مرکزی وزیر اننت کمار ہیگڈے نے دیاجنتادل اورکانگریس کے مشترکہ امیدوار اسنوٹیکر کے الزامات کا جواب (کنڑاروزنامہ کراولی منجاؤمیں شائع شدہ انٹرویو کا ترجمہ )

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 17th April 2019, 11:04 PM | ساحلی خبریں | انٹریو |

ضلع شمالی کینرا کی پارلیمانی سیٹ پر موجودہ رکن پارلیمان اننت کمار ہیگڈے کا مقابلہ براہ راست جنتادل ایس اور کانگریس کے مشترکہ امیدوار آنند اسنوٹیکر کے ساتھ ہے۔ اسنوٹیکر اپنی انتخابی مہم میں اننت کمار ہیگڈے پر اتی کرم داروں کے مسائل کو نظر انداز کرنے، پچھڑے طبقے کے نوجوانوں کو فسادات کے لئے استعمال کرنے اور ہندوتوا کے نام پر سیاست کرنے جیسے سنگین الزامات مسلسل لگارہے ہیں۔اسنوٹیکر کی طرف سے کھلے عام لگائے جارہے الزامات کے تعلق سے کاروار سے شائع ہونے والے کنڑا روزنامہ کراولی منجاؤ نے اننت کمار سے جو انٹرویو لیا ہے اس کا ترجمہ   ساحل ان لائن کے قارئین کے استفادہ کے لئے پیش کیا جارہا ہے۔

سوال: جنگلاتی زمین پر قبضے کو قانونی طور پر درست کرنے کا کام مرکزی حکومت کے قانون کے تحت ہونا چاہیے۔ آپ نے اس ضمن میں کیا کوشش کی ہے؟

جواب: اتی کرم کو سکرم کرنے کے لئے قانون بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے جدوجہد میں نے ہی شروع کی تھی۔اس کے تعلق سے یوٹیوب اور انٹرنیٹ پر تمام معلومات دستیاب ہیں۔سال 2006میں ’اَدر فاریسٹ ڈویلرز ایکٹ‘ کے نام سے سکرم قانون ہم نے ہی بنایا تھا۔بھارت سرکار کی جو ذمہ داری تھی وہ ہم نے پوری کردی ہے۔ لیکن اس ضمن میں جو کام کرنا ہے وہ ریاستی حکومت کو کرنا ہے۔ کہنا پڑتا ہے کہ ریاستی حکومت کو اپنی ذمہ داری ہی سمجھ میں نہیں آئی ہے۔ اگر جنگلاتی زمین کے قبضہ داروں کو قانونی حقوق دلانے کے سلسلے میں ریاستی حکومت کو اپنے کردار کا احساس ہوجائے تو بہتر ہے۔

سوال: آپ پر ایسا الزام لگایا جارہے کہ آپ پچھڑے طبقات کو سیاست کے لئے استعمال کرتے ہیں،جس کے نتیجے میں ہزاروں نوجوانوں پر مقدمات درج ہوگئے ہیں؟

جواب:1990سے ضلع میں چل رہی دیش مخالف اور سماج دشمن سرگرمیوں کا مقابلہ میں نے کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں پورے ضلع میں عوامی شعور بیدار ہوا ہے۔اب جو بھی مقدمات درج ہوئے ہیں وہ سب سیاسی مفاد پرستی کی وجہ سے ہیں۔دھرم کے لئے ، ثقافت کے لئے اس ضلع کے عوام خود ہی بیدار ہوکر جدوجہد کرنے میں لگ گئے ہیں۔اس پس منظر میں مذہب دشمن حکومت کی طرف سے بہت سارے لوگوں پر مقدمات دائر کیے گئے ہیں۔جن لوگوں پر کیس داخل ہوئے ہیں انہیں اس پر فخر ہے۔آج کل سیاسی فائدے کے لئے اس بات کو گھماپھرا کر عوام کے سامنے پیش کیا جارہا ہے۔لیکن جن پر مقدمات داخل ہوئے ہیں وہ فخر اور دیش پریم کے ساتھ اس کا سامنا کررہے ہیں اور دھرم کا کام کرنے کے لئے تیار ہیں۔کسی سیاسی فائدے کے لئے انہوں نے اپنے اوپر کیس نہیں ڈلوائے ہیں۔یہ دھرم کو بچانے کے لئے انہوں نے خود سے ہی لیا ہوا سرٹفکیٹ ہے ۔ایسی جدوجہد کرنے والوں پر مجھے فخر ہے۔ ایسی جدوجہد ہی میرا حوصلہ بڑھاتی ہے۔ جو لوگ تقریریں کررہے ہیں وہ اپنی آنکھوں کاچشمہ بدل ڈالیں تو بہتر ہوگا۔ ورنہ علاقے کے عوام انہیں ایسا بدلہ دیں گے کہ وہ کبھی بھلا نہیں پائیں گے۔مجھ پر تنقید کرنے والے ابھی سیاسی طور پر بے آسرا ہوچکے ہیں۔ آنے والے دنوں میں ان کو بے سہاروں کے کیمپ سے بھی بھگا دیا جائے گا۔ وہ لوگ تو ابھی بھی ٹھکرایا ہوا مال ہیں۔انہیں پھر دوبارہ اسے استعمال کرنے کے لئے قبول نہیں کیا جائے گا۔ جے ڈی ایس اور کانگریس کے بے گھروں کے کیمپ میں رہنے والے سب لوگ ایسے ہی ہیں۔کمٹہ اور بھٹکل کے حلقے میں رہنے والے سیاسی طور پر بے گھر اور بے سہارا لوگ ہیں۔اس پارلیمانی الیکشن میں سیاسی طور پربے آسرا لوگوں اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان مقابلہ ہے۔

سوال: پانچ مرتبہ آپ نے رکن پارلیمان منتخب ہوئے ہیں۔آپ کہتے ہیں کہ پیسہ خرچ کیے بغیر ہی آپ جیت جاتے ہیں۔ووٹرس آپ کو پسند کرنے کا سبب کیا ہے؟

جواب: شمالی کینرا کے عوام نوٹ کے لئے ووٹ بیچنے والے نہیں ہیں۔یہ باتیں سابقہ اسمبلی او رپارلیمانی انتخابات میں ثابت ہوچکی ہیں۔دوستی یا دباؤ کی وجہ سے اگر کوئی ووٹ دینے کا وعدہ کربھی لیتا ہے توحقیقی طورپر واضح پالیسی، اصولوں اور مقاصد کو سامنے رکھ کر یہاں کے عوام ووٹ دیتے ہیں۔یہاں پر بڑی بڑی شخصیات انتخابی میدان میں شکست کھا چکی ہیں۔ لہٰذا یہاں کے عوام کسی قسم کے لالچ میں آنے والے نہیں ہیں۔

سوال: پچھڑے طبقات کے نوجوانوں کو ترقی اور فلاح کی راہ پر لے جانے کے بجائے آپ کی طرف سے ان کے ہاتھ میں چھری چاقو دئے جانے کا الزام ہے۔ کتنے لوگوں کے ہاتھوں میں چھری چاقو آپ نے دی ہے؟

جواب: اس کا جواب وہی لوگ دیں گے تو بہتر ہے۔مجھے بھی اس کا حساب مل جائے گا۔ میں نے کیا کچھ کیا ہے اور کیا کچھ نہیں کیا ہے اس بات کا خلاصہ وہی لوگ کریں گے تو مجھے بھی معلومات مل جائیں گی۔

سوال: آپ پر الزام ہے کہ ہبلی انکولہ ریلوے لائن کے تعلق سے آپ نے کام نہیں کیا ہے۔ اپوزیشن والے بار بار اس معاملے میں آپ کو کیوں گھسیٹ رہے ہیں؟

جواب: اسے صرف ایک چھوٹا سیاسی ہتکھنڈا کہا جاسکتا ہے۔اصل بات کی جانکاری ہونے کے بعد بھی باربار جھوٹ باتیں رچنے والی کانگریس کے نام نہاد کلچر کی یہ ایک جھلک ہے۔ لیکن عوام کو صحیح بات معلوم ہے۔ ہبلی انکولہ ریلوے لائن کا مستقبل سپریم کورٹ کے پاس ہے۔ اس میں کسی بھی پارٹی کی سیاست ہو یاپھر یوپی اے یا این ڈی اے حکومتوں کی عدم دلچسپی کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ سب کی خواہش ہے کہ اس منصوبے پر عمل ہو۔

سوال: آپ کے مد مقابل جو امیدوار ہیں وہ بھی ہندوتوا کی بنیاد پر ہی انتخاب لڑ نے کی بات کہہ رہے ہیں نا؟

جواب: ان جیسے لوگوں کے دماغ میں کم ازکم اب تو یہ بات آگئی ہے نا! یہ بہت ہی نیک کام ہوا ہے۔اس راستے میں ہم نے جو لگاتار محنت کی ہے، اس کا پھل یہ ملا ہے کہ ان جیسے لوگوں کو بھی ہندوتوا کا مطلب سمجھ میں آنے لگا ہے۔بے شک عمدہ بات ہے۔ اسے آگے بڑھانے دیجیے۔ انہیں ووٹ کے لئے اور سیاسی مفاد کے لئے ہندوتوا کا کارڈ کھیلنے کی ضرورت نہیں ہے۔پوری طرح آزادی کے ساتھ ہندوتوا کی سیاست کرنے دیجئے۔

سوال : آپ کے مقابلے میں انتخاب لڑنے والے امیدوار نے بی جے پی کے چھوٹے لیڈروں کی مثال کُتّوں سے دی ہے نا؟

جواب: اس سے ان کے اخلاق او رکلچر کا مظاہرہ ہوتا ہے۔زبان سے ادا ہونے والے الفاظ اور اٹھتے ہوئے قدم یہ بتاتے ہیں کہ ان کی زندگی کے آداب و اخلاق کیا ہیں۔ان کا کوئی ’آج‘ نہیں ہے۔ کل وہاں تو پرسوں کہاں ہونگے اس کاپتہ نہیں ہے۔ آج ہم ہی ان کے خاندانی دیوتا(کُل دیوا) ہیں ۔ کل کسی اور کے خاندانی دیوتاکو اپنانا ان کا کلچر ہے۔ اس ضلع کے عوام  اس بات کو جلد ہی سمجھ جائیں گے۔دو مرتبہ ان کو انتخابات میں شکست کیوں ہوئی تھی؟ ایک مرتبہ پارٹی بدلنے کے بعد ضلع کے عوام ان کو جیت دلاکر دیکھ چکے ہیں۔ پھر ان کی ناسمجھی اور کم عقلی کو دیکھ کر دوسری مرتبہ انہیں شکست دی ہے۔ان کے سیاسی موقف کو عوام نے مسترد کردیا ہے۔

سوال: کیا آئندہ دنوں میں آپ کے نظریات اور پالیسی میں کوئی تبدیلی آنے والی ہے؟

جواب: یہ بات کبھی بھی ہرگز ہونے والی نہیں ہے۔ ہمارے کہنے اور کرنے میں کوئی فرق نہیں ہے۔ سیاست میں رہوں یا نہ رہوں ، میرے نظریات تبدیل ہونے والے نہیں ہیں۔ میں سیاست کے لئے پیدانہیں ہوا ہوں۔ سیاست کے لئے مرنے والا بھی نہیں ہوں۔ ایک سوچ کو میں نے مان لیا ہے اور اس سوچ پر ہمیشہ قائم رہنے والا ہوں۔

سوال: پریش میستا کے معاملے میں آپ کھل کر کوئی بات نہیں کررہے ہیں ، ایساالزام آپ پر لگ رہا ہے نا؟

جواب: یہ معاملہ سی بی آئی کو سونپ دیا گیا ہے ۔یہ ایک واضح بات ہے۔میں سیاسی تنازعات کھڑے کرنے کے لئے بار بار بیانات دینے والا سیاست دان نہیں ہوں۔سی بی آئی ایک خودمختار ادارہ ہے۔ وہ اپنے طریقے پر تحقیقات کرتے ہیں۔انہیں کسی بھی سیاسی دباؤ کے بغیر رپورٹ دینے کے لئے کہا گیا ہے۔ ان کی رپورٹ آنے تک انتظارکرنا پڑے گا۔ہمیں سی بی آئی پر بھروسہ ہے۔

سوال : کیا بائیں بازو(لیفٹسٹ) کے لیڈروں کے نظریات سے جمہوریت اور دیش کے تحفظ کو خطرہ لاحق ہورہا ہے؟

جواب: وہی لوگ توانتہاپسندانہ باتیں کرنے والے اربن نکسلس ہیں۔ملک ، سماج، تہذیب ، رسم وروایات، تاریخ اور نسل وطبقات کے خلاف اپنی ہی سوچ کے مطابق یکطرفہ نظریات پیش کرنے والے سماج دشمن اور خلاف معمول مزاج رکھنے والے ہیں۔ ایسے لوگوں کی حمایت کرنے والوں کو دانشوروں کا خطاب دیا جاتا ہے۔ گزشتہ 70برسوں میں حکومت نے جو بیج بوئے تھے ،یہ اسی کی فصل ہے۔دانشور کہلانے والے یہ لوگ اس دیش کے مستقبل کے لئے یقیناًفائدہ مند نہیں ہیں۔

سوال: کیا آپ کومخلوط حکومت کے ناراض عناصر کی طرف سے الیکشن میں حمایت مل رہی ہے؟

جواب: ہم ہمارے راستے پر چل رہے ہیں۔ جمہوریت میں ہرکسی کے خیالات اور نظریات کو اہمیت دینا پڑتا ہے۔لیکن جس کسی کو بھی دیش کی فکر ہوگی وہ سب ہمارے ساتھ آئیں گے۔

ایک نظر اس پر بھی

کاروار: سی آر زیڈ قانون میں رعایت۔سیاحت کے لئے مفیدمگرماہی گیری کے لئے ہوگی نقصان دہ

ساحلی علاقوں میں سمندر ی جوار کی حد سے 200میٹر تک تعمیرات پر روک لگانے والے کوسٹل ریگولیشن زون(سی آر زیڈ) قانون میں رعایت کرتے ہوئے اب ندی کنارے سے 100میٹرکے بجائے 10میٹر تک محدود کردیا گیا ہے۔

سرسی ڈی وائی ایس پی سے کی گئی یلاپور رکن اسمبلی شیورام کوڈھونڈنکالنے کی گزارش

کانگریس اور جے ڈی ایس کے اراکین نے بغاوت کرتے ہوئے اسمبلی اجلاس سے دور رہنے اور وزیر اعلیٰ کمارا سوامی کی جانب سے پیش کی گئی ’اعتماد‘ کی تحریک کے حق میں ووٹ نہ دینے کا جو فیصلہ کیا ہے اس سے مخلوط حکومت گرنا یقینی ہوچلا ہے۔ 

بھٹکل اوراطراف کے  طلبہ وطالبات کے لئے15ڈسمبر کو ہوگا سائنسی وتحقیقی مقابلہ جات کاانعقاد : تعلیمی ادارے توجہ دیں

شہر بھٹکل کا معروف تعلیمی و فلاحی ادارہ تربیت اخوان(شمس اسکول)کے زیر اہتمام  اے جے اکیڈمی فار ریسرچ اینڈ ڈیلوپمنٹ کے اشتراک سے15ڈسمبر 2019 بروز اتوار کو سانتسی و تحقیقی مقابلہ جات کا انعقاد کیا گیا ہے جس میں  بھٹکل‘ مرڈیشور‘ شیرور اور منکی کے سرکاری و  غیر سرکاری‘امدادی ...

مویشی چوروں کے ساتھ ساز باز کرنے کے الزام میں 2پولیس والے ہوئے گرفتار۔4کی تلاش جاری

ایک ہفتے پہلے ساستھان ٹول گیٹ پر 21بھینسوں کی ایک بڑی کھیپ جو ضبط کی گئی تھی، اس تعلق سے گرفتار شدہ ملزمین کے بیانات کی روشنی میں پولیس کی تحقیقاتی ٹیم نے محکمہ پولیس سے ہی وابستہ 2افراد کو گرفتار کرلیا،جبکہ مزید چارمفرور پولیس والوں کو گرفتار کرنے کی کوشش جاری ہے۔ ان پر الزام ...

منگلورومیں تیز بخار کی وجہ سے 8سالہ بچے کی موت۔ عوام کو ڈینگی بخار کا شبہ۔ محکمہ صحت کے آفیسر نے کی تردید

ایک پرائیویٹ اسکول کی تیسری جماعت میں زیر تعلیم 8سالہ بچے کرش این سوورنا کی یہاں کے نجی اسپتال میں موت واقع ہوگئی ہے جس کے بارے میں عوام کو شبہ ہے کہ وہ ڈینگی بخار میں مبتلا ہوگیا تھا۔ لیکن ڈسٹرکٹ ملیریا کنٹرول آفیسر ڈاکٹر نوین کمار نے ڈینگی بخار سے موت ہونے  کی تردید کردی ہے۔

دبئی کے معروف ڈاکٹر اسماعیل قاضیا سے ایک ملاقات جن کے تینوں بیٹے بھی ڈاکٹر ہیں

طبی میدان یعنی میڈیکل سے وابستگی کو بہت ہی معتبر اور مقدس سمجھا جاتاہے ، گرچہ جدید دورمیں مادیت کی وجہ سے اس میں کچھ کمی ضرور آئی ہے مگر آج بھی ایسے بے شمار طبیب ہیں جو عوام کی بھلائی کی خاطر ڈاکٹری پیشہ سے وابستہ رہتے ہوئے مخلصانہ خدمات انجام دے رہےہیں۔ مسلمانوں نے طب کے میدان ...

غلط فہمیوں کے ازالہ کے ذریعہ ہم آہنگی کا قیام ممکن: کامن سیول کوڈ کی تجویز مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی اور ظلم ؛ جسٹس سچر کا انٹرویو

دس سال قبل ملک میں مسلمانوں کی تعلیمی، سماجی، معاشی اور سیاسی صورتحال سے متعلق حقائق کو منظر عام پر لاتے ہوئے مسلمانوں کی صورتحال کو دلت اور پسماندہ طبقات سے بدتر قرار دیتے ہوئے مسلمانوں کی فلاح وبہبود کیلئے مفید مشورے پیش کرنے والے 92سالہ جسٹس راجیندرا سچرنے ڈنکے کی چوٹ پر ...