مسلم مخالف پروپیگنڈہ: شرپسند عناصر سے ہوشیار رہنے کی مسلم قائدین و دانشوروں کی اپیل

Source: S.O. News Service | Published on 6th April 2020, 3:37 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،6؍اپریل (ایس او نیوز؍یو این آئی) ملک کے ایک سے زیادہ مسلم قائدین اور دانشوروں نے کورونا وائرس کی تباہ کاریوں کے تناظر میں پیدا شدہ مبینہ فرقہ وارانہ صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ بعض حلقوں کی جانب سے مسلم تنظیموں اور افراد کو مبینہ طور پر نشانہ بنا کر پورے ماحول کو پراگندہ کرنے اور یہ باور کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے گویا مسلم معاشرہ کرونا کے انسداد کے طبى اقدامات کا مخالف ہے۔

بیان میں اس منفی پروپیگنڈہ کی مذمت کرتے ہوئے زور دے کر کہا گیا ہے کہ حالات کے نازک موڑ پر ہندوستان سمیت ساری دنیا میں کورونا سے لوہا لینے والے ڈاکٹروں اور تمام طبى عملہ کے اراکین کے ساتھ، جو غیر معمولی خدمات انجام دے رہے ہیں، ان کا بھرپور تعاون کیا جائے اور ان کی حوصلہ افزائی کی جائے۔

بیان میں اسلامی برادری سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ کسى طرح شرپسند عناصر کی افواہوں کا شکار نہ ہوں اور مشکل وقت میں کورونا کے علاج میں مصروف اہلکاروں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔ واضح رہے کہ ملک کے بعض مقامات پر طبی عملے اور سرکاری کارندوں کے ساتھ مبینہ مارپیٹ اور بدسلوکی کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں جو کہ انتہائی افسوس ناک ہیں۔ اسی طرح لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی اور من مانی دراصل مصیبتوں کو دعوت دینے والا عمل ہے جس سے بہرحال بچا جانا چاہیے۔

حکومت سے یہ بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس معاملے میں تحمل سے کام لے اور انتظامی احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ایکدم سے ناقابلِ ضمانت دفعات کے تحت مقدمات قائم نہ کیے جائیں۔ بیان پر دستخط کرنے والوں میں مولانا سید کلب صادق، مولانا خالد رشید فرنگی محلی، مفتی مکرم احمد، پروفیسر عرفان حبیب، ڈاکٹر سیدہ سیدین حمید، مفتی عطا الرحمن قاسمی، ڈاکٹر علی جاوید، ظفر آ غا، معصوم مرادآبادی اور فرحت رضوی شامل ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

تبلیغی جماعت کے ارکان کے خلاف درج کیس میں کسی کی گرفتاری نہیں: دہلی پولیس نے ہائی کورٹ کو دیا جواب

دہلی پولیس نے دہلی ہائی کورٹ کو منگل کو بتایا کہ کووڈ19 لاک ڈاؤن کے دوران نظام الدین مرکز میں ہوئے مذہبی اجتماع میں حصہ لینے کے لئے تبلیغی جماعت کے ارکان کے خلاف درج کیس میں اس نے نہ تو کسی کو گرفتار کیا ہے اور نہ ہی کسی کو حراست میں لیا ہے۔

جموں کے ایک وکیل اور کشمیر کی ایک خاتون کورونا سے ہلاک، لوگ دہشت زدہ

 جموں سے تعلق رکھنے والے ایک وکیل اور جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کی ایک خاتون کی موت کے بعد کورونا ٹیسٹ مثبت آنے سے جموں و کشمیر یونین ٹریٹری میں اس وائرس سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 23 ہوگئی ہے۔ ان ہلاکتوں کے بعد لوگوں میں ایک دہشت کا ماحول بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔