اے پی سی آر نے داخل کی انسداددہشت گردی قانون میں ترمیم کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 23rd August 2019, 6:29 PM | ریاستی خبریں | ملکی خبریں |

بنگلور 23/اگست (ایس او نیوز) مرکزی حکومت نے انسداد دہشت گردی قانون یو اے پی اے میں جو حالیہ ترمیم کی ہے اور کسی بھی فرد کو محض شبہات کی بنیاد پر دہشت گرد قرار دینے کے لئے تحقیقاتی ایجنسیوں کو جو کھلی چھوٹ دی ہے اسے چیلنج کرتے ہوئے ایسوسی ایشن فار  پروٹیکشن آف سوِل رائٹس (اے پی سی آر) نے سپریم کورٹ میں اپیل داخل کی ہے۔

 خیال رہے کہ انفرادی طور پر کسی بھی فر د کو دہشت گرد قرار دینے کی اجازت والی یہ ترمیمات مرکزی حکومت نے ایک بل کے ذریعے پارلیمنٹ میں پیش کی تھیں اور 2اگست کو اسے منظور بھی کروایا تھا۔جس کے بعد 9اگست کو صدر ہند نے اس کی توثیق کردی ہے۔غیر سرکاری تنظیم اے پی سی آر نے عدالت عالیہ میں داخل کی گئی اپنی اپیل میں کہا ہے کہ مرکزی حکومت اور تحقیقاتی ایجنسی کی طرف سے ملک کی کسی بھی ریاست میں کسی بھی فرد کو دہشت گرد قرار دے کر اس کی املاک ضبط کرنے کی چھوٹ دینے اور ایسے فرد کے سفر اختیار کرنے پر پابندی لگانے والے اس قانون سے دستور کی طرف سے فراہم کردہ انسان کی شخصی آزادی جیسے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

 اے پی سی آر کا کہنا ہے کہ قانون میں کی گئی یہ ترمیمات دستور ہند کی دفعہ 21کے تحت شہریوں کو  دیے گئے بنیادی حق کے بھی منافی ہیں۔کیونکہ”کسی بھی شخص کو اپنی بات کہنے کا موقع دئے بغیر اُسے دہشت گرد قرار دینے سے  انفرادی عزت اور وقار کے تحفظ کاجو حق دستورسے ملا ہے، اس کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔جو دستور کی دفعہ 21کے تحت بذات خود ’زندگی کے حق‘ کا ایک پہلو ہے۔“اپیل میں مزید کہا گیا ہے کہ کسی بھی فرد کو صرف حکومت کے گمان کی وجہ سے دہشت گرد قرار دے کر اسے  رسوا کرنا غیر معقول، غیر منصفانہ اور جبر وزیادتی ہے اور انصاف کے بنیادی تقاضوں کے منافی ہے۔

 اے پی سی آر کی  طرف سے اپیل دائر کرنے والی ایڈوکیٹ فوزیہ شکیل نے بتایا کہ ”اگر کسی شخص کو دہشت گرد قرار دینے کے بعداگر کبھی اس پر سے یہ الزام ہٹابھی دیاجائے گا تب بھی اس کا صدمہ اور داغ اس کے ساتھ زندگی بھر لگا رہے گا۔ اس کی وجہ سے باوقار زندگی جینے کا اس کا بنیادی حق چھن جائے گا۔“

 اپیل کے مندرجات میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ترمیم شدہ قانون میں اس بات کی صراحت نہیں ہے کہ کب کسی کو دہشت گرد قراردیا جائے گا۔ ”محض ایک ایف آئی آر داخل کرلینے کے ساتھ یا کسی دہشت گردانہ معاملہ میں جرم ثابت ہونے کے بعد اسے دہشت گرد مانا جائے گا۔ صرف حکومت کے گمان پر کسی کو دہشت گرد قرار دینا ظالمانہ اور یک طرفہ بات ہوگی۔ کسی بھی شخص کو یہ بتایا نہیں جائے گا کہ اُسے کس بنیاد پر دہشت گرد قرار دیا گیا ہے۔ایسی صورت میں دہشت گردقرار دیے گئے شخص کو اس قانون کی دفعہ 36کے تحت چیلنج کرنے کی جو رعایت دی گئی ہے وہ بے معنی ہوجاتی ہے، کیونکہ جب دہشت گرد قرار دینے کی وجوہات ہی نہیں بتائی جائیں گی تو پھر کس بنیاد پر چیلنج کیا جاسکے گا۔“

 سپریم کورٹ کے سامنے اس اپیل کے ذریعے یہ بات رکھی گئی ہے کہ ”یہ واضح نہیں ہورہاہے کہ حکومت اس ترمیمی بل کے ذریعے کسی فرد کو اپنے خلاف کیے گئے اقدام کو چیلنج کرنے کا موقع دئے بغیراُسے دہشت گرد قرار دینے کا جوطریقہ اپنا رہی ہے اس سے کیا جائزمقاصد پورے کرنا چاہتی ہے۔“

 اے پی سی آر نے اس اپیل کے ذریعے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ انسداد دہشت گردی قانون یو اے پی اے کی دفعہ 35اور36کو شہریوں کی فرد کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والی اور غیر دستوری مانتے ہوئے انہیں کالعدم قرار دے۔

ایک نظر اس پر بھی

دوہفتوں میں وقف بورڈ تشکیل دیا جائے ریاستی حکومت کو ہائی کورٹ کی سخت ہدایت

ریاستی حکومت کی طرف سے وقف بورڈ کی تشکیل میں کی جا رہی غیر معمولی تاخیر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریاستی ہائی کورٹ نے چہارشنبہ کے روز ریاستی حکومت کو یہ سخت ہدایت جاری کی کہ دو ہفتوں کے دوران ریاستی وقف بورڈ تشکیل دیا جائے -

وزیرا عظم مودی کے جنم دن پر آر وی دیشپانڈے نے پیش کی مبارکباد۔دل کھول کر ستائش کرنے کے پیچھے کیا ہوسکتا ہے راز؟

یہ بات ثابت شدہ ہے کہ سیاست کوئی بھی مستقل دوست یا مستقل دشمن نہیں ہوتا۔ مگر نظریاتی اختلاف یا اتفاق کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ وہ اگر مستقل نہ ہوتو کسی بھی شخصیت کا وقار مجروح ہوتا ہے۔

تبریزانصاری ہجومی تشددکیس: بنگلوروآئی آئی ایم کے اساتذہ اورطلبا نے وزیراعظم کولکھا خط

جھارکھنڈ میں پیش آئے تبریزانصاری کے ماب لینچنگ واقعہ میں پولیس جانچ پرسوالات اٹھ رہے ہیں۔ اس درمیان بنگلورو میں آئی آئی ایم کے اساتذہ اورطلبا نے وزیراعظم نریندر مودی کو خط لکھا ہے۔ ملک کے باوقار ادارے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف منیجمنٹ کے طلبا اوراساتذہ نے جھارکھنڈ پولیس کی ...

بہار میں این آر سی معاملہ پر بی جے پی میں ہی اختلاف

بہار میں حزب اقتدار جنتا دل یونائٹیڈ ( جے ڈی یو) کے ساتھ نائب وزیراعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی ) کے سنیئر لیڈر سشیل کمار مودی جہاں ریاست میں قومی سٹیزن رجسٹر (این آر سی) کے مخالف ہیں وہیں نتیش حکومت کے محصولات اور اصلاحات اراضی اور بی جے پی لیڈر رام نارائن منڈل نے کہا کہ ...