آسام پولس ایکشن معاملہ : بے بس اور نہتے لوگوں کےخلاف آسام پولس کی کارروائی وحشیانہ اس ظلم کی رودادلفظوں میں بیان نہیں کی جاسکتی:مولانا ارشدمدنی

Source: S.O. News Service | Published on 24th September 2021, 11:31 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،24؍ستمبر(ایس او نیوز؍پریس ریلیز) صوبہ آسام کے درانگ ضلع میں دھال پور بستی میں کُل 800 گھروں کو پولیس وانتظامیہ کے ذریعہ مسمار کئے جانے کے خلاف اپنی جمہوری حق کے مطابق پرامن احتجاج کر رہے بے بس اور غیر مسلح لوگوں کے خلاف ہونے والی پولیس کارروائی کو انتہائی وحشیانہ قرار دیتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ یہ ظلم ایسا ہے جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔

مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ ظلم و بربریت کا جو ننگا ناچ وہاں ہوا ہے اس کی کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہ ظلم ہندوستان جیسے جمہوری ملک کے لئے انتہائی خطرناک ہے۔ افسوس اپنے ہی ملک میں اپنے جمہوری حق کا استعمال کرتے ہوئے پرامن احتجاج کو طاقت کے ذریعہ کچلنے کے لئے غیر قانونی اور تشدد کا ایسا وحشیانہ طریقہ اختیار کرنا جسے دیکھ کر انسانیت شرمندہ ہو جائے، کسی بھی مہذب سماج کے لئے قابل قبول نہیں ہے۔

مولانا مدنی نے یہ بھی کہا کہ یہ انسانی حقوق کی سنگین پامالی کا معاملہ ہے، اس لئے کہ اگر وہ لوگ سرکاری زمین پر آباد تھے تو قانونی طور پر پہلے نوٹس جاری کیا جانا چاہئے تھا۔ دوسرے وہ کوئی غیر ملکی نہیں ہیں، اسی ملک کے شہری ہیں، اور پچاسوں سال سے آباد ہیں، جن کو یقیناً اس وقت وہاں کی گورنمنٹ نے اجازت دی تھی اور بسایا تھا۔ اس لئے اجاڑنے سے پہلے انہیں کوئی متبادل جگہ آباد ہونے کے لئے فراہم کی جانی چاہئے تھی۔ مگر ایسا نہیں کیا گیا، ہمیں بتایا گیا ہے کہ آبادیوں کے اجاڑنے کی اس مہم میں دو مسجدوں کو شہید کرنے کے ساتھ ساتھ ایک مدرسہ کو بھی ملبہ کا ڈھیر بنا دیا گیا ہے۔

مولانا مدنی نے آسام پولیس کی کارروائی پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کے لوگ خود کو اس طرح جبراً بے گھر کئے جانے کے خلاف جمہوری طریقہ سے احتجاج کر رہے تھے، لیکن ریاستی سرکارکو غالباً یہ جمہوری احتجاج پسند نہیں آیا اور گولی چلوا دی، جس میں میری معلومات کے مطابق دو لوگوں کی موت ہو گئی اور بہت سے لوگ شدید زخمی ہیں۔ مولانا مدنی نے اخیر میں کہا کہ آج جمعیۃ علماء آسام کے نائب صدر رقیب الحسن گورنر سے ملاقات کر رہے ہیں۔ حکومت سے ہمارا مطالبہ ہے کہ اس واقعہ کی اعلیٰ سطحی جوڈیشیل انکوائری کرائی جائے۔ اجاڑے گئے خاندانوں کی باز آبادکاری کا بندوبست کیا جائے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ حکومت انسانی حقوق کو اولیت دیتے ہوئے مظلوموں کوانصاف دے گی اور آئندہ ایسی حرکتیں نہیں ہوں گی۔

واضح رہے کہ جمعیۃعلماء آسام کے صدر مولانا مشتاق عنفر ابتداء ہی سے اس سلسلہ میں تگ و دو کر رہے ہیں اور جمعیۃ علماء آسام مصیبت کی اس گھڑی میں مظلوموں کے ساتھ کھڑی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے سینٹرل وسٹا پروجیکٹ پر جواب طلب کیا

سپریم کورٹ نے ہزاروں کروڑ روپے کے سینٹرل وسٹا پروجیکٹ پر سوال اٹھانے والی عرضی پر پیر کو مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا۔ جسٹس اے۔ ایم کھانولکر اور جسٹس سی ٹی روی کمار کی بنچ نے سماجی کارکن راجیو سوری کی درخواست پر مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔

جموں و کشمیر کو جلد ہی مکمل ریاست کا درجہ ملنا چاہیے:ادھیررنجن چودھری

کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے ہفتہ کو جموں و کشمیر میں سیاسی نظم و ضبط کی بحالی کا مطالبہ کیا اور جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ جلد سے جلد اسمبلی انتخابات کرائے جا سکیں۔

اننیا پانڈے این سی بی کے سامنے پیش نہیں ہوئیں

بالی ووڈ اداکارہ اننیا پانڈے منشیات سے متعلق کیس میں گرفتار آرین خان کے ساتھ مبینہ واٹس ایپ چیٹ کے سلسلے میں پوچھ گچھ کے لیے پیر کو یہاں نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) کے سامنے پیش نہیں ہوئیں۔