ایودھیا معاملہ پر فیصلہ صادر ہوتے ہی یو پی میں بند ہو سکتا ہے انٹرنیٹ

Source: S.O. News Service | Published on 9th November 2019, 10:26 AM | ملکی خبریں |

لکھنؤ،9؍اکتوبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) ملک کی سب سے بڑی عدالت یعنی سپریم کورٹ 10.30 بجے تاریخی فیصلہ سنانے والی ہے۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی قیادت والی 5 ججوں کی بنچ ایودھیا معاملے میں فیصلہ دے گی۔ سپریم کورٹ نے ایودھیا معاملہ میں 40 دن تک لگاتار سماعت کرنے کے بعد 16 اکتوبر کو اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔ اس دوران ہندو اور مسلم فریق دونوں کی ہی طرف سے زوردار دلیلیں عدالت کے سامنے رکھی گئیں۔

اتر پردیش میں سب سے زیادہ سیکورٹی: اس فیصلے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے پورے ملک میں سیکورٹی کے انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔ اتر پردیش میں خصوصی انتظامات کے تحت سبھی اسکول و کالج پیر کے روز تک بند ہیں۔ کئی شہروں میں انٹرنیٹ خدمات بھی بند کر دی گئی ہیں اور پوری ریاست میں دفعہ 144 نافذ کر دیا گیا ہے۔

ایودھیا کی ہوائی نگرانی: ایودھیا اور آس پاس کے علاقوں کی ہوائی نگرانی کی جا رہی ہے۔ اتر پردیش کے ڈی جی پی او پی سنگھ کا کہنا ہے کہ ’’ہم نے مذہبی لیڈروں اور شہریوں کے ساتھ ریاست بھر میں تقریباً 10 ہزار میٹنگیں کیں۔ ہم نے ریاست کے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر افواہیں نہ پھیلائیں۔ ایودھیا میں نیم فوجی دستوں کی تعیناتی کی گئی ہے۔ ہوائی سرویلانس کیا جا رہا ہے۔ خفیہ نظام کو تیار کیا گیا ہے اور تلاشی کی جا رہی ہے۔ اے ڈی جی رینک کے افسر کی ایودھیا میں تعیناتی کی گئی ہے تاکہ آپریشن پر نظر بنا کر رکھی جا سکے۔‘‘

رام للا کے پجاری نے کی امن بنائے رکھنے کی اپیل: رام للا کے پجاری مہنت ستیندر داس نے کہا کہ ’’میں سبھی سے اپیل کرتا ہوں کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی عزت کریں اور امن بنائے رکھیں۔ وزیر اعظم نے صحیح کہا ہے کہ ایودھیا کا فیصلہ کسی کی ہار یا جیت نہیں ہے۔‘‘

یو پی کے 31 اضلاع حساس قرار، غیر مستقل جیل کی ہوئی تعمیر: اتر پردیش کے ڈی جی پی او پی سنگھ نے کہا ہے کہ ریاست کے 31 اضلاع حساس ہیں جہاں سیکورٹی زیادہ سخت ہے۔ مرکز سے ملے 40 کمپنی نیم فوجی دستہ کو انہی اضلاع میں تعینات کیا جائے گا۔ سب سے سخت انتظام ایودھیا میں ہوگا۔ انھوں نے اشارہ دیا کہ فیصلہ آتے ہی ریاست میں انٹرنیٹ خدمات بند کی جا سکتی ہیں۔ دفعہ 144 نافذ کیے جانے کے ساتھ ہی سبھی اضلاع میں غیر مستقل جیل کی تعمیر بھی ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز پوسٹ ڈالنے والے 673 لوگ نگرانی میں ہیں۔ 10 نومبر کو بارہ وفات اور 11 سے 13 کو کارتک پورنیما کے لیے بھی پولس کو ہائی الرٹ کیا گیا ہے۔ 31 اضلاع جو حساس ہیں ان میں ایودھیا، آگرہ، میرٹھ، مراد آباد، علی گڑھ، پریاگ راج، لکھنؤ، وارانسی، مظفر نگر، سہارنپور، شاملی، باغپت، بلند شہر، رام پور، مین پوری شامل ہیں۔

16000 والنٹیرس تعینات: ایودھیا پولس نے سوشل میڈیا پر کسی بھی طرح کی غلط تشہیر یا کسی بھی فرقہ کے خلاف اشتعال انگیز مواد پھیلائے جانے پر نظر رکھنے کے لیے ضلع کے 1600 مقامات پر 16 ہزار والنٹیر تعینات کیے ہیں۔ گڑبڑی روکنے کے لیے 3000 لوگوں کو نشان زد کر کے ان کی نگرانی کی جا رہی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی