بنگلورو کے سب سے بڑے وکٹوریہ اسپتال کی خوفناک حقیقت-وینٹی لیٹرکے 97فیصد کورونا متاثرین کی موت

Source: S.O. News Service | Published on 18th July 2020, 10:59 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،18؍جولائی(ایس او نیوز) بنگلورو کے سب سے بڑے کووِڈاسپتال وکٹوریہ اسپتال میں زیر علاج مریضوں کے متعلق سامنے آنے والے اعداد و شمار کے ذریعہ رونگٹے کھڑے کردینے والی یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ جو مریض دوران علاج وینٹی لیٹر پر گئے ہیں، اُن میں سے97فیصد کی موت ہو چکی ہے-

بتایا جاتا ہے کہ وکٹوریہ اسپتال میں داخل ہونے والے تمام کورونا متاثرین میں سے 91کو اب تک وینٹی لیٹر پر رکھا گیا اور ان میں سے بدقسمتی سے صرف 8ہی بچ سکے، باقی 83نے وینٹی لیٹر کا سہارا ہونے کے باوجود دم توڑ دیا-بتایا جاتا ہے کہ وینٹی لیٹر فراہم کئے جانے کے باوجود بھی علاج پورا نہ ہو کر مرنے والوں کا یہ اوسط دنیا میں سب سے زیادہ ہے-

امریکہ اور اٹلی میں بھی وینٹی لیٹر دئیے جانے کے باوجود لوگوں کی اموات ہوئیں، ان کا اوسط بھی بنگلورو کے مقابل کم رہا- کرناٹک اور خاص طور پر شہر بنگلورو میں کورونا متاثرین کی تعداد بڑھتی ہی جا رہی ہے-ایک صدی سے زیادہ پرانے وکٹوریہ اسپتال کو صرف کورونا وائرس متاثرین کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے- حکومت نے یہ اعلان کیا تھا کہ وکٹوریہ اسپتال کے 300 بستروں کو وینٹی لیٹرسے آراستہ کیا جائے گا - لیکن یہ حقیقت اب سامنے آ رہی ہے کہ اس اسپتال میں صرف 100وینٹی لیٹر ہی کام کر رہے ہیں ا ور ان وینٹی لیٹر س سے جن جن مریضو ں نے علاج کروایا ان میں سے بیشتر کی موت ہو چکی ہے-

اس کی وجہ بتاتے ہوئے ماہرین نے کہا ہے کہ اکثر ایسے مریضوں کو ہی وینٹی لیٹر سے جوڑا جا تا ہے جن کی حالت انتہائی نازک ہو تی ہے اور ان کے مصنوعی سانس لینے کے انتظام کے بغیر بچنے کے امکانات بہت ہی کم ہو تے ہیں - صرف کورونا وائرس ہی نہیں عام دنوں میں بھی وینٹی لیٹر کے ذریعے مصنوعی سانس کے انتظام کے بعد علاج کو مؤثر بنانے کی کوششوں میں کامیابی کا اوسط کافی کم ہی رہا ہے - ایسے میں جبکہ کورونا سے متاثر مریض میں قوتِ مدافعت پہلے ہی کم ہوتی ہے، اس لئے مصنوعی آلہ بھی ان مریضوں کے لئے کارگر ثابت نہیں ہو پاتا- اس کے علاہ یہ بھی مانا جاتا ہے کہ بعض اوقات وینٹی لیٹر کی خرابی بھی علاج کو بے اثر کردیتی ہے اور اس کے سبب مریض کو بچانا مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن ہو جاتا ہے -

بتایا جاتا ہے کہ وکٹوریہ اسپتال کے آئی سی یو میں اب تک 300سے زائد کورونا متاثرین نے داخلہ لیا ہے اور ا ن میں سے 90سے زائد کی مو ت ہو چکی ہے - اسپتال میں وینٹی لیٹر پر جانے والے مریضوں میں سے اتنی بڑی تعداد میں مریضوں کی موت نے ڈاکٹروں میں بھی خوف پیداکردیا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ کسی بھی مریض کو وینٹی لیٹر سے جوڑنے سے پہلے بار بار سوچا جا رہا ہے اور یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ اس کو وینٹی لیٹر کے بغیر ہی بچایا جائے-

انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق بنگلورو کے سینٹ جان میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل کے سینئر پروفیسر کا کہنا ہے کہ وینٹی لیٹرپر 97 فیصدی مریضوں کی موت کی شرح سے پتہ چلتا ہے کہ انٹنسیو کیئر میں کچھ گڑبڑی ہے- اٹلی میں کورونا کے انتہاپر ہونے کے باوجود وہاں وینٹی لیٹر پرمریضوں کی موت کی شرح 65 فیصدی تھی-وکٹوریہ ہاسپٹل میں شروعات میں کورونا مریضوں کے لئے 1200 بیڈ ہونے تھے لیکن بعد میں اسے صرف 550بیڈ کر دیا گیا، جو جولائی کی شروعات میں بھر گئے-پچھلے عشرہ میں ہاسپٹل میں 30 سے زیادہ ا موات ہوئی تھیں، جبکہ اپریل اور جون میں یہ 58تھی-

بی ایم سی آرآئی میں کووِڈ-19 کورکمیٹی کی نوڈل افسر ڈاکٹر اسمتھا سیگو نے کہاکہ15جولائی تک ہاسپٹل میں 206مریض بھرتی ہوئے اور آئی سی یو میں 91موتیں ہوئیں جبکہ آئی سی یو سے103 لوگ ڈسچارج بھی ہوئے-انہوں نے کہا کہ وینٹی لیٹرپر رکھے گئے مریضوں کی بہت زیادہ موت کی شرح کی وجہ یہ ہے کہ دیگرہاسپٹل ان کا علاج کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے، جس کے بعد یہ مریض وکٹوریہ ہاسپٹل پہنچے-ڈاکٹر سیگو نے کہاکہ یہ موتیں ہاسپٹل میں دیری سے بھرتی کرنے کی وجہ سے ہوئی ہیں - جو مریض وقت پر ہاسپٹل پہنچے، ان میں سے کچھ ہی آئی سی یو میں گئے- وہ بہت بری حالت میں ہاسپٹل آئے تھے، جن میں سے39مریضوں کی ہاسپٹل میں بھرتی ہونے کے24 گھنٹوں کے اندر ہی موت ہو گئی تھی-انہوں نے کہا کہ جن95 فیصدی لوگوں کی موت ہوئی ہے، ان میں کئی بیماریاں تھیں جبکہ30فیصدی کی عمر 60سے زیادہ تھی-

ڈاکٹر سیگو نے کہاکہ ہم تیزروانی کے آکسیجن سپورٹ سے مریضوں کا علاج کرنا چاہتے تھے لیکن جب مریضوں کی حالت میں سدھار نہیں ہوا تو ہمیں انہیں وینٹی لیٹر پر رکھنا پڑا-راجیو گاندھی یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر ڈاکٹر سچدانند نے کہا کہ وہ ابھی بھی وکٹوریہ ہاسپٹل میں کورونا سے بہت زیادہ موت کی شرح کی تکنیکی وجوہات کاتجزیہ کر رہے ہیں -انہوں نے کہاکہ ہمیں ابھی تک اس سلسلے میں کوئی پیپر نہیں ملا ہے- ہم نے اب تک 1000آڈٹ کئے ہیں - ہم نے ان آڈٹ کو ڈی سینٹرلائزکرنے کا فیصلہ کیا ہے- ایسا کرنا ایک ٹیم کے لئے انسان کے طور پرممکن نہیں ہے-ڈاکٹر سچدانند کرناٹک میں مارچ مہینے سے ہی کورونا سے ہوئی موتوں کی آڈٹ کر رہے ماہرین کی کمیٹی کے سربراہ بھی ہیں -کرناٹک سرکار نے بنگلورو میں 300 سے زیادہ آئی سی یو بیڈ ہونے کا دعویٰ کیا ہے، جن میں سے صرف 80 آئی سی یو بیڈ ہی سرکاری اسپتالوں میں ہیں - جمعرات تک بنگلورو میں 317 مریض آئی سی یو میں بھرتی ہوئے ہیں -

بشکریہ: سالارنیوز،دی وائر

ایک نظر اس پر بھی

کانگریس اور جے ڈی ایس لینڈریفارم ترمیمی ایکٹ کی سخت مخالف، کسانوں کے حقوق اورزمین کی حفاظت کیلئے جدوجہدکریں گے:سدارامیا

کسانوں کے حقوق کے ساتھ ان کی زمینوں سے بھی بے دخل کرنے پرآمادہ ریاستی حکومت کے لینڈریفارم ایکٹ کے ترمیمی مسودہ کے خلاف اسمبلی سیشن میں نہایت سختی کے ساتھ آوازاٹھائیں گے۔