بابری مسجد مقدمہ محض اراضی کی لڑائی نہیں، یہ دستور اور قانون کی بالادستی کا معاملہ ہے: مولانا ارشد مدنی

Source: S.O. News Service | Published on 7th November 2019, 12:34 PM | ملکی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

نئی دہلی، 7؍نومبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) ’’قانون اور شواہد کی بنیاد پر بابری مسجد ملکیت مقدمے میں جو بھی فیصلہ آئے گا مسلمان اس کا احترام کریں گے۔ جمعیۃ علماء ہند کا روز اول سے یہی موقف رہا ہے کہ ہم عدالت کے فیصلے کو قبول کریں گے کیونکہ ہم عدلیہ اور ملک کے قانون کو نہ صرف محترم سمجھتے ہیں بلکہ ان پر اعتماد بھی رکھتے ہیں۔ ملک ہمارا ہے، آئین ہماراہے، سپریم کورٹ ہمارا ہے، ہم اس کے فیصلے کو قبول کریں گے اور میری ہر مذہبی و غیر مذہبی تنظیم، مسلم، ہندو، مرد و خواتین سب سے اپیل ہے کہ وہ عدالت کے فیصلے کا احترام کریں۔ ملک میں امن و امان ختم ہوا تو اکثریت و اقلیت دونوں کو نقصان اٹھانا پڑے گا۔‘‘ یہ بیان جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کانسٹی ٹیوشن کلب میں منعقد ایک انتہائی اہم پریس کانفرنس کے دوران دیا۔ مولانا ارشد مدنی نے مزید کہا کہ ’’ہماری بات چیت آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت سے لگاتار ہو رہی ہے اور اس بات پر وہ بھی متفق ہیں کہ عدالت کا فیصلہ سبھی کو قبول ہونا چاہیے۔ موہن بھاگوت بھی نہیں چاہتے کہ ملک میں بدامنی کا ماحول بنے اور یہی ایک نکتہ ہے جس پر میں اور موہن بھاگوت ایک ساتھ آئے ہیں۔‘‘

مولانا ارشد مدنی نے بابری مسجد مقدمہ کے تعلق سے پریس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’سینئر وکیل راجیو دھون نے بہت اچھی طرح سے دلیل و شواہد کو عدالت عظمیٰ کے سامنے رکھا ہے اور پوری امید ہے کہ ایودھیا اراضی تنازعہ میں فیصلہ بابری مسجد کے حق میں آئے گا۔‘‘ انھوں نے ساتھ ہی کہا کہ ’’کم و بیش چار سو سال سے بابری مسجد ایک مسجد تھی اس لیے وہ آج بھی شرعی لحاظ سے مسجد ہے اور قیامت تک مسجد ہی رہے گی۔ کسی فرد اور جماعت کو یہ حق نہیں ہے کہ کسی متبادل کی امید میں مسجد سے دستبردار ہوجائے۔ مسلمانوں کا یہ نقطہ نظر پوری طرح تاریخی حقائق و شواہد پر مبنی ہے کہ بابری مسجد کسی مندر کو منہدم کر کے یا کسی مندر کی جگہ پر تعمیر نہیں کی گئی ہے۔‘‘

پریس کانفرنس میں موجود ایک صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت کے تعلق سے مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ ’’موہن بھاگوت سے ہماری بات کئی بار ہوئی ہے اور ہم نے ہمیشہ ملک میں امن و امان قائم رکھنے کے تعلق سے گفتگو کی۔ میں اسے ایک بہت بڑی کامیابی تصور کرتا ہوں کہ آر ایس ایس جیسی بڑی تنظیم ’امن و امان‘ کو برقرار رکھنے کے لیے ہمارے ساتھ آئی ہے۔ مجھے امید ہے کہ آگے بھی ہماری بات چیت جاری رہے گی اور آہستہ آہستہ ہی صحیح، ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی فضا بہتر ہوگی۔‘‘

ایک نظر اس پر بھی

سبریمالہ مندر معاملہ 7 رکنی بنچ کے حوالے، جج نے کہا ’کیس کا اثر مندر ہی نہیں مسجد پر بھی پڑے گا‘

سپریم کورٹ نے آج ایک انتہائی اہم فیصلہ سناتے ہوئے سبریمالہ مندر میں سبھی عمر کی خواتین کے داخل ہونے سے متعلق نظر ثانی عرضی کو 7 رکنی بنچ کے حوالے کر دیا ہے۔ ساتھ ہی سپریم کورٹ نے فی الحال اس مندر میں خواتین کے داخلے پر روک لگانے سے انکار کر دیا ہے۔

پی ایم مودی، سونیا گاندھی، راہل گاندھی سمیت کئی اہم لیڈروں نے جواہر لال نہرو کو کیا یاد

آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کا آج یوم پیدائش ہے۔ اس موقع پر کانگریس صدر سونیا گاندھی، سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ، سابق صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی، سابق نائب صدر حامد انصاری وگیرہ نے شانتی وَن جا کر انھیں عقیدت کا پھول پیش کیا۔

مہاراشٹرا معاملے پر امت شاہ نے توڑی چپی؛ کہا مودی اور میں نے ہمیشہ یہی کہا کہ فڑنویس ہی وزیر اعلیٰ بنیں گے

ایک طرف شیوسینا سربراہ ادھو ٹھاکرے اور پارٹی کے دیگر لیڈران بار بار بی جے پی پر دھوکہ بازی کا الزام لگا رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ پہلے ڈھائی ڈھائی سال کے وزیر اعلیٰ بنانے پر بات ہوئی تھی جس سے اب بی جے پی پیچھے ہٹ رہی ہے، دوسری طرف بی جے پی لیڈران ایسے کسی معاہدے سے انکار کر رہے ...

کرناٹکا اسمبلی کے سابق باغی اراکین کی نااہلیت برقرار۔ لیکن انتخاب لڑ نے پر نہیں ہوگی پابندی۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ

سابقہ اسمبلی میں جن 17 کانگریس اور جے ڈی ایس اراکین نے بغاوت کی تھی، انہیں سپریم کورٹ سے تھوڑی سے راحت ملی ہے جس کا اثر ریاستی بی جے پی حکومت پر بھی پڑنے والا ہے۔

بھٹکل ڈونگر پلی میں آج رات ہوگا سیرت النبی کا شاندار جلسہ؛ دلچسپ اسلامک کوئیز اور نعتیہ مقابلہ؛ حاضرین کےلئے بھی ریفل ڈراء کے ذریعے ہوگاگولڈ کوئین

آج جمعرات بعد نماز عشاء ڈونگرپلی  ،مون اسٹار اسپورٹس گراونڈ پر  سیرت النبیﷺ کا شاندار جلسہ منعقد کیا گیا ہے جس میں اسلامک کوئیز کا سیمی فائنل اور فائنل  سمیت شاندار پیمانے پر نعتیہ مقابلہ بھی ہوگا۔