے مطابق سپریم کورٹ نے اس حقیقت پر زور دیا ہے کہ کوئی مندر منہدم کرکے مسجد نہیں بنائی گئی ہے۔ ساتھ ہی کورٹ نے یہ بھی مانا ہے کہ 1949 میں مسجد کے اندر مورتیاں رکھنا اور 1992 میں مسجد کو منہدم کرنا قانون کے خلاف تھا۔ لیکن بدقسمتی سے، ان تسلیم شدہ حقائق کے برخلاف، منہدم کردہ مسجد کی پوری زمین کو مندر کی تعمیر کے لئے دے دیا گیا۔ کورٹ کا یہ حکم کہ مسجد کے لئے مسلمانوں کو دوسری جگہ دی جائے، کوئی اہمیت نہیں رکھتا اور یہ کوئی انصاف نہیں ہے۔ پاپولر فرنٹ آف انڈیا کا کہنا ہے کہ  سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے  نہ صرف اقلیتی حقوق بلکہ آئینِ ہند کے بنیادی اصولوں پر سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ دنیا نے بابری مسجد کے خلاف منظم بربریّت کے متعدد واقعات کا مشاہدہ کیا ہے، یہاں تک کہ 1992میں مسجد کو منہدم کر دیا گیا۔ اس وقت کے وزیر اعظم کا دوبارہ اسی جگہ پر مسجد کی تعمیر کا وعدہ آج بھی باقی ہے۔ پی ایف آئی میں اپنے اخباری بیان میں کہا ہے کہ مسلمانوں کے ذریعہ بنائی گئی اور صدیوں تک عبادت کے لئے استعمال کی گئی بابری مسجد کے ساتھ انصاف کے لئے تمام جمہوری و قانونی طریقوں کو اپنایا جائے گا۔ ہم انصاف کی بحالی کے لئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور یوپی سنّی وقف بورڈ کی جدوجہد میں ان کے ساتھ ہیں۔ پاپولر فرنٹ آف انڈیا تمام طبقات کے لوگوں سے ایسی نازک گھڑی میں ملک میں ہر جگہ امن و آشتی قائم رکھنے کی اپیل کرتی ہے۔

کیا کہتے ہیں مولانا ارشد مدنی:   بابری مسجد حق ملکیت مقدمہ میں آج سپریم کورٹ کے ذریعہ دیے گئے فیصلہ پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے صدر جمعیة  علماءہند مولانا سید ارشد مدنی نے سب سے پہلے ہندوستان کے مسلمان اور برادران وطن سے یہ اپیل کی ہے کہ اس فیصلے کو ہار اور جیت کے نظریے سے نہ دیکھیں اور ملک میں امن وامان اوربھائی چارہ کے ماحول کو باقی رکھیں۔ مولانا مدنی نے یہ بھی کہا کہ یہ فیصلہ ہماری توقعات کے مطابق نہیں ہے لیکن سپریم کورٹ اقتدار اعلیٰ ہے۔ انہوں نے یہ اپیل بھی کی کہ مسلمان مایوسی کا شکار نہ ہوں ، اللہ پر بھروسہ کریں اوراپنی مسجدوں کو آبادرکھیں۔ انہوں نے آگے کہا کہ ملک کے آئین میں ہمیں جو اختیارات دیے ہیں ان کا استعمال کرتے ہوئے جمعیة علماءہند نے قانونی طور پر آخری حدتک انصاف کی لڑائی لڑی ہے۔اس کے لئے ملک کے ممتاز وکلاءکی خدمات حاصل کی گئیں،ثبوت وشواہد اکٹھا کئے گئے اور قدیم دستاویزات کے تراجم کرواکر عدالت میں پیش کئے گئے یعنی اپنے دعوے کو مضبوط کرنے کے لئے ہم جو کچھ کرسکتے تھے وہ کیا اور ہم اسی بنیاد پرپر امید تھے کہ فیصلہ ہمارے حق میں ہوگامگر ایسا نہ ہوسکا۔

گلزار اعظمی کے تاثرات:    بابری مسجد اور رام جنم بھومی معاملے میں آج سپریم کورٹ کی جانب سے فیصلہ ظاہر ہونے کے بعد جمعیۃعلماء ہند قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار احمد اعظمی نے ممبئی میں اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان پانچ ایکڑ زمین کا محتاج نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کی ثبوت و شواہد کی روشنی میں عدالت عظمیٰ سے انصاف کی امید تھی جو پوری نہیں سکی۔  انہوں نے مزید کہا کہ ہم سپریم کورٹ کے فیصلہ کا احترام کرتے ہیں،لیکن فیصلہ میں کافی تضاد ہیں،جس سے ہم مطمئن نہیں ہیں۔ایسے موقع پر ہمیں قرآن کے اس حکم کو پیش نظر رکھنا چاہئے جس میں کہا گیا ہے کہ  ’بعض باتیں آپ کو ناپسند ہوتی ہیں لیکن وہ خیر کا پہلو لئے ہوئے ہوتی ہیں‘۔مسلمانوں کو مایوس نہیں ہونا ہے،اور ملک کے امن و امان کو برقرار رکھتے ہوئے ترقی کی راہ پر گامزن ہونا ہے۔ گلزار اعظمی نے مزید کہا کہ ہم سپریم کورٹ ثبوت و شواہد کی بنیاد پر اپنا حق لینے گئے تھے،پانچ ایکڑ زمین کی بھیک لینے نہیں۔مسلمانوں کو مسجد کی جگہ کسی کو فروخت کرنے یا تبادلہ کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ ہم نے مسجد کا تقدس بحال کرنے کے لئے پوری قانونی لڑائی لڑی،ہمارے وکلاء نے نہایت دیانت داری کے ساتھ اپنا مقدمہ پیش کیا، ہم اتنے ہی کے مکلف تھے۔اور ہم شروع سے کہتے آرہے تھے کہ عدالت کا فیصلہ جو بھی ہوگا ہم اسے تسلیم کریں گے۔اور تسلیم کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اس فیصلہ کے خلاف کوئی احتجاج نہ کیا جائے،بلکہ امن و امان قائم رکھ کر اپنے مستقبل کو تابناک بنانے کی کوشش کی جائے۔

جماعت اسلامی ہند  بھی فیصلے سے مطمئن نہیں:     جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے آج صبح عدالت عالیہ کے ایودھیا فیصلے کے تناظر میں ملک کے تمام شہریوں سے امن اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنے کی اپیل کی، امیر جماعت نے میڈیا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ”ہم بابری مسجد ملکیت اراضی معاملےسے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے سے پوری طرح مطمئن نہیں ہیں، فیصلے کے بعض نکات انتہائی اہم ہیں جو آئین کو مستحکم کرتے ہیں، اور جن سے یقیناً ملک میں امن اور لا اینڈ آرڈر برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔ البتہ ہم فیصلے کے متعدد نکات سے متفق نہیں ہیں، خاص طور پر اس کے نتیجے سے۔  انہوں نے کہا کہ ہم ایک مہذب معاشرے میں رہتے ہیں جہاں قانون کو بالادستی حاصل ہے۔ ہم ہمیشہ سے کہتے آئے ہیں کہ ہم عدالت عالیہ اور عدالتی عمل کے نتیجے میں ہونے والے فیصلے کا احترام کریں گے اور اسے قبول کریں گے۔ عدالت عالیہ کا فیصلہ ہمارے وکیلوں کے زیر غور ہے کہ آیا اس میں نظرثانی یا ترمیم کی پٹیشن داخل کرنے کی گنجائش موجود ہے، نیز ہم اس سلسلے میں مسلم پرسنل لا بورڈ کے دیگر ارکان کے باہمی مشورے سے فیصلہ لیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ  ہم عدالت عالیہ کے فیصلے سے مطمئن نہیں ہیں، تاہم عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ فیصلے کا احترام کریں، قانون کا احترام کریں اور امن و امان نیز فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھیں۔ اس فیصلے کی وجہ سے فرقہ وارانہ پولرائزیشن نہیں ہونی چاہیے۔ یہ فیصلہ نہ کسی فریق کی فتح ہے نہ شکست۔

ایک نظر اس پر بھی

مودی-شاہ کی قیادت کی وجہ سے ایودھیا پر ایسا فیصلہ آیا، یوگا گرو بابا رام دیو نے نوے فیصد مسلمانوں کے آباء واجداد کو ہندو بتایا

 9 نومبر کو ایودھیا معاملے میں فیصلہ آنے کے بعدجہاں پہلے ہرطرف’’ امن اورکسی کی جیت نہیں ‘‘کے دعوے اوربیانات دیے جارہے تھے،اب حسب ِ توقع اشتعال انگیزبیانات آنے شروع ہوگئے ہیں۔جس سے سوال آتاہے کہ کیااپنے لیڈروں کوزبان قابورکھنے کی نصیحت بھی جملہ تونہیں تھی؟

لکھنؤ میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کے عاملہ کی میٹنگ، بابری مسجد معاملہ کے فریق اقبال انصاری ایکشن کمیٹی کی میٹنگ میں شریک نہیں ہوئے

 آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے عاملہ کی میٹنگ اتوار 17؍ نومبر کو دارالعلوم ندوۃ العلماء میں منعقد ہوگی، اس میٹنگ میں ملک بھر سے بورڈ کے ایکٹیو اراکین شامل ہونے کےلیے وہاں پہنچ چکے ہیں صبح ساڑھے گیارہ بجے سے میٹنگ شروع ہوگی۔

کشمیر: خراب موسمی حالات، جوتوں کی قیمتیں آسمان پر

 وادی کشمیر میں وقت سے پہلے ہی موسم کی بے رخی نے جہاں اہلیان وادی کو درپیش مصائب ومسائل کو دو بھر کردیا وہیں لوگوں کا کہنا ہے کہ جوتے فروشوں نے اس کا بھر پور فائدہ اٹھانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔

کشمیر میں غیر یقینی صورتحال کا 104 واں دن، ہنوز غیر اعلانیہ ہڑتالوں کا سلسلہ جاری

وادی کشمیر میں ہفتہ کے روز لگاتار 104 ویں دن بھی غیر یقینی صورتحال کے بیچ معمولات زندگی پٹری پر آتے ہوئے نظر آئے تاہم بازار صبح اور شام کے وقت ہی کھلے رہتے ہیں اور سڑکوں پر اکا دکا سومو اور منی گاڑیاں چلتی رہیں لیکن نجی ٹرانسپورٹ کی بھر پور نقل وحمل سے کئی مقامات پر ٹریفک جام ...