حاجیوں کے پہلے قافلے کی مکہ مکرمہ آمد، منیٰ جانے سے قبل کریں گے قیام

Source: S.O. News Service | Published on 25th July 2020, 9:15 PM | خلیجی خبریں |

ریاض،25؍جولائی(ایس او نیوز؍ایجنسی) سعودی عرب میں مقیم عازمین حج کا پہلا کارواں جمعہ کو مکہ مکرمہ پہنچ گیا۔ وزارت حج و عمرہ کے اعلی عہدیداروں نے محکمہ شہری ہوابازی کے تعاون سے کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئر پورٹ جدہ پر قصیم سے آنے والے عازمین حج کا خیرمقدم کیا۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق تمام متعلقہ اداروں نے اس سال حج کرنے والوں کی خدمت کے لیے انتظامات مکمل کرلیے۔ سیکیورٹی، صحت اور مختلف اداروں نے جامع عملی پروگرام پر عمل درآمد کا آغاز کر دیا۔

یاد رہے کہ وزارت حج و عمرہ نے مکہ مکرمہ میں عازمین حج کو ٹھہرانے کے لیے انتظام کر لیا ہے جہاں وہ منی جانے سے قبل قیام کریں گے۔ 4 ذی الحجہ سے 8 ذی الحجہ تک ہوٹل میں رہیں گے۔ ہر عازم حج کے لیے ایک ایک کمرہ ہے۔ کمرے میں آب زمزم کی سینیٹائز بوتلوں سے لے کر سنیکس، پھلوں اور مٹھائیوں کی باسکٹوں سمیت ناشتے ، ظہرانے اور رات کے کھانے تک کے انتظامات کیے گئے ہیں۔

دریں اثنا مکہ مکرمہ ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے منی، مزدلفہ اور عرفات میں آپریشنل پلان جاری کر دیا ہے۔ اتھارٹی کے ترجمان جلال کعکی نے بتایا کہ ہمارا سارا زور کورونا وائرس سے بچاؤ کے حفاظتی اقدامات پر ہے۔

کعکی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جمرات کے پل (وہ مقام جہاں شیطانوں کو کنکریاں ماری جاتی ہیں) کی اصلاح ومرمت اور اسے استعمال کرنے کے طور طریقوں کا انتظام کرلیا گیا ہے۔ تمام سسٹمز چیک کرلیے گئے ہیں۔

ترجمان نے بتایا کہ سی سی کیمروں کے روم موثر ہیں۔ حاجیوں کے قافلوں کو منظم کرنے اور حج مقامات پر صفائی کی سکیمیں تیار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے آپریشنل پلان کے تحت العزیزیہ اور الشعبین کو جمرات کے پل سے جوڑ دیا گیا ہے۔ الشعبین اور العزیزیہ پروجیکٹ کے ذمہ دار سیکیورٹی اداروں سے رابطے میں ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

سعودی عرب کی حکومت کا اہم فیصلہ

سعودی پبلک پراسیکیوشن نے قانون تحفظ اطفال کے حوالے بعض نکات کی وضاحت کی ہے، جس کے مطابق بچوں کے ساتھ کیے جانے والے غیر قانونی سلوک پر سخت سزائیں دی جائیں گی۔ ...

مطافِ کعبہ میں تنہا دعا کرنے والی دنیا کی خوش قِسمت خاتون

کورونا وائرس کی وَبا کے پیش نظر اس مرتبہ حج کے ایّام میں بعض بڑے نادر اور منفرد واقعات پیش آئے ہیں جن کا عام حالات میں تصور بھی ممکن نہیں۔ ایسے واقعات میں تازہ اضافہ ایک تنہا مسلم خاتون کی کعبۃ اللہ کے سامنے عبادت وریاضت ہے اور ان کے ساتھ مطاف میں کوئی دوسرا فرد نظر نہیں آرہا ہے۔