گلبرگہ میں سنٹرل یونیورسٹی کرناٹک کو زعفرانے کی کوشش جاری، طلباکاالزام

Source: S.O. News Service | Published on 12th September 2022, 12:17 PM | ریاستی خبریں |

گلبرگہ ،12؍ستمبر (ایس او نیوز؍راست)  سنٹرل یونیورسٹی آف کرناٹک موقوعہ گلبرگہ کے کئی ایک طلبانے الزام عائد کیا ہے کہ یونیورسٹی اسٹاف کے چند ارکان ہر صبح طلبا کے ساتھ نشستیں منعقدکرتے ہیں اور یونیورسٹی کے کیامپس کو زعفرانے کی کوشش کررہے ہیں۔ ان طلباکاکہنا ہے کہ کئی ایک طلبا یونیورسٹی کیامپس میں اس طرح کی سرگرمیوں کے سخت مخالف ہیں اور انھوں نے وائیس چانسلر کو دو ماہ قبل احتجاجی یادداشت بھی پیش کردی ہے۔اس یادداشت میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کی سرگرمیوں اور پروپگنڈوں سے 1400طلبا پر مشتمل اس یونیورسٹی کیامپس کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی متاثر ہوجائیگی۔ واضح رہے کہ سنٹرل یونیورسٹی موضع کڑگنچی تعلقہ الند ضلع گلبرگہ میں سال 2009می قائیم کی گئی تھی۔ طلبا نے اپنی یادداشت میں کہاہے کہ ہمیں یونورسٹی کے باہر ہندوتوا کی سرگرمیوں پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن ہماری یونیورسٹی کو چندفیاکلٹی ارکان سیاست کھیلتے ہوئے آر ایس ایس کا اڈہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ گزشتہ مہینہ انھوں نے آر ایس ایس کے ایک قومی لیڈر کو یونیورسٹی کیامپس میں مدعوکرکے یونیورسٹی میں آر ایس ایس یونٹ قائم کرنے کے لئے کہا تھا۔ اس طرح یہ چندفیاکلٹی ممبرس اور کچھ طلبا مل کر دیگر طلبایونیورسٹی میں یہ خوف پیداکررہے ہیں کہ اگر انھوں نے اس سرگرمیوں کی مخالفت کی تو اس صورت میں انھیں معطل کردیاجائے گا۔ اس یونیورسٹی میں اس طرح کی سرگرمیاں ایک سال پہلے شروع ہوئی ہیں جب کہ موجودہ وائیس چانسلرنے اپنے عہدہ کا جائیزہ لیا تھا۔ ایک طالب علم کاکہنا تھاہ اگر اس کی شناخت ظاہرہوگئی تو اس صورت میں یونیورسٹی اس کیپی ایچڈی مکمل ہونے پر روک لگادے گی۔ 

راجستھان سے تعلق رکھنے والے پوسٹ گریجویشن کے ایک طالب علم نے دعویٰ کیا ہے کہ اے بی وی پی کے ارکان کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بجائے کیامپس میں قیام کرنے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ وہ ہندوتوا کی آئیڈیالوجی کی تبلیغ کرسکیں۔ لیکن اس کے برخلاف اے بی وی پی کیامپس کے صدر اور آر ایس ایس کے سوئیم سیوک نریندر چودھری نے کہا ہیکہ تقریبا 40تا 50طلبا ہر صبح فیاکلٹی ارکان کے ساتھ کیامپس میں جمع ہہوجاتے ہیں تاکہ وہاں صحت کو بہتر بنانے کیلئے ورزش،یوگا اور پرانائیم وغیرہ کرسکیں اور پھر یہ کہتے ہیں کہ یہ کوئی آر ایس ایس کی نشست نہیں ہے۔ پی ایچ ڈی کرنے والے ایک اور طالب علم کا کہناتھاکہ ہمیں یوگا پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکنیہاں طلبا اپنے ہاتھوں میں بمبو ؤں کی لکڑیاں تھامے ہوئے آر ایس ایس کے ڈرل کرتے ہیں۔ اس سے ہم آہنگی متاثر ہوگی۔ اس طالب علم نے کہا کہ آئیندہ انتخابات کے پیش نظر طلبا کو آلہ کے طورپر استعمال کیاجارہا ہے۔ اس ضمن میں وائیس چانسلر بٹو ستیہ نارائین نے اپنے اخباری بیان میں مذکورہ بالا الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک ان کی کارکردگی متاثر نہیں ہوتی وہ اس معاملہ میں مداخلت نہیں کریں گے۔ اگر آر ایس ایس ایک ممنوعہ تنظیم ہے تو اس صورت میں پولیس کو اس معاملہ کاروائی کرنے دیجئے۔۔ رجسٹرار یونیورسٹی بسواراج دونورنے کہا ہے کہ یونیورسٹی مزکورہ بالا آئیڈیالوجی کی نہ توتائید کرتی ہے اور نہ ہی مخالفت، آر ایس ایس کوئی ممنوعہ تنطیم نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ چند افراد یونیورسٹی کے وقارکومتاثر کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

بجٹ 2023: ’کوئی امید نہیں، بجٹ ایک بار پھر ادھورے وعدوں سے بھرا ہوگا‘، سدارمیا کا اظہارِ خیال

یکم فروری کو مرکز کی مودی حکومت رواں مدت کار کا آخری مکمل بجٹ پیش کرنے والی ہے۔ مرکزی وزیر مالیات نرملا سیتارمن کے ذریعہ بجٹ پیش کیے جانے سے قبل بجٹ 2023 کو لے کر کانگریس کے کچھ لیڈران نے اپنے خیالات ظاہر کیے ہیں۔

کرناٹک ہائی کورٹ کی وارننگ، کہا: چیف سکریٹری دو ہفتوں میں لاگو کرائیں حکم

کرناٹک ہائی کورٹ نے منگل کو انتباہ دیا کہ اگر ریاستی حکومت دو ہفتوں کے اندر سبھی گاؤں اور قصبوں میں قبرستان کے لئے زمین فراہم کرانے کے اس کے حکم پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہتی ہے تو وہ چیف سکریٹری کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے پر مجبور ہوجائے گا ۔

منگلورو: محمد فاضل قتل میں ہندوتوا عناصر ملوث ہونے کا دعویٰ - اپوزیشن پارٹیوں نےکیا کیس کی دوبارہ جانچ کامطالبہ 

بی جے پی یووا مورچہ لیڈر پروین نیٹارو قتل کے بدلے میں عناصر کی طرف سے سورتکل میں محمد فاضل کو قتل کرنے کا کھلے عام دعویٰ کرنے والے وی ایچ پی اور بجرنگ دل لیڈر شرن پمپ ویل کے خلاف کانگریس ، جے ڈی ایس اور ایس ڈی پی آئی جیسی اپوزیشن پارٹیوں نے اس قتل کیس کی ازسر نو جانچ کا مطالبہ کیا ...

ٹمکورو میں اشتعال انگیز بیان دینے والے شرن پمپ ویل سمیت دیگر ہندوتوا لیڈروں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ لے کر اے پی سی آر نے ایس پی کو دیا میمورنڈم

حال ہی میں ریاست کرناٹک کے  ٹمکور میں  منعقدہ شوریہ یاترا کے دوران وی ایچ پی لیڈر شرن پمپ ویل نے جو متنازع اور اشتعال انگیز بیان دیا  تھا ، اس پر کٹھن کارروائی کرتے ہوئے اسے گرفتارکرنے کا مطالبہ لے کر  ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سوِل رائٹس (اے پی سی آر) کے  ایک وفد نے ٹمکورو ...