تریپورہ میں بی جے پی کو پھر لگا جھٹکا، مزید ایک رکن اسمبلی نے رکنیت سے دیا استعفیٰ

Source: S.O. News Service | Published on 23rd September 2022, 8:36 PM | ملکی خبریں |

اگرتلہ،23؍ستمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) تریپورہ میں برسراقتدار بی جے پی کے رکن اسمبلی اور بزرگ قبائلی لیڈر بربا موہن نے اسمبلی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اب وہ قبائلی پارٹی ٹی آئی پی آر اے (ٹپرا سودیشی پرگتی شیل ریجنل الائنس) میں شامل ہو سکتے ہیں۔ میڈیا ذرائع کے مطابق 67 سالہ رکن اسمبلی نے ٹی آئی پی آر اے پارٹی چیف پردیوت بکرم مانکیہ دیب برمن کے ساتھ اپنا استعفیٰ تریپورہ اسمبلی اسپیکر رتن چکرورتی کو سونپا۔

دیب برمن نے نیوز ایجنسی آئی اے این ایس کو بتایا کہ بربا موہن بی جے پی کی ایک سینئر لیڈر گوری شنکر ریانگ کے ساتھ آج ان کی پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں، جو تریپورہ اسمبلی کے سابق ڈپٹی اسپیکر بھی ہیں۔ آپ کو بتا دیں کہ بربا موہن 2018 کے انتخاب میں جنوبی تریپورہ کے گومتی ضلع میں قبائلی ریزرو سیٹ کاربک سے ریاستی اسمبلی کے لیے منتخب ہوئے تھے۔

بربا موہن گزشتہ سال سے اسمبلی چھوڑنے والے چوتھے بی جے پی رکن اسمبلی ہیں۔ اس سے پہلے آشیش داس، سدیپ رائے برمن اور آشیش کمار ساہا نے بھی سابق وزیر اعلیٰ بپلب کمار دیب کے ساتھ براہ راست نااتفاقیوں کے بعد پارٹی اور اسمبلی کی رکنیت چھوڑ دی تھی۔ بپلب دیب نے پارٹی کی مرکزی قیادت کی ہدایات کے بعد 14 مئی کو وزیر اعلیٰ عہدہ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ داس گزشتہ سال ترنمول کانگریس میں شامل ہوئے اور اس سال مئی میں پارٹی چھوڑ دی، جبکہ رائے برمن (جو بی جے پی کے سابق وزیر بھی تھے)، اور ساہا اس سال فروری میں کانگریس میں شامل ہو گئے۔

رائے برمن جون میں ہوئے ضمنی انتخاب میں کانگریس کے ٹکٹ پر چھٹی بار ریاستی اسمبلی کے لیے پھر سے منتخب ہوئے۔ اس درمیان بی جے پی کے معاون انڈیجنس پیپلز فرنٹ آف تریپورہ (آئی پی ایف ٹی) رکن اسمبلی برشکیتو دیب برما نے بھی گزشتہ سال جون میں اسمبلی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا اور ٹی آئی پی آر اے میں شامل ہو گئے تھے، جس سے پارٹی کی طاقت 7 ہو گئی۔ دوسری طرف بربا موہن کے استعفیٰ کے بعد 60 رکنی تریپورہ اسمبلی میں بی جے پی کی طاقت گھٹ کر 35 ہو گئی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

نوٹ بندی کی آئینی درستگی کو چیلنج کرنے والی 59 عرضیوں پر سپریم کورٹ میں 12 اکتوبر کو ہوگی سماعت

مودی حکومت کی جانب سے 2016 میں نافذ کی گئی نوٹ بندی کے آئینی جواز کے خلاف دائر کی گئی عرضیوں پر سپریم کورٹ میں پانچ ججوں کی آئینی بنچ میں 12 اکتوبر کو سماعت ہوگی۔ نوٹ بندی کے خلاف عرضیوں پر سپریم کورٹ نے سوال کیا ہے کہ اب اس معاملے میں کیا باقی ہے؟ کیا اس معاملے کی جانچ کرنے کی ضرورت ...

یوپی: لکھیم پور کھیری میں دلخراش سڑک حادثہ، بس اور ٹرک کے تصادم میں 8 افراد ہلاک، 25 سے زائد زخمی

 اتر پردیش کے لکھیم پور کھیری میں آج صبح ایک بڑا حادثہ پیش آیا۔ معلومات کے مطابق بس اور ٹرک کے درمیان تصادم میں 8 افراد جاں بحق، جب کہ 25 زخمی ہوئے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ لکھیم پور کھیری ضلع کے عیسی نگر تھانہ علاقے کی کھماریا پولیس چوکی کے نزدیک شاردا ندی کے پل پر درجنوں مسافروں ...

بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ روی کشن کو لگا چونا! کاروباری پر عائد کیا 3.25 کروڑ کی ٹھگی کرنے کا الزام، پولیس میں درج کرائی شکایت

 بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ اور اداکار روی کشن مبینہ طور پر 3.25 کروڑ روپے کی ٹھگی کا شکار ہو گئے ہیں، اس واقعہ کی اطلاع پولیس نے دی ہے۔ گورکھپور صدر سے رکن پارلیمنٹ روی کشن نے گورکھپور کینٹ تھانہ میں ایک بلڈر کے خلاف 3.25 کروڑ کی ٹھگی کا الزام عائد کرتے ہوئے مقدمہ درج کرایا ہے۔

مرکزی حکومت کے ملازمین کو ملی سوغات، مہنگائی بھتہ میں 4 فیصد کا اضافہ

مرکزی حکومت نے ایک کروڑ سے زیادہ سرکاری ملازمین اور پنشن حاصل کرنے والے افراد کو تہواروں کے موقع پر سوغات پیش کی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی سربراہی میں منعقد ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں مہنگائی بھتہ میں اضافہ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

نیشنل اسٹاک ایکسچینج کو-لوکیشن گھوٹالہ معاملہ میں چترا رام کرشن اور آنند سبرامنیم کو دہلی ہائی کورٹ سے ملی ضمانت

دہلی ہائی کورٹ نے نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کو-لوکیشن گھوٹالہ معاملے میں گرفتار سابق چیف ایگزیکٹیو افسر چترا رام کرشن اور سابق گروپ آپریٹنگ افسر آنند سبرامنیم کو ضمانت دے دی ہے۔ اس گھوٹالے کی سی بی آئی کے ذریعہ جانچ کی جا رہی ہے۔

’کانگریس ہمیشہ سے فرقہ پرستی کے خلاف رہی ہے‘، پی ایف آئی پر پابندی کے بعد جئے رام رمیش کا رد عمل

مرکزی حکومت کے ذریعہ پی ایف آئی پر پانچ سال کی پابندی عائد کیے جانے کے بعد کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی ہمیشہ سے سبھی طرح کی فرقہ پرستی کے خلاف رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم اکثریت یا اقلیت کی بنیاد پر مذہبی تشدد میں فرق ...