پی ایف آئی پر ای ڈی اور این آئی اے کے کریک ڈاون کے بعد ایس ڈی پی آئی نے کہا؛ ایجنسیوں نے کبھی بھی آر ایس ایس اور اس سے منسلک تنظیموں پر چھاپہ نہیں مارا

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 26th September 2022, 6:55 PM | ریاستی خبریں |

بنگلور۔ (ایس او نیوز/پر یس ریلیز) سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) کرناٹک یونٹ نے بنگلور میں اپنے ریاستی مرکزی دفتر میں ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ای ڈی اور این آئی اے نے کبھی بھی آر ایس ایس اور اس سے منسلک تنظیموں پر چھاپہ نہیں مارا بلکہ صرف پاپولرفرنٹ آف انڈیا کو ہی نشانہ بنایا جارہا ہے۔ یہ ایک مضبوط آواز کو دبانے کی چال ہے جو اقلیتوں، استحصال زدہ اور مظلوموں کی حمایت کر رہی ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ریاستی جنرل سکریٹری بی آر۔بھاسکر پرساد نے بتایا کہ انہوں نے برسوں تک کوشش کی لیکن وہ ایس ڈی پی آئی اور پی ایف آئی کے خلاف ایک بھی مقدمہ ثابت نہیں کر سکے۔ تاہم، فرقہ پرست فاشسٹ بی جے پی حکومت ایس ڈی پی آئی اور پی ایف آئی تنظیموں کے خلاف لوگوں میں نفرت پیدا کرنے کے لیے مسلسل اس طرح کے حملے کر رہی ہے. انہوں نے بتایا کہ اس ملک کی سب سے بڑی خطرناک تنظیم آر ایس ایس ہے اور اس کی ذیلی تنظیمیں جیسے بجرنگ دل، وشوا ہندو پریشد، سری رام سینا وغیرہ فرقہ وارانہ منافرت کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ لیکن ان پر ای ڈی اور این آئی اے نے کبھی کارروائی نہیں کی۔

بھاسکر پرساد نے بتایا کہ ہم شروع سے یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ آر ایس ایس کی دہشت گردانہ کارروائیوں کی اس فہرست پر  نظر دوڑائی جائے، لیکن 'گودی' میڈیا اور فاشسٹ، برہمنی حکومتوں نے ہمارے الزامات کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ لیکن اب یشونت شنڈے جو آر ایس ایس اور سنگھ پریوار تنظیموں کا سرکردہ رکن تھا اس نے خود کو آر ایس ایس تنظیموں سے الگ کرلیا اور ان تنظیموں کی طرف سے کی جانے والی دہشت گردانہ سرگرمیوں کے بارے میں سچائی دنیا کے سامنے رکھ دی ہے۔ یشونت شنڈے صرف زبانی طور پر الزامات نہیں لگا رہے ہیں بلکہ انہوں نے عدالت میں ایک حلف نامہ بھی جمع کرایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ انہیں ان مقدمات میں گواہ مانا جائے۔حلف نامہ میں ان کے الزامات کے اہم نکات مندرجہ ذیل ہیں۔

1)۔ سن1999میں جموں و کشمیر میں وشوا ہندو پریشد کی طرف سے جدید ہتھیاروں کی تربیت کا اہتمام کیا گیا، اس کا انعقاد فوجی افسران نے کیا۔

2)۔سال 2003میں 20 نوجوانوں کو پونے، مہاراشٹر کے قریب ایک نامعلوم مقام پر بم بنانے کی تربیت دی گئی۔ اس میں حصہ لینے والے دوافراد مالیگاؤں دھماکہ کیس کے ملزم تھے۔

3)۔ اسی ورکشاپ میں تربیت یافتہ ہمانشو نے تین بم دھماکے کیے۔ بعد میں وہ اورنگ آباد بم دھماکے میں کونڈیوار نامی ایک اور ساتھی کے ساتھ مارا گیا۔

اس طرح کے سنگین الزامات کے ساتھ یشونت شنڈے نے تربیت یافتہ افراد کی تفصیلات اور ان تنظیموں کی تفصیلات بھی فراہم کی ہیں کہ کس نے ان سرگرمیوں کے تعلق سے خفیہ میٹنگس کی اور کن جگہوں پر یہ میٹنگس منعقد کی گئیں۔ یشونت شنڈے کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس اس بارے میں جامع معلومات ہیں کہ ان خفیہ میٹنگوں میں کون کون شریک تھا۔لیکن ای ڈی اور این آئی اے اس معاملے میں اندھے بن گئے ہیں۔

بھاسکر پرساد نے مزید بتایا کہ  اسیمانند،مایا کوڈنانی اور بابو بجرنگی سمیت کئی انتہا پسندوں نے سنگھ پریوار کی دہشت گردانہ کارروائیوں کے بارے میں کیمرے پر بات کی ہے۔ اسیمانند نے کیمرے کے سامنے قبول کیا ہے کہ اندریش کمار جو آر ایس ایس میں قومی کمیٹی کے رکن ہیں دہشت گردانہ سرگرمیوں میں براہ راست ملوث ہیں۔ تاہم، این آئی اے اس سلسلے میں کوئی چھاپہ ماری یا گرفتاری نہیں کرتی ہے۔یہی نہیں، یہ فتنہ انگیز فرقہ وارانہ تنظیمیں دہشت گردی کی بہت سی کارروائیوں میں ملوث ہیں، جن میں اہم ترین مندرجہ ذیل ہیں۔

1)۔سال 2006میں مالیگاؤں بم دھماکہ

2)۔ سال 2006میں جامع مسجد دھماکہ

3)۔ سال 2007میں حیدر آباد مکہ مسجد میں دھماکہ

4)۔ سال 2007اجمیر درگاہ بم دھماکہ۔

اگرچہ یہ تنظیمیں ان تمام دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں اور لوگ اس بات کی گواہی دینے کے لیے تیار ہیں کہ انھوں نے انھیں ایسا کرتے دیکھا ہے، لیکن ای ڈی اور این آئی اے کبھی بھی آر ایس ایس اور اس سے منسلک تنظیموں کی تحقیقات نہیں کریں گے۔جہاں تک ای ڈی (ED) کی بات آتی ہے، غیر رجسٹرڈ آر ایس ایس ملک بھر میں تربیتی کیمپ اور ورک شاپس جیسے پروگراموں کا اہتمام کرتی ہے۔ ای ڈی نے کبھی اس بات کی جانچ نہیں کی کہ اس کیلئے پیسہ کہاں سے آتا ہے؟ غیر رجسٹرڈ آر ایس ایس کا کوئی بینک اکاؤنٹ نہیں ہے۔ اگر پیسہ آتا ہے تو سب کچھ نقد میں آنا چاہیے۔ کیا یہ کالا دھن ہے؟ کس نے دیا؟ کچھ لوگوں کے شکایت کرنے کے باوجود ای ڈی تحقیقات کے لیے آگے نہیں آیا۔ کیا ہمیں یہ جاننے کے لیے مزید شواہد کی ضرورت ہے کہ ای ڈی ادارہ ان فاشسٹوں کی کٹھ پتلی ہے؟

بھاسکر پرساد کے مطابق پاپولرفرنٹ آف انڈیا نے کوویڈ کے دوران ملک بھر میں تقریباً 7,146 یتیم لاشوں کی تدفین اور آخری رسومات ادا کی۔  ضرورت مندوں کو 2897 آکسیجن سلنڈر فراہم کیے ۔ 2173 بیڈس اور 2635 ایمبولینس خدمات بھی فراہم کی گئیں۔ غریبوں کو سال بھر کے عام دنوں میں ان کی ضرورت اور ان کی استطاعت کے مطابق فوڈ کٹس اور لنچ پیکٹ فراہم کیے جاتے ہیں۔ زبردست بارش کے دوران مکان گرنے، یا مٹی کے تودے گرنے کی صورت میں، ایس ڈی پی آئی، اور پی ایف آئی ملبے تلے پھنسے لوگوں کو بچانے میں مسلسل سب سے آگے رہتے ہیں۔ لیکن E.D اور NIA فرقہ پرست حکومت کے کہنے پر حقیقی عسکریت  پسندوں کو بغیر کسی خلل کے کام کرنے کیلئے چھوڑ کر ایس ڈی پی آئی اور پی ایف آئی پر حملہ کررہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کی حب الوطنی کے بارے میں سبھی جانتے ہیں۔ یہ وہ تنظیم تھی جس نے قومی پرچم کی مخالفت کی تھی۔ آزادی کے 52 سال بعد بھی اس نے اپنے دفاتر اور تقریبات میں قومی پرچم نہیں لہرایا۔ قومی ترانے کی بھی مخالفت کی۔ یہ فرقہ پرست تنظیم اس وقت بھی آئین سے متفق نہیں ہے اور اب بھی وہ آئین کو  نہیں مانتی۔ ایسے لوگ ایس ڈی پی آئی اور پی ایف آئی کو حب الوطنی سکھانے کی کوشش کر رہے ہیں جو جمہوریت کو بچانے کے لیے جمہوری اور آئینی طور پر لڑ رہے ہیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ مودی کی زیرقیادت فاشسٹ حکومت آر ایس ایس جیسی حقیقی غدار تنظیموں کی کٹھ پتلیوں کی طرح کام کر رہی ہے، سماج میں فرقہ وارانہ منافرت کے بیج بونے اور اپنے سیاسی حریفوں کو دبانے کے لیے تفتیشی ایجنسیوں کا غلط استعمال کر رہی ہے۔ کانگریس سمیت تمام اپوزیشن پارٹیاں یہ جانتی ہیں۔ جیسا کہ انہیں بھی اسی انتقامی حملوں کا سامنا ہے۔ تاہم، ان پارٹیوں نے سیاسی دشمنی کی وجہ سے ایس ڈی پی آئی اور پی ایف آئی پر حملوں کے معاملے پر فاشسٹوں کا ساتھ دیا۔ ہم منصفانہ اور جمہوری طریقے سے آئین کے تقاضوں کے دفاع کے لیے اور اقلیتوں، استحصال زدہ اور مظلوموں پر جاری مظالم کے خلاف لگاتار لڑ رہے ہیں۔ ہمیں قومی امید ہے کہ ہندوستانی عوام اس کو سمجھیں گے اور آنے والے دنوں میں فاشسٹ فرقہ پرست بی جے پی اور جعلی سیکولر پارٹیوں کو سبق سکھائیں گے۔

ایس ڈی پی آئی کے ریاستی نائب صدر دیوانور پتنن جیا اور ریاستی سکریٹری آنند مٹھابل نےبھی اس موقع پر خطاب کیا ۔ پریس کانفرنس میں چتردرگا  ضلعی صدر بالاکائی سرینواس، بنگلور ضلعی نائب صدر رمیش کماراور بنگلور ضلعی سکریٹری ایڈوکیٹ وجین بھی موجود تھے۔

ایک نظر اس پر بھی

گرام پنچایتوں کیلئے آئین کی نقل تقسیم: وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی

وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی نے کہا کہ ریاست کے تمام گرام پنچایتوں کی لائبریریوں میں آئین کی نقل کے ساتھ گرام پنچایت 73اور 74ویں ترمیم، پنچایت راج قوانین کی نقول بھی روانہ کرکے وہاں بھی آئین پر مبنی انتظامیہ فراہم کرنا حکومت کا مقصد ہے۔

ووٹر ڈاٹا چوری معاملہ: 4 بی بی ایم پی افسروں سمیت اب تک11افراد گرفتار

ووٹرلسٹوں میں مبینہ ہیراپھیری،چھیڑ چھاڑ اور چیلومے نامی ادارے کے کارکنوں کو سرکاری عہدیداروں کا فرضی شناختی کارڈ دینے کے معاملے کی سختی سے جانچ کرتے ہوئے شہر کی پولیس نے اب تک اس کیس میں 11 افراد کو گرفتار کیا ہے -

بنگلورو: بی بی ایم پی بجٹ میں عوام کو شامل کرنے”مائی سٹی۔مائی بجٹ“ مہم

بروہت بنگلور مہا نگر پالیکے(بی بی ایم پی) بجٹ میں عوامی مشوروں کو شامل کرنے کے مقصد سے جنا گراہا نامی رضاکارانہ ادارے کی جانب سے ہر سال ”مائی سٹی۔مائی بجٹ“(اپنا شہر۔اپنا بجٹ) مہم چلائی جاتی ہے جس کے تحت بی بی ایم پی کے تمام وارڈز میں مہم کے دوران مقامی افراد سے مشورے حاصل کر کے ...

بیلگاوی کرناٹک میں رہے یامہاراشٹر میں کیافرق پڑنے والاہے: کمارسوامی

سابق وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمارسوامی نے بی جے پی کوشدیدتنقیدکانشانہ بناتے ہوئے کہاکہ یکساں سیول کوڈ نافذ کرنے جا رہے بی جے پی والو، کیا آپ یہ نہیں کہہ رہے کہ ہم سب ہندوستانی ہیں؟ اگر ایسا ہے تو بیلگام یہاں کرناٹک میں رہے یامہاراشٹر میں کیافرق پڑنے والاہے،ہم سب ہندوستانی ہیں؟

بیلگام: مدرسہ کی 4طالبات سیلفی لینےکے دوران ندی میں غرق؛ ایک کو بچالیا گیا

بیلگام سرحد سے متصل ، مہاراشٹرا کے کتواڑ فالس میں سیلفی لینے کے دوران مدرسہ میں زیر تعلیم  4طالبات توازن کھو کر غرق ہوگئیں  اور اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ واقعہ سنیچر کو پیش آیا۔ حادثے میں ایک طالبہ کو بچالیا گیا ہے، مگر اس کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔

پونے : پھر گرم ہوا کرناٹکا - مہاراشٹرا سرحدی تنازعہ - کرناٹکا کی بسوں پر پوتا گیا کالا رنگ - مہاراشٹرا کی حمایت میں لکھے گئے نعرے

کرناٹکا اور مہاراشٹرا کے بیچ جو سرحدی تنازعہ ہے اس پر کرناٹکا کے وزیر اعلیٰ بسوا راج بومئی نے جو بیان دیا تھا اس کے خلاف مہاراشٹرا کے کئی علاقوں میں مراٹھا تنظیموں نے احتجاجی مظاہرے کیے ۔ اسی کے ساتھ  کے ایس آر ٹی سی  کی بین الریاستی بسوں پر بعض جگہ کالا رنگ پوتا گیا اور اس پر ...