جیو-جنگ گروپ کے سرابرہ شکیل الرحمن کی گرفتاری میڈیا مالکان کیلئے الارم ہے  

Source: S.O. News Service | By INS India | Published on 14th March 2020, 9:14 PM | عالمی خبریں |

 لاہور /14مارچ (آئی این ایس انڈیا)امریکی ریاست نیویارک میں قائم صحافیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے جیو گروپ کے مالک اور روزنامہ جنگ کے ایڈیٹر اِن چیف میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

پیرس میں قائم رپورٹرز ود آؤٹ بارڈر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے۔پاکستان کے صحافیوں کی ملک گیر تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کے مختلف دھڑوں اور ایڈیٹرز کی تنظیم نے بھی میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کی مذمت کی ہے۔پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری کو آزادی صحافت پر پابندی قرار نہیں دے رہی۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر مہدی حسن کہتے ہیں کہ میر شکیل الرحمن کی گرفتاری کسی خبر کے حوالے سے نہیں ہے۔ البتہ یہ دباؤ ڈالنے کی کوشش ہو سکتی ہے۔سینئر صحافی اور تجزیہ کار سلیم بخاری سمجھتے ہیں کہ یہ 34 سالہ پرانا کیس ہے۔ اسے جس طرح بنایا گیا ہے اس سے کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔سلیم بخاری نے کہا کہ نیب کے ساتھ میر شکیل الرحمان اور جنگ گروپ کی مخاصمت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ نیب کے چیئرمین کی مبینہ ویڈیو اسکینڈل کو جس طرح سے جیو نے چلایا تھا اس وقت سے ان کو دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔نیب نے انہیں بلایا کاغذات کی تصدیق کے لیے اور انہیں گرفتار کر لیا گیا۔سلیم بخاری کے بقول میر شکیل الرحمن کی گرفتاری انتقامی کارروائی کا نتیجہ لگتی ہے۔ جس دن انہیں ریمانڈ کے لیے لے جایا گیا، اسی دن ایک من پسند میڈیا گروپ کے ذریعے اْن کی جیل کی سلاخوں کے پیچھے تصویر جاری کرا دی گئی۔سینئر صحافی اور تجزیہ کار عدنان عادل کہتے ہیں کہ میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری آزادی صحافت پر حملہ نہیں ہے۔ وہ اِس کیس کو اس وقت سے جانتے ہیں جب یہ زمین میر شکیل کو تحفے میں دی گئی تھی۔عدنان عادل نے بتایا کہ 1985 میں جب جنرل (ر) ضیاء الحق مرحوم نے نواز شریف کو وزیراعلیٰ جاب نامزد کیا تھا تو کل تین امیدوار تھے۔ مخدوم صاحبزادہ حسن محمود، ملک اللہ یار اور تیسرے نواز شریف تھے۔روزنامہ جنگ نے نواز شریف کے حق میں مہم چلائی تھی اور بڑے بڑے رنگین صفحات شائع کیے تھے۔عدنان عادل نے بتایا کہ جب نواز شریف وزیراعلیٰ نامزد ہو گئے اور انہوں نے کام شروع کر دیا تو انہوں نے انعام کے طور پر یہ اراضی دی تھی۔ جہاں ایک بہت بڑا محل تعمیر کیا گیا۔عدنان عادل کے بقول نواز شریف نے میر شکیل الرحمان کو 54 کنال اراضی دی تھی۔ عدنان عادل سمجھتے ہیں کہ میر شکیل الرحمٰن کو ایک قسم کی سیاسی رشوت دی گئی تھی۔ میر شکیل الرحمن مختلف حکومتوں کے حق میں مہم چلاتے ہیں یا کسی کے خلاف مہم چلاتے ہیں تو یہ مختلف حکومتوں سے فائدے اٹھاتے رہے ہیں۔ یہ کلچر پاکستان میں رہا ہے۔عدنان عادل نے کہا کہ میر شکیل الرحمان کی گرفتاری باقی میڈیا ہاؤسز کے لیے بھی ایک قسم کی تنبیہ ہے۔

ایک نظر اس پر بھی