ہریانہ: جمنا نگر میں شہریت قانون مخالف مظاہرہ، تمام مذاہب کے ہزاروں لوگوں کی شرکت

Source: S.O. News Service | Published on 22nd January 2020, 9:14 PM | ملکی خبریں |

جمنانگر،22/جنوری(ایس او نیوز/ایجنسی) مرکزی حکومت کی جانب سے بنائے گئے قانون سی اے اے ،این پی آراور این آر سی کی مخالفت میں دستور بچاو اور ملک بچاو کے موضوع پر مجلس احرار اسلام اور بھائی چارہ ایکتا منچ کے سانجھا بینر تلے ہریانہ کے جمنا نگر میں ایک مظاہرہ اور جلسہ عام کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر تحصیلدار پرتاپ نگر (خضر آباد ) کے ذریعے ایک میمورنڈم صدر جمہوریہ کے نام بھیجا گیا۔

جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے حضرت الحاج پیرجی حافظ حسین احمد بوڑیوی نے کہا کہ ملک ہمارا ہے، ہم یہاں پر صدیوں سے باہمی بھائی چارے کے ساتھ رہتے آ رہے ہیں، یہاں کثرت میں وحدت ہے، ہم بھارت کے لوگ ہیں ہمیں باہمی تعاون اور حمایت کے ساتھ یہاں رہنا ہے جو طاقتیں سماج کے باہمی بھائی چارے اور اتحاد کو توڑنا چاہتی ہیں۔ انہیں سمجھنا چاہیے کہ ہم یہاں کے بھائی چارے کو کبھی بھی ٹوٹنے نہیں دیں گے۔

سردار جسبیر سنگھ خالصہ نے کہا کہ بھارت کے اتحاد اور مضبوطی ہندو مسلم سکھ عیسائی اتحاد سے ہی ہمارے آئین کی اصل روح نکلی ہے، ہمیں اس کو مضبوطی سے تھامے رکھنا ہے۔

لوگوں سے خطاب کرنے کے لئے ہریانہ سکھ گوردوارہ مینجنگ کمیٹی کے صدر سردار جسبیر سنگھ خالصہ نے بھی اس قانون کی مخالفت کی اور کہا کہ حکومت لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا کام کر رہی ہے اور وہ اس کی مخالفت اس وقت تک کرتے رہیں گے جب تک حکومت اس قانون کو واپس نہیں لے لیتی۔ سنجیو والیہ نے کہا کہ یہ حکومت تمام ووٹ کو لے کر ہی کر رہی ہے۔ لیکن اب سب مضبوط ہو گئے ہیں۔ حکومت مذہب کی بات کر رہی ہے اور سوچتی ہے کہ ووٹ حاصل کر ہمیشہ کے لئے بنائے گی اور ایسے میں وہ کبھی بھی ایسا ہونے نہیں دیں گے۔ عوام حکومت کے اس مسلط کردہ قانون کی مخالفت کرتی رہے گی۔

بھیم آرمی ہریانہ کے صدر کمل براڑہ نے کہا کہ بھارت کے آئین کے اصل کردار میں ہم بھارت کے لوگ، غلبہ، سماجوادی نظریہ، عوامی جمہوریہ بنانے کے لئے اور اس کے تمام شہریوں کے لئے انصاف سماجی اقتصادی اور سیاسی خیالات اظہار اعتماد مذہب اور عبادت کی مساوات شہریت اور مواقع کی مساوات حاصل کرنے کے لئے اور قوم کے اتحاد سالمیت کو یقینی کرنے کا عزم کرتے ہیں۔

نظامت کرتے ہوئے ولی الدین ندوی اور قاری سعیدالزماں نے کہا کہ ہم بھارت کے لوگ ہیں اور ہمیں بھارتی ہونے پر فخر ہے، یہ ہم نے اس وقت بھی کھو ئی نہیں ہے جس وقت ہمارے سامنے وکلپ اور آپشن موجود تھا اگر اس وقت ہمارے باپ دادا چاہتے تو وہ تقسیم کے وقت اس اختیار کو منتخب کر سکتے تھے مگر ہمارے باپ دادا نے ہندوستان کو منتخب کر کے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ کوئی غلطی نہیں کی تھی اور اگر کسی کو لگتا ہے کہ ہمارے باپ دادا نے کو غلطی کی تھی ہم اس بات کو کسی بھی طرح سے ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

آل انڈیا امام فاونڈیشن کے صدر مولانا محمد عارف قاسمی دہلوی نے کہا کہ ہمارا آئین ہمارے ملک کی روح ہے ہم اس پر چوٹ نہیں آنے دیں گے عوام کے ووٹ لے کر جو پارٹیاں حکومت بناتی ہیں ان کو عوام کے مسائل روزگار تعلیم صحت مہنگائی کرپشن سیکورٹی وغیرہ کے لئے کام کرنا چاہئے تھا لیکن بجائے اصل مسائل کو حل کرنے کے ہمیں سی اے اے ،این پی آر اور این آر سی جیسی ضمنی باتوںمیں الجھایا جا رہا ہے ،بدقسمتی کی بات ہے کہ پھر وہی لیڈر ہماری شہریت اور قومیت پر شک کی سوئی گھمانے کی سوچتا ہے! ایسے لوگوں کو تاریخ خود سبق سکھائے گا۔

مولانا عمران مظاہری الہیڑی اور مولانا محمد جاوید ندوی انبالہ نے کہا کہ اس وجہ سے یہ کنونشن جو آئین کو بچانے اور ملک کو بچانے کی قسم کھاتی ہے اور ساتھ ہی سی اے اے، این پی آر اور این آر سی منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتی ہے، کیونکہ یہ ہندوستانی آئین کی اصل روح کے خلاف ہے۔

اس موقع پر جرنیل سنگھ سانگوان، دھرم پال چوہان، ایڈوکیٹ بھجن لال، مولانا محمد طیب قاسمی ، مفتی عطاو ٗالرحمن قاسمی ، الحاج قاری محمد مزمل نوید الہیڑی، عبدالستار،مندیپ سنگھ، چودھری نسیم خان، روندر کمار ایڈووکیٹ، سورن سنگھ، ستوندر پال سنگھ و غیرہ نے بھی خطاب کیا۔اس موقع پر سرور عالم پانی پت، چندرپال دیودھر، بھیم آرمی سے کمل براڑا، سہیل ساڈھورا، مکرم، کمل، رنکو، سنجیو والیہ، راہل، احمد الدین قاسمی، مستقیم، یاسین، حافظ محمد عالم، سالم، ارشد، شمیم، لیاقت، دلیپ، علی ہدایتی، فرقان ہدایتی، مونس، قاری اسلام، سردار بلبیر سنگھ، حافظ لعل دین، قاری یامین، راہل، افضل علی، عبدالستار، سیدحسان، جبار پوسوال ایڈوکیٹ وغیرہ موجود رہے۔

ایک نظر اس پر بھی

اپوزیشن کے 8ممبران پارلیمنٹ کی معطلی مرکزی حکومت کا اختلاف رائے سے عدم راوداری کا نمونہ۔ ایس ڈی پی آئی

 سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے قومی صدر ایم کے فیضی نے اپنے جاری کردہ اخباری بیان میں زرعی بل منطور کئے جانے کی مخالفت کرنے پر اپوزیشن کے 8اراکین پارلیمنٹ کو ایک ہفتہ کیلئے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں شرکت سے معطل کرنے کے اقدام کو جمہوریت مخالف قرار دیتے ...

بینکنگ ریگولیشن بل پر پارلیمنٹ کی مہر

 کوآپریٹو بینکوں کی بحالی اور نگرانی کے لئے ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کو زیادہ اختیارات دینے والے بینکنگ ریگولیشنز (ترمیمی) بل 2020 کو منگل کو راجیہ سبھا میں صوتی ووٹوں سے منظور کر لیا گیا۔