انکولہ ،کمٹہ تعلقہ جات کے سرحدی علاقوں میں جنگلی سوروں کے حملوں سے دیہی عوام پریشان

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 7th November 2019, 6:57 PM | ساحلی خبریں |

کاروار:07؍نومبر(ایس اؤ نیوز)انکولہ تعلقہ موگٹا گرام پنچایت حدود کے برہمور علاقے میں جنگلی سوروں کی بھاگ دوڑ سے کافی پریشانی ہورہی ہے، حالیہ دنوں میں بائک سواروں پر جنگلی سوروں کے حملےمیں دو لوگ زخمی ہونے کا پتہ چلاہے۔

برہمور روڈ سنتے گدے بس اسٹانڈ کے قریب اتوار کی شام جنگلی سوروں کا گروہ درمیان میں آنے سے بائک سوار نیچے گرے ، اسی دوران چھوٹے بچوں کے ساتھ چلنے والے بڑے بڑے سور حملے کی کوشش کئے ہیں، جان کاخوف کھا کر بائک سواروں نے چیخ پکار کرنے سے قریب کے مکین دوڑ کر ان کی حفاظت کرنے کی زخمی رام کرشنا بھٹ نے جانکاری دی۔ اس کے ساتھ ان کا بیٹا رویند  ر بھٹ بھی زخمی ہواہے۔زخمی بائک سوار نے کہاکہ  جب میں بیٹے کو چھوڑنے کمٹہ جارہاتھاتو جنگلی سوروں کاگروہ اچانک درمیان میں آجانے سے حادثہ پیش آیا ہے۔ ہیلمٹ پہننے سے سر کو چوٹ نہیں لگی، لیکن ہاتھ پیر شدید زخمی ہوئے ہیں۔ ابتدائی علاج کے لئے قریب کے مرجان گئے وہاں اسپتال میں ڈاکٹر نہیں رہنے سے اور بھی مسئلہ ہوا۔ اب علاج کرائے ہیں، شفایابی کے لئے مزید 10دن لگیں گے۔

ناگور، سنتے گدے ، کڈکوڑ ، برہمور وغیرہ بہت پچھڑی دیہات ہیں ، یہاں جنگلی جانوروں سے بہت پریشانی ہونا عام بات ہے ، پہلے پہلے دھان کی فصل کھڑی ہونےکے بعد جنگلی سوروں کی ہراسانی بہت ہوتی تھی اب ہر موسم میں ان کی وجہ سے پریشانی ہورہی ہے۔ شام کے اوقات میں عوام کو برہمور پہنچنے سے ہی ڈر لگتاہے۔ ہر دن جنگلی سوروں کا سامنا ہونے کی جانکاری دیہی مکین نارائن ہیگڈے نے دی۔

عوام نے شکایت کی کہ کمٹہ اور انکولہ تعلقہ کے سرحد علاقوں کے ناگور ، برہمور دیہات میں پرائمری ہیلتھ سنٹر بھی نہیں ہے، یہاں سے اسپتال کو جانے کے لئے 23کلومیٹر کا فاصلہ طئے کرکے کمٹہ جانا پڑتاہے۔ جنگلی سوروں کی پریشانی سے بچانے کے لئے فاریسٹ افسران کی طرف سے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

اُڈپی میں کوویڈ کے بڑھتے معاملات پر بھٹکل کے عوام میں تشویش؛ پڑوسی علاقہ سے بھٹکل داخل ہونے والوں پر سخت نگرانی رکھنے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ

بھٹکل کورونا فری ہونے کے بعد اب پڑوسی ضلع اُڈپی میں روزانہ پچاس اور سو کورونا معاملات کے ساتھ  پوری ریاست میں اُڈپی میں سب سے  زیادہ کورونا کے معاملات سامنے آنے پر بھٹکل میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ عوام اس بات کو لے کر پریشان ہیں کہ اُڈپی سے کوئی بھی شخص آسانی کے ساتھ ...

نیسرگا‘طوفان کے دوران طوفانی ہوا اور بارش سے ہیسکام کو کاروار میں ایک ہی دن 8لاکھ اور بھٹکل میں 1 لاکھ سے زائد کا نقصان

مہاراشٹرامیں تباہی مچانے والا ’نیسرگا‘ طوفان ویسے تو کرناٹکا کے ساحلی علاقے کو چھوتا ہوانکل گیا، مگر جاتے جاتے بھٹکل سمیت  کاروار شہر اوراطراف میں اپنے اثرات ضرور چھوڑ گیا۔

مینگلور: آئندہ صرف کورونا سے متاثر افراد کے گھروں کو ’سیل ڈاؤن‘ کیا جائے گا۔ علاقے کو’کٹینمنٹ زون‘ نہیں بنایا جائے گا؛ میڈیکل ایجوکیشن منسٹر کا بیان

سرکاری سطح پرکووِڈ 19کی وباء پر قابو پانے کے لئے ابتدا میں جوسخت اقدامات کیے جارہے تھے، اب بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ ان میں نرمی لانے کا کام مسلسل ہورہا ہے۔

کرناٹکا میں آج پھر 257 کی رپورٹ کورونا پوزیٹو؛ اُڈپی میں پھر ایک بار سب سے زیادہ 92 معاملات؛ تقریباً سبھی لوگ مہاراشٹرا سے لوٹے تھے

سرکاری ہیلتھ بلٹین میں پھر ایک بار  کرناٹک میں آج 257 لوگوں میں کورونا  کی تصدیق ہوئی ہے جس میں سب سے زیادہ معاملات پھر ایک بار ساحلی کرناٹک کے ضلع اُڈپی سے سامنے آئے ہیں۔ بلٹین کے مطابق آج  اُڈپی سے 92 معاملات سامنے آئے ہیں اور یہ تمام لوگ مہاراشٹرا سے لوٹ کر اُڈپی پہنچے تھے۔