روس کے ساتھ کشیدگی جاری، یوکرائن میں مارشل لا نافذ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 28th November 2018, 12:38 PM | عالمی خبریں |

واشنگٹن 28؍نومبر (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا ) روس اور یوکرائن کے درمیان 2014سے جاری محاذ آرائی کے دوران یہ پہلا موقع ہے جب یوکرائن کی حکومت نے مارشل لا کے نفاذ جیسا سخت قدم اٹھایا ہے۔یوکرائن کی پارلیمان نے پڑوسی ملک روس کے ساتھ کشیدگی میں اضافے کے بعد روس اور بحیرہ اسود سے متصل ملک کے سرحدی علاقوں میں مارشل لا کے نفاذ کی منظوری دے دی ہے۔مارشل لا کی سفارش صدر پیترو پوروشینکو نے روس کی جانب سے اتوار کو یوکرائن کے تین بحری جہازوں پر حملے اور انہیں تحویل میں لینے کے بعد کی تھی۔

روس اور یوکرائن کے درمیان 2014 سے جاری محاذ آرائی کے دوران یہ پہلا موقع ہے جب یوکرائن کی حکومت نے مارشل لا کے نفاذ جیسا سخت قدم اٹھایا ہے۔پیر کو مارشل لا کے اقدام کی پارلیمان سے منظوری کے بعد صدر پوروشینکو نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس اقدام سے روس کی بڑھتی ہوئی جارحیت کے مقابلے میں یوکرائن کی دفاعی صلاحیت کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ مارشل لا ان علاقوں میں نافذ کیا جا رہا ہے جن پر روس کے حملے کا شدید خدشہ ہے۔تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ہنگامی صورتِ حال کے نفاذ کے باوجود یوکرائن اپنی تمام بین الاقوامی ذمہ داریاں انجام دیتا رہے گا۔پارلیمان کی جانب سے منظور کیا جانے والا مارشل لا 30 روز کے لیے نافذ کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ یوکرائن میں رواں سال دسمبر میں پارلیمانی جب کہ 31 مارچ 2019کو صدارتی انتخابات ہونا ہیں اور حزبِ اختلاف نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ صدر مارشل لا کی آڑ میں انتخابات ملتوی کرسکتے ہیں۔دونوں ملکوں کے درمیان تنازع کا آغاز اتوار کو اس وقت ہوا تھا جب بحیرہ? اسود میں گشت کرنے والے روسی سکیورٹی اہلکاروں نے یوکرائنی فوج کی دو جنگی کشتیوں اور ایک ٹگ بوٹ کو اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔روسی اہلکاروں نے کشتیوں کو تحویل میں لینے سے قبل ان پر فائرنگ بھی کی تھی جس سے تین یوکرائنی اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ کشتیوں پر سوار تمام 24 اہلکار روس کی تحویل میں ہیں جب کہ زخمی اہلکاروں کو روسی اسپتال میں طبی امداد دی جا رہی ہے۔یوکرائن کا کہنا ہے کہ اس کی کشتیاں خلیجِ کرچ کے راستے بحیرہ اسود سے بحیرہ ازوو جا رہی تھیں۔ خلیجِ کرچ ایک پتلی بحری گزرگاہ ہے جو روس اور یوکرائن کے علاقے کرائمیا کے درمیان واقع ہے جس پر روسی فوجوں نے 2014 میں قبضہ کرلیا تھا۔

روسی حکام کا کہنا ہے کہ یوکرائنی کشتیاں بغیر اجازت اس کی حدود میں داخل ہوئی تھیں جس پر پہلے انہیں وارننگ دی گئی جس کے بعد ان پر فائرنگ کی گئی۔امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں روس اور یوکرائن کے درمیان جاری تنازع "پسند نہیں" اور وہ اس معاملے پر یورپی رہنماو?ں سے بات کر رہے ہیں۔امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے یوکرائن کے صدر سے ٹیلی فون پر گفتگو بھی کی ہے جس میں انہوں نے یوکرائن کی سلامتی اور استحکام کے لیے امریکہ کے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی ۔ مغربی ملکوں کے دفاعی اتحاد 'نیٹو' کے سربراہ جینز اسٹالٹن برگ نے بھی یوکرائن کے صدر کو ٹیلی فون کرکے اتحاد کے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔یورپی یونین، برطانیہ، فرانس، پولینڈ اور کینیڈا نے روسی اقدام کو جارحیت قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے جب کہ جرمن حکومت نے دونوں فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے تنازع حل کریں۔

ایک نظر اس پر بھی

متحدہ عرب امارات نے وزیر اعظم مودی کو اعلی ترین شہری اعزاز سے سرفراز کیا ۔ دنیا بھر میں یو اے ای کے اقدام کی مذمت

متحدہ عرب امارات نے ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنے اعلی ترین شہری اعزاز سے سرفراز کردیاہے ۔ متحدہ عرب امارات نے چند دنوں قبل اعلان کیاتھا کہ وہ ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنا اعلی ترین سول ایوارڈ دیں گے ۔

عوام نے نئے بھارت کی تعمیر کے لئے مضبوط مینڈیٹ دیا ہے: وزیر اعظم مودی

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو کہا کہ 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں واضح مینڈیٹ صرف ایک حکومت کو نہیں، بلکہ ایک ایسے ’نیو انڈیا‘ کی تعمیر کے لئے دیا ہے جو کاروبار کے بہتر انتظامات کے ساتھ بہتر زندگی بسر پر مرتکز ہو۔

مسئلہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کی کوششیں: عمران خان

  جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی دفعہ 370 کو ختم کرکے ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے فیصلے کے بعد پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اس ضمن میں جمعہ کے روز عالمی برادری کو منتبہ کیا ہے کہ ہندوستان کی قیادت غالباً جموں و کشمیر میں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی ...

جی -7 اجلاس میں کشمیر مسئلہ ٹرمپ کے ایجنڈے میں شامل کانفرنس میں ٹرمپ کشمیر پر مودی کا موقف سننا چاہیں گے

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ جی -7 چوٹی کانفرنس کے دوران عالمی لیڈروں کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتوں میں مسئلہ کشمیر، یورپ کو روسی گیس کی فراہمی اور وینزویلا سمیت کئی اہم مسائل پر گفتگو کریں گے۔