کرناٹک ہائی کورٹ نے اذان پر پابندی کے خلاف عرضی کو کیا خارج؛ کہا اذان سے دوسروں کے عقائد کی نہیں ہوتی خلاف ورزی

Source: S.O. News Service | Published on 23rd August 2022, 3:42 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،23؍اگست (ایس او نیوز؍ایجنسی) کرناٹک ہائی کورٹ کی دو رکنی بنچ نے مساجد سے اذان پر پابندی عائدکرنے کے مطالبہ پرمشتمل ایک عرضی کو یہ کہتے ہوئے خارج کردیا کہ اذان سے آئین کی آرٹیکل 25 اور 26 کے تحت دوسروں کے عقائد کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔اور ان آرٹیکل کے ذریعہ "مذہبی رواداری" کے اصول کومجسم کیا گیا ہے جو ہندوستانی تہذیب کی ایک خصوصیت ہے۔

کرناٹک ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس آلوک ارادھے اورجسٹس ایس وشواجیت شیٹی کی ڈویژن بنچ نے آج پیر کو ایک مفاد عامہ کی عرضی کو نمٹا دیا۔جس میں الزام لگایاگیا تھا کہ اذان کے مندرجات سے معاشرے کو تکلیف پہنچتی ہے۔معزز ججس نے کہا کہ اس استدلال کو کہ اذان کے مندرجات سے درخواست گزار اور دوسرے عقیدے کے لوگوں کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہوتی ہے کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔

درخواست گزارچندرشیکھر آر کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل منجوناتھ ایس ہالاور نے عدالت کوبتایا کہ اگرچہ اذان مسلمانوں کاایک ضروری مذہبی عمل ہے۔لیکن اذان میں استعمال ہونے والے’’اللہ اکبر‘‘ کے الفاظ (جس کا ترجمہ اللہ سب سے بڑا ہے) دوسروں کے مذہبی عقائدکو متاثر کرتے ہیں۔

انہوں نے حکام کے ذریعے ریاست کی مساجد کو لاؤڈ اسپیکر کے ذریعہ اذان کے مواد کو استعمال کرنے سے روکنے کی عدالت سے ہدایت طلب کی تھی۔وکیل کی جانب سے پیش کی جانے والی درخواست میں اذان کے دوسرے الفاظ بھی شامل تھے

تاہم معزز بنچ نے وکیل کو اسے پڑھنے سے روکتے ہوئے زبانی تبصرہ کیا اور کہا کہ ‘ اپنے بنیادی حقوق کی خودخلاف ورزی نہ کریں۔جج نے کہاکہ آپ نے عدالت کو بتایاہے کہ ان الفاظ کے سننے سے آپ کے حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو پھر آپ کیوں انہیں پڑھناچاہتے ہیں۔ بنچ نے کہاکہ دستورہند کی دفعہ25(1)کے تحت ہرشخص کواپنے مذہب پرکھل کر عمل کرنے اوراس کی تبلیغ کرنے کاحق حاصل ہے۔ تاہم یہ حق مطلق حق نہیں ہے بلکہ امن عامہ کی بنیاد پر پابندیوں سے مشروط ہے۔امن عامہ،اخلاقیات اور صحت کی بنیاد پر نیز ہندوستان کے آئین کے حصہ 3 میں دیگر دفعات کے تابع ہے۔

دو رکنی بنچ نے کہاکہ بلاشبہ درخواست گزار کے ساتھ ساتھ دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو بھی اپنے مذہب پر عمل کرنے کا حق حاصل ہے۔اور اذان مسلمانوں کو نماز پڑھنے کی دعوت ہے۔اور یہ معاملہ ہے کہ خود درخواست گزار نے اپنی رٹ پٹیشن کے پیرا 6 (b) میں استدعا کی ہے کہ اذان اسلام سے تعلق رکھنے والے افراد کا ایک لازمی مذہبی عمل ہے۔معزز ججس نے کہا کہ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ یہ خود درخواست گزار کا معاملہ نہیں ہے کہ آرٹیکل 25 کے تحت اس کے بنیادی حق کی ضمانت دی گئی ہے جو لاؤڈ سپیکر یا پبلک اڈریس سسٹم کے ذریعہ اذان دے کرکسی بھی طریقے سے خلاف ورزی کررہا ہے یا اس کے مندرجات سے درخواست گزار کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہوتی ہے یاوہ افراد جو دوسرے عقیدے سے تعلق رکھتے ہیں۔ساتھ ہی معزز ججس نے حکام کوہدایت دی کہ وہ اس بات کویقینی بنائیں کہ لاؤڈ اسپیکر،پبلک اڈریس سسٹم اور آواز پیداکرنے والے آلات اور دیگر موسیقی کے آلات کو رات 10 بجے سے صبح 6 بجے تک صوتی لہر کی شدت کے حساب سے استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

اس سلسلہ میں عدالت نے 17 جون کو ہائی کورٹ کی کوآرڈینیٹ بنچ کی جانب سے دئیے گئے حکم کا حوالہ دیا۔جس میں متعلقہ حکام کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ لاؤڈ اسپیکر اور پبلک اڈریس سسٹم کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے مہم چلائیں۔

ایک نظر اس پر بھی

منگلورو:کانگریس لیڈر رماناتھ رائے نے کہا؛ سی ٹی روی کے بیان نے بی جےپی کو ننگا کردیا ہے

بی جے پی میں راؤڈی شیٹر وں کی شمولیت کی حمایت میں سی ٹی روی نے جو بیان دیا ہے، اُس بیان نے بی جے پی کو ننگاکردیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار  سابق وزیر  اور کے پی سی سی کے نائب صدر بی ، رماناتھ رائی  نے کیا۔

مہاراشٹر-کرناٹک سرحد تنازعہ میں شدت، بیلگاوی میں مہاراشٹر کے ٹرکوں پر پتھراؤ، حالات کشیدہ

کرناٹک اور مہاراشٹر کے درمیان جاری سرحد تنازعہ نے بیلگاوی علاقہ میں حالات کو کشیدہ کر دیا ہے۔ سرحدی علاقہ بیلگاوی میں تشدد کے واقعات پیش آ رہے ہیں اور منگل کے روز تو بیلگاوی کے باگیواڑی میں شدید احتجاجی مظاہرہ دیکھنے کو ملا۔ اس دوران کرناٹک رکشن ویدیکے سے جڑے کارکنان نے ...

’مہاراشٹر کے وزراء نے بیلگاوی میں قدم رکھا تو ہوگی قانونی کارروائی‘، کرناٹک کے وزیر اعلیٰ بسوراج بومئی نے کیا متنبہ

مہاراشٹر اور کرناٹک کے درمیان سرحدی تنازعہ کو لے کر بیان بازی لگاتار بڑھتی جا رہی ہے۔ تازہ بیان کرناٹک کے وزیر اعلیٰ بسوراج بومئی کا سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے مہاراشٹر حکومت کو متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان کے وزراء نے کرناٹک کے بیلگاوی میں قدم رکھنے کی کوشش کی تو ان کے ...

منڈیا : مالا دھاری بھکتوں نے لگائے سری رنگا پٹن جامع مسجد کو ہنومان مندر بنانے کے نعرے - مسجد میں گھسنے کی کوشش پولیس نے کر دی ناکام  

زعفرانی جھنڈے اٹھائے ہوئے ہزاروں  مالا دھاری ہنومان بھکتوں کا جلوس 'سیکیرتھنا یاترا' کی شکل میں ہنومان مندر کی طرف جاتے ہوئے جب تاریخی سری رنگا پٹن جامع مسجد کے سامنے پہنچا تو نوجوان بھکتوں نے اچانک اشتعال انگیزی شروع کر دی اور جامع مسجد کو ہنومان مندر میں بدلنے کے نعرے لگانے ...

مرکزی حکومت کی طرف سے دلت، پسماندہ اور اقلیتی طلباء کا اسکالرشپ ختم کیا جانا انہیں تعلیمی حقوق سے بتدریج محروم کرنے کی حکمت عملی ہے: ایس ڈ ی پی آئی

سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کرناٹک کے ریاستی صدر عبدالمجید نے اپنے جاری کردہ اخباری بیان میں کہا ہے کہ مرکزی حکومت کی طرف سے تعلیمی سال 23۔2022سے ایس سی، ایس ٹی، پسماندہ طبقات، اور اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے پہلی سے آٹھویں جماعت کے تمام طلباء کو کوئی اسکالرشپ ختم ...