میسورو اجتماعی عصمت دری معاملہ پر بی جے پی وزیر کے بیان سے سبھی حیران

Source: S.O. News Service | Published on 28th August 2021, 12:24 AM | ریاستی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

بنگلورو،28؍اگست (ایس او نیوز؍ایجنسی) کرناٹک کے میسورو میں اجتماعی عصمت دری کے ایک معاملہ پر ریاستی وزراء کے جو بیانات سامنے آ رہے ہیں، اسے سن کر سبھی حیران ہیں۔ پہلے تو وزیر داخلہ اراگا گیانندر نے اس تعلق سے متنازعہ بیان دیا، اور اب وزیر برائے محنت شیورام ہیبار نے اس سنگین جرم کو لے کر حیرت انگیز بیان دیا ہے۔ شیورام ہیبار نے کہا ہے کہ اجتماعی عصمت دری کے ایسے واقعات ہر وقت ہوتے رہے ہیں۔ ایسے واقعات دیگر حکومتوں میں بھی ہوئی ہیں، یہ چیزیں کافی وقت سے ہو رہی ہیں۔

شیورام نے اپنے بیان میں واضح لفظوں میں کہا ہے کہ ایسا نہیں کہ اس طرح کے واقعات صرف ہماری پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد ہو رہی ہیں، خواتین کو پہلے بھی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ جرائم کرنے والے ایسے برے اشخاص سماج میں ہمیشہ رہتے ہیں۔ یہ ایک افسوسناک اور حیران کرنے والا واقعہ ہے۔ وزیر اعلیٰ بسوراج بومئی نے وزیر داخلہ اراگا گیانندر کو جانچ کی ہدایت دی ہے۔ شیورام کا کہنا ہے کہ اجتماعی عصمت دری کے مدنظر استعفیٰ کا مطالبہ درست نہیں ہے، اپوزیشن کے ذریعہ استعفیٰ کا مطالبہ کرنا عام بات ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ہماری حکومت ملزم شخص کے خلاف کارروائی شروع کرے گی۔ انھیں جلد ہی گرفتار کر لیا جائے گا اور متاثرہ کو پوری مدد دی جائے گی۔

اس سے قبل کرناٹک کے وزیر داخلہ اراگا گیانندر نے اس معاملے پر سیاست کرنے کے لیے کانگریس کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ ’’عصمت دری کا واقعہ ایک دور دراز کے علاقے میں ہوا ہے، لیکن کانگریس یہاں میری عصمت دری کرنا چاہ رہی ہے۔‘‘ انھوں نے متاثرہ پر دیر شام کھلے عام گھومنے جانے پر بھی سوال اٹھا دیے تھے۔ بی جے پی لیڈر نے کہا کہ ’’اسے وہاں نہیں جانا چاہیے تھا۔ وہ سنسان جگہ ہے۔ وہ دیر شام وہاں گئی تھی۔ متاثرہ خاتون کو دیر شام 7.30 بجے سنسان جگہ پر نہیں جانا چاہیے تھا۔ لیکن لوگ کسی بھی وقت کہیں بھی جانے کے لیے آزاد ہیں۔‘‘ برسراقتدار پارٹی کے دونوں وزراء کے بیان پر اپوزیشن کے ساتھ ساتھ عام لوگوں میں بھی حیرانی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ بی جے پی وزراء کے خلاف لوگوں کے تلخ رد عمل سامنے آ رہے ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

امتیازی سلوک سے تنگ آکر لڑکی نے والدین سمیت 4 افرادکو موت کی نیند سلادیا

کرناٹک میں ایک لڑکی نے امتیازی سلوک سے تنگ آکر اپنے پورے خاندان کو زہر دے کر ہلاک کردیا۔ جب فارنسک رپورٹ منظر عام پر آئی تو انکشاف ہوا کہ اس خاندان کی موت رات کے کھانے میں پائے جانے والے زہر سے ہوئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق داونگیر میں ایک 17 سالہ لڑکی کو کچھ عرصے سے اپنے خاندان ...

ہبلی میں مبینہ تبدیلی مذہب کی مخالفت کرتے ہوئے شدت پسند ہندو تنظیموں کے کارکنوں نے چرچ کے اندر گھس کر گایا بھجن

ہبلی میں تبدیلی مذہب کی مخالفت کرتے ہوئے ہندو شدت پسند تنظیموں کے کارکنوں نے ایک چرچ کے اندر گھس کر بھجن گانا شروع کردیا جس کی وائرل ہونے والی ویڈیو میں درجنوں مرد و خواتین کو دیکھا گیا ہے کہ وہ کس طرح ہبلی کے بیری ڈیوارکوپا چرچ کے اندر بیٹھے ہاتھ جوڑ کر بھجن گارہے ہیں۔

ایڈی یورپاکی عوامی تحریکوں میں کروبا طبقے کاتعاون اہم رہاہے:راگھویندرا

تعلقہ میں بی ایس ایڈی یورپاکے تمام عوامی وفلاحی تحریکوں میں کروبا طبقہ کا تعاون اہم رہاہے،اس کے بدلے میں ایڈی یورپانے بھی اپنے دور اقتدار میں طبقے کی ترقی کیلئے جتنابھی ممکن ہوسکے کام کیا اور ہر طرح سے امداد فراہم کی۔یہ بات رکن پارلیمان بی وائی راگھویندرانے کہی۔

جے ڈی ایس ہی مسلمانوں کو سیاسی مستقبل کی ضمانت دے سکتی ہے: محیط الطاف

ریاستی اسمبلی میں اس وقت مسلم نمائندگی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے جے ڈی ایس لیڈر ونئی دہلی میں سابق خصوصی نمائندہ برائے کرناٹک ڈاکٹر سید محیط الطاف نے آج کہا کہ ریاست کرناٹک میں 45اسمبلی حلقے ایسے ہیں جہاں اگر مسلمان متحد ہوکر کام کریں تو مسلم امیدوار منتخب ہوسکتے ہیں اور 75اسمبلی ...

شاہ رُخ خان کے بیٹے آرین خان کی حمایت میں شیوسینالیڈرپہنچے سپریم کورٹ

بالی ووڈ کے سپر اسٹار شاہ رخ خان کے بیٹے سے وابستہ کروز ڈگرس پارٹی کا معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیا ہے۔ شیو سینا کے لیڈر کشور تیواری نے سپریم کورٹ میں درخواست پیش کرتے ہوئے آرین خان اور دیگر ملزمان کے بنیادی حقوق کا حوالہ پیش کیا ہے۔

کونکن ریلوے سروس کے مکمل ہوئے31 سال ۔ سورتکل - انکولہ کے درمیان کیا رو - رو سروس کا آغاز 

کونکن ریلوے سروس کے 31 سال مکمل ہونے پر ورچیول جشن منایا گیا اور اس موقع پر سورتکل - انکولہ کے درمیان مال بردار ٹرکس / کنٹینرس  لے جانے والے ٹرکس کی نقل و حمل کے لئے رول آن - رول آف (رو - رو) سروس کا شروع کرنے کا اعلان کیا گیا ۔