بابری مسجد: مصالحتی کمیٹی سے 18 جولائی تک رپورٹ طلب، ہمیں عدالت پر مکمل اعتماد: ارشد مدنی

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 11th July 2019, 11:18 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،11؍جولائی (ایس او نیوز؍پر ریلیز) بابری مسجد ملکیت تنازعہ کے ایک فریق گوپال سنگھ وشارد کی عرضی پر چیف جسٹس رنجن گگوئی کی سربراہی والی پانچ رکنی بینچ نے آج سماعت کرتے ہوئے مصالحت کمیٹی کو ہدایت کی کہ وہ 18 جولائی تک اپنی حتمی رپورٹ پیش کرے. چیف جسٹس رنجن گگوئی نے کہا کہ عدالت پہلے مصالحت کمیٹی کی رپورٹ کا مطالعہ کریگی اور اگر عدالت یہ محسوس کرے گی کہ مصالحت کے تعلق سے کوئی امید افزائ پیش رفت نہیں ہوئی اوریہ کہ مصالحت سے اس مسئلہ کاحل نکلتا ہوا محسوس نہیں ہو رہا ہے, تو عدالت آئندہ 25 جولائی سے اس معاملہ پر روزانہ سماعت شروع کرسکتی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ گوپال سنگھ وشارد بھی اس مقدمہ میں فریق ہیں پچھلے دنوں انہوں نے عدالت میں ایک عرضی داخل کرکے معاملہ کی جلد سماعت کی درخواست کی تھی۔ انہوں نے عرضی میں کہا تھا کہ مصالحت میں کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی ہے اس لئے اس کی باقاعدہ سماعت کی جانی چاہئے۔ عرضی پر غورکرتے ہوئے عدالت نے یہ اشارہ دیا کہ اگر مصالحت کی کوششوں میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے تو اب عدالت اس معاملہ کی عنقریب روزانہ سماعت کرسکتی ہے۔

واضح رہے کہ بات چیت کے ذریعہ اس معاملہ کا حل نکالنے کے لئے سپریم کورٹ نے سابق جج ایم ایم خلیفۃ اللہ کی سربراہی میں ایک تین رکنی پینل قائم کیا تھا جس میں مذہبی گرو شری شری روی شنکر اور سینئر ایڈوکیٹ شری رام پنچو شامل ہیں۔ پچھلی سماعت میں اس کمیٹی نے عدالت سے گزارش کی تھی کہ مصالت کے لئے اسے مزید مہلت دی جائے جس پر عدالت نے اسے 15 اگست تک کی مہلت دی تھی۔

جمعرات کے روز دوران کارروائی عدالت نے فریق اول جمعیۃ علما ہند کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ ڈاکٹر راجیودھون و دیگر وکلا موجودتھے۔ ڈاکٹرراجیودھون نے کہا کہ وہ عدالت کا حکم ماننے کو تیارہے اورجب بھی معاملہ کی سماعت شروع ہوگی وہ عدالت میں مزید بحث کے لئے موجودہوں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ موقع مصالحتی پینل پر تنقید کا نہیں ہے بلکہ ہمیں اس کی رپورٹ کا انتظار کرنا چاہئے کیونکہ یہ پینل خودعدالت نے تشکیل دیا تھا لیکن اگر فریق مخالف اس عمل سے اکتا گیا ہے تو اس میں مصالحتی پینل کا کوئی قصورنہیں ہے۔

جمعیۃ علما ہند کے صدرمولانا سید ارشد مدنی نے جمعرات یعنی 11 جولائی کی قانونی پیش رفت پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم تو شروع سے چاہتے ہیں کہ عدالت اس معاملہ میں اپنا فیصلہ دے لیکن چونکہ عدالت مصالحت کے ذریعہ اس کا حل چاہتی تھی اور اس کے لئے اس نے باضابطہ طور پر مصالحت کاروں کا ایک پینل بھی قائم کردیا تھا، اس لئے عدالت کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے ہم نے مصالحت کاروں کے ساتھ تعاون کیا اور ان کے سامنے اپنا موقف رکھا۔

مولانا مدنی نے کہا کہ ہمارے وکلا اب مصالحتی کمیٹی کی رپورٹ کا انتظارکررہے ہیں اور اب 18 جولائی کے بعد ہی یہ بات سامنے آئے گی کہ آئندہ عدالت کی حکمت عملی کیا ہوگی تاہم اگر 25 جولائی سے سماعت کا آغاز ہوتاہے تو اس کے لئے ہمارے وکلائ پوری طرح تیارہیں ، انہوں نے کہا کہ ہم عدالت کا نہ صرف احترام کرتے ہیں بلکہ اس پر اعتمادبھی کرتے ہیں ہم انصاف چاہتے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ عدالت محض اعتقادکی بنیادپر کوئی فیصلہ نہیں کریگی بلکہ اس کا فیصلہ ثبوت وشواہد کی بنیادپر ہوگا انہوں نے تمام لوگوں سے یہ اپیل بھی کی کہ وہ قانونی عمل پر اعتمادرکھیں اور صبروتحمل کے ساتھ عدالت کے فیصلہ کا انتظارکریں ساتھ ہی غیر ضروری بیان بازی سے بھی گریز کریں تاکہ معاشرہ میں کسی قسم کا اشتعال نہ پھیلے انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ ایک قانونی معاملہ ہے جو ملکیت سے جڑاہواہے اوراس معاملہ میں ہماراموقف بہت مضبوط ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

یوپی اسمبلی: پرینکا گاندھی کو سون بھدر جانے سے روکنے اور حراست پر زَبردست ہنگامہ

ریاستی حکومت کے ذریعہ کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا کو سون بھد رجانے سے روکنے، انہیں 27 سے زیادہ گھنٹوں تک حراست میں رکھنے و ریاست میں ایس پی حامیوں کے ہوئے رہے قتل پر یو پی اسمبلی میں کانگریس و ایس پی اراکین نے جم کر ہنگامہ کیا۔

مودی حکومت نے لوک سبھا میں ’آر ٹی آئی‘ ختم کرنے والا بل پیش کیا: کانگریس

  کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ ’کم از کم گورنمنٹ اور زیادہ سے زیادہ گورننس‘ کی بات کرنے والی مرکزی حکومت لوگوں کے اطلاعات کے حق کے تحت حاصل حقوق کو چھین رہی ہے اور اس قانون کو ختم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔