علی گڑھ قتل:  نام نہاد شدھی کیلئے  ہون اور یگیہ کا اہتمام، اعلی حکام سمیت لیڈر بھی شامل 

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 13th June 2019, 12:11 PM | ملکی خبریں |

علی گڑھ13/جون (ایس او نیوز/ آئی این ایس انڈیا)ضلع میں ڈھائی سال کی بچی کے بے رحم قتل کے بعد بدھ کو اس کی شدھی کے لئے ہون اور یگیہ کا بھی انعقاد کیا گیا۔ اس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے حصہ لیا۔ اس کے ساتھ ہی پولیس انتظامیہ کے افسران بھی شامل ہوئے۔ کسی بھی تنازعہ سے نمٹنے کے لئے علاقے میں بڑی تعداد میں پولیس فورس کی تعیناتی کی گئی تھی۔اس دوران تمام پولیس کے افسران بھی موجود رہے اور معصوم کی تصویر پر ہار چڑھا کر خراج عقیدت پیش کیا۔ خاندان کے ساتھ ساتھ حکام، ایم پی، ایم ایل اے نے بھی ہون میں بھی آہوتی دی۔ اس دوران سیکورٹی کے کافی انتظامات رہے۔ سیکوریٹی ایکشن فورس، پی اے سی اور دیگر تھانوں کی فورس ٹپل میں جگہ جگہ نظر بنائے ہوئے ہیں۔ مہلوک کے والد بنواری لال نے کہا کہ یہ میری بیٹی نہیں یہ پورے ملک کی بیٹی ہے۔ اس دن کا انتظار ہے جب ان درندوں کو پھانسی ہوگی۔ رہنما ستیش گوتم اور ممبر اسمبلی انوپ والمیکی نے کہا کہ بیٹی کے ساتھ جو وحشیانہ سلوک کیا گیا ہے۔وہ ناقابلِ قبول ہے،مجرموں کی پھانسی کا مطالبہ کرتے ہیں۔واضح ہو کہ اہل خانہ کا مطالبہ ہے کہ قصورواروں کو پھانسی دی جائے۔ واضح ہو کہ  30 مئی کو ٹپل میں اغوا کی گئی ڈھائی سالہ ایک معصوم لڑکی کی لاش 2 جون کو کوڑے کے ڈھیر میں ملی تھی۔ بچی کے ساتھ غیر انسانی  سلوک کیا گیا تھا۔جس کے بعد معاملے میں کافی ہنگامہ ہوا تھا، اور شرپسند فرقہ پرست قوتیں اس واقعہ کو ہندو-مسلم کی عینک سے دیکھ رہے تھے۔ پولیس نے چار ملزمان کو گرفتار کر کے جیل بھیجا تھا۔ ٹپل میں 9   جون کو سوشل میڈیا میں مہا پنچایت کی وائرل خبر کے بعد کئی تنظیموں کے لوگوں کے پہنچنے کی اطلاع پر پولیس انتظامیہ نے وہاں سیکورٹی کے پختہ انتظام کئے تھے۔ انتظامیہ  اب بھی ٹپل میں سیکورٹی چاک چوبند کر رکھی ہے۔ سوشل میڈیا پر افواہ پھیلانے والے اور نامناسب تبصرہ کرنے والے قریب بارہ لوگوں کے خلاف تھانہ سول لائنس میں مقدمہ درج کیا گیا ہے، تاہم رفتہ رفتہ ٹپل میں کشیدگی میں بہتری نظر آرہی ہے۔ 

ایک نظر اس پر بھی

پارلیمانی اجلاس کا آغاز تین طلاق بل منظورکرانا حکومت کیلئے بڑا چیلنج

پارلیمنٹ کے پیر سے شروع ہونے والے اجلاس میں نئی حکومت کے سامنے جہاں تین طلاق بل سمیت دس اہم آرڈیننس کو منظور کرانے کا بڑا چیلنج ہوگا، وہیں اپوزیشن پارٹیاں حکومت کو کسانوں، بے روزگاری، سکیولرزم، الیکٹرانک ووٹنگ مشین جیسے بہت سے دیگر مسائل پر گھیرنے کی کوشش کریں گی-