گینگسٹر وکاس دوبے کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے والا شخص آیا سامنے، بیان کی پوری کہانی

Source: S.O. News Service | Published on 16th July 2020, 4:39 PM | ملکی خبریں |

کانپور،16؍جولائی (ایس او نیوز؍ایجنسی) ہسٹری شیٹر وکاس دوبے نے جس راہل تیواری کی پٹائی کی تھی وہ اچانک گھر واپس لوٹ آیا ہے۔ گھر لوٹے تیواری نے وکاس دوبے کے خوف اور دہشت کی کہانی بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہت گھبرایا ہوا تھا اسی لیے گھر سے بھاگ گیا تھا۔ اس نے اپنا حال بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس کے سسرال کی زمین کو لے کر وکاس دوبے سے نہیں بنتی تھی۔ 27 جون کو موٹر سائیکل پر وہ گھر لوٹ رہے تھے جب راستے میں وکاس کے آدمیوں نے موٹر سائیکل اور پیسے چھین لیے۔ اس کے بعد انھوں نے اپنی تحریری شکایت تھانہ میں دی۔ یکم جولائی کو ایس او ونے تیواری نے کہا کہ چلو معاملے کی تفتیش کر لیں۔ اس کے بعد وہ ان کے ساتھ جائے وقوع پر پہنچے۔ اس کے بعد ساتھ میں وہ بکرو بھی پہنچے۔ وہاں وکاس دوبے کے آدمیوں نے بہت مارا پیٹا اور ہمارے سینے پر رائفل لگا دی۔ ایس او صاحب کو بھی بہت دھمکایا، گالی گلوچ کی۔

راہل اپنی بات جاری رکھتے ہوئے یہ بھی بتاتا ہے کہ ایس او صاحب کو لگا کہ وکاس اِس کو مار دے گا تب انھوں نے اپنا جنیو نکالا اور کہا کہ بھیا پنڈتوں کی عزت رکھو۔ پھر وکاس دوبے نے گنگا جل نکالا اور ہمیں بھی دیا، ایس او صاحب کو بھی دیا۔ اس کے بعد انھوں نے قسم کھلائی، پھر وکاس دوبے کو بھی قسم کھلائی کہ راہل تیواری کو مارو گے نہیں۔ اس نے کہا کہ نہیں ماریں گے۔

راہل کا کہنا ہے کہ اس کے بعد وکاس دوبے نے کچھ پوچھ تاچھ کی اور پھر گاڑی دے دی۔ راہل نے بتایا کہ "اس کے بعد ہم دہشت میں آ گئے کہ ہمیں یہ کل مار دے گا۔ اس کے بعد ہم کپتان کے یہاں آئے۔ یہاں سے تھانے بھیجا گیا۔ تھانہ میں ایس او صاحب نے ایک درخواست لکھی اور اس کے بعد پولس کارروائی کرنے گئی۔ 2 جولائی کی رات میں دبش ہوئی جس میں پولس اہلکار مارے گئے۔"

راہل نے اپنی سسرالی زمین کے تعلق سے بتایا کہ وہاں زراعت کے معاملہ میں تنازعہ پیدا ہو گیا تھا۔ بوا کی نیت خراب ہے اور میرے سسر کی بہن کا لڑکا سنیل کمار کیش ادی بکرو میں بال گووند کے یہاں ہوئی تھی۔ بال گووند اور وکاس دوبے کی قربت تھی اور اسی لیے معاملہ بڑھ گیا تھا۔ بار بار کھیتی چھوڑنے کے لیے کہا جا رہا تھا اور وکاس کے جن لوگوں نے مجھے مارا تھا اس میں شیوم، بال گووند، اتل دوبے، سنیل کمار، امر دوبے شامل تھے۔ وکاس دوبے کی لوگوں میں بہت دہشت تھی۔ اپنے غائب ہونے کے تعلق سے راہل نے بتایا کہ واقعہ کے بعد وہ دہشت میں آ گیا تھا اور اپنا موبائل بند کر کے چھپ گیا تھا۔ انکاؤنٹر کے بعد وہ پولس کے پاس پہنچا اور پھر انھوں نے سیکورٹی گارڈ کا انتظام کر کے گاؤں بھیجا۔

واضح رہے کہ گینگسٹر وکاس دوبے کے خلاف کیس درج کرانے والا راہل تیواری گزشتہ 12 دنوں سے لاپتہ تھا۔ راہل تیواری نے ہی وکاس دوبے کے خلاف چوبے پور تھانہ میں 30 جون کو رپورٹ لکھائی تھی جس کے بعد کارروائی کرنے کے مقصد سے پولس ٹیم چوبے پور میں بکرو گاؤں پہنچی تھی۔ یہاں انکاؤنٹر کے دوران 8 پولس اہلکار شہید ہو گئے، اور پھر 9 جولائی کو فرار وکاس دوبے اجین میں پولس کی گرفت میں آیا۔ وکاس دوبے کو یو پی ایس ٹی ایف 10 جولائی کو اجین سے لے کر کانپور آ رہی تھی جب اس نے فرار ہونے کی کوشش کی، لیکن پولس انکاؤنٹر میں وہ ہلاک ہو گیا۔

ایک نظر اس پر بھی

کشمیر میں بی جے پی کارکنان کو ایک منصوبہ کے تحت نشانہ بنایا جارہا: الطاف ٹھاکر

 بی جے پی جموں و کشمیر یونٹ کے ترجمان الطاف ٹھاکر نے پارٹی کارکنوں پر ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر میں بی جے پی کے کارکنوں کو ایک منصوبہ بند سازش کے تحت نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

مرکزی حکومت کا ہتھیاروں کی درآمد پر پابندی کا فیصلہ ناقابل فہم: سوگت رائے

مرکزی حکومت کے ذریعہ 101ملٹری ہتھیاروں کی درآمدگی پر پابندی عاید کیے جانے پر ترنمول کانگریس نے سوال کھڑے کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قدم اٹھانے سے قبل ملک میں اسلحہ سازی کی صلاحیت میں اضافہ کرنے کی ضرورت تھی اور اس کے لئے روڈ میپ تیار کیا جانا چاہیے۔

کشمیر: ڈاکٹر شاہ فیصل نے اٹھایا حیرت انگیز قدم، پارٹی کے صدارتی عہدہ سے دیا استعفیٰ

 کشمیری قوم کے لئے نیلسن منڈیلا بننے کی تمنا رکھنے والے 36 سالہ سابق آئی اے ایس افسر ڈاکٹر شاہ فیصل نے گزشتہ برس مارچ میں 'ہوا بدلے گی' نعرے کے تحت لانچ کردہ اپنی جماعت 'جموں و کشمیر پیپلز موومنٹ' کے صدارتی عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کی جگہ پر پارٹی کے نائب صدر فیروز پیرزادہ کو ...